منگل ‘ 26؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 13؍ فروری 2018ء

13 فروری 2018
منگل ‘ 26؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 13؍ فروری 2018ء

لیگی دھڑوں کی قیادت کروں گا، تیسری قوت نیا پاکستان بنائے گی: مشرف
بیرون ملک بیٹھ کر ملک کی تقدیر بدلنے کا بھاشن دینا بہت آسان ہے مگر پرویز مشرف صاحب پہلے اپنے ملک تشریف تو لائیں، پھر اسکی تقدیر بدلنے کا نیا پاکستان بنانے کا سوچیں، یہاں تو بہت سے لوگ اور ادارے آپ کے والہانہ استقبال کیلئے بے چین ہیں اور
جیا بے قرار ہے آئی بہار ہے
آ جا مورے بالما تیرا انتظار ہے
کی لے پر آپ کو ہاتھوں ہاتھ لینے کی تیاری کر چکے ہیں۔ اب ذرا آپ بھی حوصلہ دکھائیں، آخر نیا پاکستان بنانا ہے۔ تو پہلے پرانے پاکستان میں قائم مقدمات کا ہی سامنا کرلیں۔ اپنا دامن صاف کر لیں۔ رہی بات مسلم لیگی دھڑوں کو متحد کرنے کی یا ان کی قیادت کرنے کی تو یہ خواب دیکھتے دیکھتے نجانے کتنی آنکھیں بے نور ہو گئیں۔ اب ان چراغوں میں روشنی نہیں ہے، یہاں ہر مسلم لیگ اپنے آپ کو ’’اصلی تے وڈی‘‘ مسلم لیگ سمجھتی ہے۔ خود آپ کی مسلم لیگ اور شیخ رشید کی مسلم لیگ کی کیا پوزیشن ہے‘ کیا حالت ہے آپ بخوبی جانتے ہیں۔ بھلا سوکھے تالاب میں بھی کوئی پانی بھرنے آتا ہے۔ ویسے بھی ابھی ن لیگ، ق لیگ اور ف لیگ میدان میں موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے آپکا چراغ کیسے جلے گا جس میں بتی ہے نہ تیل… پراسرار طاقتور کے پاس گرچہ یہ طاقت ہے کہ بجھا چراغ بھی جلا دیں مگر وہ بھی فی الحال بہت سے چراغوں کو لارا لپا دے رہے ہیں! ابھی شاید ہی آپ کی باری آئی ہو۔
٭…٭…٭…٭
عدالتی حکم پر نوگو ایریاز ختم، سڑکیں کھل گئی۔
سپریم کورٹ کے حکم پر انتظامیہ نے لاہور شہر میں جگہ جگہ قائم رکاوٹیں گرا کر ختم کر دی ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے نام پر بڑے بڑے افسران کے گھروں اور دفاتر کے باہر قائم یہ رکاوٹیں شہریوں کے لئے مصیبت بن گئی تھیں۔ اچھی خاصی سڑکیں سمٹ کر گلیاں نظر آتی تھیں۔ ان مقامات سے گزرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا تھا بے شک حفاظتی انتظامات اپنی جگہ مگر یہ عمارت کے اند ر اور باہرتک ہوں، سڑکوں پر قبضہ کرنا کونسی دانشمندی ہے۔ اب اگر اس کے ساتھ ہی انتظامیہ سڑکوں کو رواں دواں رکھنے کیلئے ان پر قائم ناجائز تجاوزات پر بھی اپنا غصہ نکالے تو سونے پر سہاگہ ہو گا۔ لاہور کی ہر سڑک ان دکانداروں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے جو اس پر دکان چلاتے ہیں۔ ہر دکاندار نے اپنے سامنے کی آدھی سڑک اور پوری فٹ پاتھ قبضہ میں لے لی ہے، اس پر سامان رکھا ہے یا اسے کرایہ پر دے رکھا ہے۔ اب اگر اعلیٰ حکام اور افسران کے گھروں اور دفاتر کے آگے سے غیرقانونی طور پر کھڑی رکاوٹیں گرائی جا سکتی ہیں، ختم جا سکتی ہیں تو ان دکانداروں کی کیا حیثیت ہے، اب انتظامیہ فوری طور پر ان کیخلاف بھی ایکشن لے کر کارروائی شروع کرے کیونکہ لوہا گرم ہے،یا پھر عدالت عظمیٰ ہی ازخود اس بارے میں بھی ایسا ہی سخت حکم جاری کرے۔ عوام دعائیں دیں گے۔ اگر یہ کام پورے پنجاب یا پورے ملک میں ہو جائے تو کیا ہی بات ہے!ہر طرف بلّے بلّے ہو جائے گی۔
عمران خان کی چودھری نثار اور عمران اسماعیل کی فاروق ستار کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت
آج کل ہماری سیاست میں جو اختلافات کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے اس میں ہر طرف سے بھانت بھانت کی بولیاں سننے میں آ رہی ہیں۔ کئی آوازیں نحیف و نزار سی ہیں اور کئی بلند آہنگ۔ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم میں جو کشمکش کہہ لیں یا چپقلش چل رہی ہے اس کی صدائے بازگشت دور دور تک سنی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کیلئے پی ٹی آئی نے دونوں جماعتوں کے تالاب میں کانٹا ڈال دیا ہے جس پر اپنی جماعت میں شمولیت کا چارہ بھی لگا دیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کون سے تالاب کی مچھلی اس چارے پر منہ مارتی ہے اور پی ٹی آئی کے کانٹے میں پھنستی ہے… مگر معاملہ بہت مشکل لگتا ہے کیونکہ فاروق ستار اور چودھری نثار اپنی اپنی جماعتوں کے رہنما ہی نہیں پالنے پوسنے والے بھی ہیں۔ انہوں نے اپنا خون جگر دے کر ان کی آبیاری کی ہے۔ اب عمران خان صاحب نے چودھری نثار کو تحریک انصاف میں آنے کی دعوت دی ہے جو بڑی اہم بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف میں ابھی تک دوسری جماعتوں سے بھاگے ہوئے، نکالے ہوئے اور نکلے ہوئے لوگوں کیلئے بہت جگہ خالی ہے۔ مخالفین پہلے ہی کہتے پھرتے ہیں کہ تحریک انصاف اصل میں دوسری جماعتوں کی دونمبری باقیات کا ہی مجموعہ ہے جو خان صاحب کے ارد گرد جمع ہے۔ جو بھلا کسی ایک نمبر سیاستدان کا وجودکیسے برداشت کر سکیںگے۔اب اس پی ٹی آئی میں چودھری نثار اور فاروق ستار جیسے درجہ اول کے رہنما کہاں فٹ آ سکتے ہیں…!
٭…٭…٭…٭
ابوظہبی میں بھارتی وزیراعظم نے پہلے مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا
اب اسکی مبارک ابوظہبی کے حکمرانوں کو دی جائے یا مودی کو یا پھر دونوں کو کہ سرزمین عرب پر پھر بتکدے آباد ہونے لگے ہیں، اب یہ مندر کوئی عام مندر تو ہو گا نہیں، بھارتی وزیراعظم نے اسکا افتتاح کیا ہے تو یہ مندر بھی اسکے شایان شان ہو گا۔ ابوظہبی کے حکمرانوں کی اقلیت پروری کی اب دنیا داد دے گی مگر کیا ابوظہبی کے یہ بھولے حکمران بھارت میں آباد مسلمانوں کی حالت زار سے ناواقف ہیں یا پھر یہ بھارت کے مسلمانوں کو امت مسلمہ کا حصہ نہیں سمجھتے۔ اگر یہ حکمران مندر کی تعمیر کی اجازت بابری مسجد کی تعمیر سے مشروط کرتے اور مودی شہید بابری مسجد کی تعمیر کا افتتاح ابوظہبی کے حکمران سے کراتا تو شاید مسلمانوں کا دکھ کم ہو جاتا، انہیں ابوظہبی میں مندر کے افتتاح کا اتنا دکھ نہ ہوتا مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ عرب اب عرب نہیں ’’ارب‘‘ ہو گئے ہیں، اربوں کھربوں میں کھیلنے والے یہ حکمران امت کے درد سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ ورنہ ایک مندر کی اجازت کے بدلے وہ بھارت میں تمام مسمار شدہ مساجد دوبارہ تعمیر کرا سکتے تھے۔ صرف ایک بار کہنے کی دیر تھی مودی میں جرأت انکار نہیں تھی۔ لیکن وہی… ؎
جو تھا ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
یہ حکمران سود و زیاںسے عاری ہیں۔