الیکشن کمیشن مضبوط ہو تو عدلیہ کو مداخلت کی ضرورت نہیں ہوگی

13 فروری 2018

سپریم کورٹ کا شفاف انتخابات کرانے کا اعلان‘ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی کارکردگی کی تعریف اور انہیںوزیراعظم دیکھنے کی خواہش
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف عدالت عظمیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوگئے جبکہ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے صاف پانی ازخودنوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور میں متعدد مقامات سے آئی جی پولیس پنجاب کو رکاوٹیںہٹانے کے احکامات دیئے ہیں۔ مزید برآں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں اقدامات اٹھا کر اسکی رپورٹ تین ہفتے میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔ ایک موقع پر فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خادم اعلیٰ عوام کی خدمت کررہے ہیں‘ نیک نیتی کے ساتھ کام کررہے ہیں تو اوپر بیٹھا اللہ انکی حفاظت کریگا۔ فاضل چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ حکم عدولی نہیں کر سکتے، آپ ایک لیڈر ہیں، میں جانتا ہوں آپ اگلے مورچوں پر لڑنے والے ہیں ایک آپ ہی تو ہیں جو عدالت کا احترام کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے شہباز شریف کی بطور وزیراعلیٰ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالت میں خوش آمدید کہتے ہیں اور آپکی آمد پر شکر گزار ہیں۔ میاں صاحب عوامی شخصیت بنیں اور عوام میں آئیں۔ ہم جانتے ہیں آپ ہماری بہت عزت کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میاں صاحب! آپ یہ بات اپنی پارٹی کو بھی سمجھائیں۔ یقین دلاتا ہوں ہم منصفانہ اور شفاف الیکشن کروائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اگلے وزیر اعظم آپ ہوں گے۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ میری نوکری کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نہیں آپکے ہی کچھ لوگ آپکی نوکری کے پیچھے پڑے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تین دفعہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ نے صاف، شفاف الیکشن کروانے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے مسائل میں سپریم کورٹ آپکی معاونت کریگی۔
پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کوئی مثالی اور روشن نہیں ہے۔ کچھ سیاست دانوں کے رویے بھی مایوس کن رہے ہیں۔ ہر الیکشن کے بعد دھاندلی دھاندلی کا شور وغوغا اٹھتا رہا ہے۔ جو کچھ زیادہ غلط اور بے جا بھی نہیں ہے کیونکہ معاملات الیکشن ٹربیونل میں گئے تو کئی جیتنے والوں کو ڈی سیٹ کرکے دوبارہ الیکشن کرائے گئے۔الیکشن کمیشن کے پاس عملے کی کمی اور اسکی تربیت کے فقدان جیسے کئی عذر ہونگے۔ مگر اس سے نتیجہ تبدیل ہوتا ہے تو حلقے کے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور دوبارہ الیکشن ہونے سے قومی خزانے کا ضیاع ہے۔ ایسے عذر قابل قبول نہیں ہوسکتے۔ کبھی گن پوائنٹ اور کبھی عملے کو ساتھ ملا کر دھاندلی کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ تحریک انصاف نے 2013ء کے الیکشن میں منظم دھاندلی کے الزامات لگائے مگر وہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے ثبوت پیش نہ کرسکے۔ 2013ء کے انتخابات کے نتائج پر بڑی اکثریت سے جیتنے والی مسلم لیگ (ن) سمیت تمام قابل ذکر پارٹیوں کو تحفظات تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے سندھ میں دھاندلی کی بات کی‘ پیپلزپارٹی کی قیادت آج تک 2013ء کے انتخابات کو آراوز کے انتخابات قرار دیتی ہے۔اے این پی اور جے یو آئی (ف) کا خیبرپی کے میں دھاندلی کا دعویٰ ہے۔
الیکشن کمیشن کی کارکردگی اس قدر قابل اعتماد ہونی چاہیے کہ کوئی پارٹی انتخابات کے نتائج پر انگلی نہ اٹھاسکے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب الیکشن کمیشن مضبوط ہو‘ اس کو مطلوبہ فنڈز فراہم کئے جائیں اور حکومت عملے کی فراہمی اور اسکی تربیت میں معاونت کرے۔ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں مضبوط شخصیت‘ اسکی دیانتداری اور متعلقہ قوانین میں مہارت کو ترجیحاً مدنظر رکھا جائے۔ الیکشن کے حوالے سے کسی کو تحفظات اور اعتراضات ہوں تو الیکشن کمیشن انہیں دور کرنے کی کوشش کرے مگر الزامات پر کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر الزامات لگائے جاتے ہیں تو الزام لگانے والا انہیں عدلیہ میں ثابت کرے۔ جھوٹے الزامات پر عدالت کارروائی کرے۔ اس طرح ہی بے جا الزامات کی روایت ختم ہو سکتی ہے۔
بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے تاہم الیکشن کمیشن کو انتخابات کیلئے دوسرے اداروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن کمیشن پر حکومتوں کے دبائو کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں۔ بروقت اور شفاف انتخابات کیلئے چیف الیکشن کمشنر کے منصب پر مضبوط شخصیت کا ہونا ضروری ہے۔ بلدیاتی انتخابات کتنے سال مؤخر ہوتے رہے؟ یہ اس دور کے الیکشن کمیشن کی کمزوری تھی۔ سپریم کورٹ سخت احکامات جاری نہ کرتی تو آج بھی شاید ملک بلدیاتی اداروں کے بغیر چل رہا ہوتا اور پھر مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے سخت رویے کے باعث ہی ممکن ہوسکی تھی۔ 2013ء کے انتخابات کو الیکشن کمیشن کے کئی غیرذمہ دارانہ اقدامات کے باعث بھی متنازعہ قرار دیا گیا۔ کئی بیلٹ پیپرز پر ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات نہیں تھے۔ الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کا یہ شرمناک بیان بھی سامنے آیا کہ سستی سیاہی خریدی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے شفاف الیکشن کرانے کے بیان کو مندرجہ بالا حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ کوئی غلط بھی نہیں۔ الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کے فول پروف انتظامات کرے تو سپریم کورٹ کی طرف سے مداخلت کا امکان اور ضرورت نہیں ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے موجودہ سیٹ اپ کی کارکردگی اور کام کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ آئندہ فری اینڈ فیئر الیکشن کرانے کی پوری صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہے۔
عدلیہ کے فیصلوں سے قبل مقدمات کی سماعت کے دوران فاضل جج صاحبان کے ریمارکس بھی بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ماہرین تو ریمارکس سے حتمی فیصلے تک اخذ کرلیتے ہیں۔ آج ملک میں ایک سیاسی انتشار کی سی کیفیت ہے‘ ہر صوبے کی حکومت کی کارکردگی میڈیا میں زیربحث ہے۔ تنقید برائے اصلاح کی یقیناً حوصلہ افزائی ہونی چاہیے مگر تنقید برائے تنقید کے تیروں سے جہاں رائے عامہ گمراہ ہوسکتی ہے‘ وہیں تنقید کی زد میں آنیوالوں کی حوصلہ شکنی ہوتی اور صلاحیتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ پنجاب حکومت پر مخالف حلقے الزامات کی بوچھاڑ کئے ہوئے ہیں۔ ان کو حکومت کی طرف سے بجا طور پر جواب دیا اور حقائق سے آگاہ کیا جاتا ہے مگر میں نہ مانوں والی صورتحال ہے۔ اس وقت اس حکومت پر کرپشن اور کمیشن کے بلاثبوت الزامات لگائے جارہے ہیں جس نے بڑے منصوبوں میں 682‘ ارب روپے کی بچت کی ہے۔
میاں شہبازشریف کی سربراہی میں پنجاب حکومت کے کام اور کارکردگی کا اعتراف سپریم کورٹ نے بھی کیا ہے۔انہوں نے عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے کی بھی اچھی مثال قائم کی ہے جس کی فاضل چیف جسٹس نے بھی ستائش کی ہے۔ اس سے یقیناً ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کا تاثر پختہ ہوگا جو بہرحال حکومت کے کریڈٹ میں ہی جائیگا۔ چیف جسٹس کی جانب سے شہبازشریف کی صلاحیتوں کا اعتراف درحقیقت پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں آنے پر اعتماد کا اظہار ہے۔