محبت کے سرخ رنگ اور پیمرا کی روایات

13 فروری 2018

انسان ہی کیا، تاریخ ، عقائد اور مذہبی کتابیں ہمیشہ طاقت اور مفادات کی بھینٹ چڑھتی رہیںاور یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور شاید ابد تک رہے گا۔ ’ویلنٹائن ڈے‘ بھی ایسی ’چاٹ‘ہے جسے ہر کوئی اپنااپنا مصالحہ چھڑک کر بیچ رہا ہے۔ اربوں ڈالر نفع کمانے والوں کے نزدیک یہ محبت بڑھانے کا ’تہوار‘ہے۔ محرابوں کے امین اسے دین کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ نوجوانوں کیلئے محبت کادن اور مرادوں بھری شام ہے۔ آئیے مشرق سے نکل کر مغرب چلتے ہیں کہ یہ ویلنٹائن ڈے آخر ہے کیا؟ ویلنٹائن تھا کون؟ کس جرم میں گردن سے محروم ہوا؟ اس کی کھوپڑی سنہرے ڈبے میں آج بھی کیوں دھری ہے؟ یہ ڈرامہ کہاں سے شروع ہوا اور آج کس ڈرامے کی شکل میں ڈھل چکا ہے؟
ویلنٹائن ڈے رومن تاریخ میں15 فروری کو منائے جانے والے ’لوپرکیلیا‘ نامی تہوار سے شروع ہوا جو زرخیزی کیلئے مشہور زراعت کے دیوتا ’فانس‘ سے منسوب تھا۔ تہوار کے دوران لڑکے ایک ڈبے میں لڑکیوں کے نام ڈالتے اور پارٹنر تلاش کرتے تھے۔پھر اکثر جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے۔ یہ مسیحی مذہب اختیار کرنے کے اوائل دور کا تصور بتایا جاتا ہے۔ پانچویں صدی کے اختتام پر یہ روایت ختم کردی گئی اور پوپ گیلیشیس نے 14 فروری کو ’سائیں ویلنٹائن‘ یا سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کردیا۔
روایت ہے کہ یہ کہانی انگریزی ادب کے باوا آدم ’جیفری چوسر‘ کی نظم سے شروع ہوئی۔ یہ پہلا شاعر تھا جو برطانوی کلیسا ویسٹ منسٹر ایبے میں شعراکے گوشہ میں دفن ہے۔ چوسر شاعر ہی نہیں، ایک فلسفی، ماہرفلکیات، بیوروکریٹ اور سفارتکار کی شہرت بھی رکھتا تھا۔ ’کینٹربری ٹیلز‘ یا لکڑی کے تختوں پر خوبصورتی سے نقش کی گئیں 24 حکایات یا نظمیں اس کا مشہور ترین کام ماناگیا جو اس نے 1387ء سے 1400ء کے درمیان تخلیق کیں۔ کچھ نثر نگاری کے علاوہ زیادہ تر شعری کام ہے۔ لندن میں کینٹربری کلیسا کے سینٹ تھامس بیکٹ کی درگاہ پر حاضری پر آنیوالے عازمین اس کا کلام پڑھا کرتے تھے۔ برطانوی عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق چوسر کی 1375ء میں نظم سے قبل ویلنٹائن ڈے کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ چوسر نظم میں بتاتا ہے کہ 14 فروری کوسینٹ ویلنٹائن کے پاس گندگی میں لتھڑے پرندے اپنے ہمدم کی تلاش میں آتے۔ اس منظر کی تصویر کشی میں سینٹ ویلنٹائن روایتی کلیسائی لباس پہنے کھڑا ہے اور اسکے اردگرد مختلف پرندوں کے جھنڈ لگے ہیں۔ رومن کیتھولک چرچ نے سرکاری طورپر ویلنٹائن کو حقیقی شخص تسلیم کیا ہے جس کا انتقال 270 عیسوی کے قریب بتایاجاتا ہے۔ رومی شہنشاہ کلاڈیئیس گوتھیکس دوم نے ایک میسحی شادی شدہ جوڑے کی مدد کرنے پر ویلنٹائن کی گردن اڑا دی تھی۔
جنگوں اور عوام پر مظالم کے لئے مشہور شہنشاہ کلاڈیئیس نے شادی پر پابندی لگادی تھی کیونکہ اسے فوج کیلئے مناسب تعداد میں سپاہیوں کی بھرتی کا سنگین مسئلہ درپیش تھا۔ اس کا خیال تھا کہ رومن مرد اپنے خاندان اور پیاروں کی محبت چھوڑنے پر آمادہ نہیں اور یہ کہ تنہا مرد بہتر سپاہی ثابت ہوتا ہے۔ اس نے روم میں شادیوں پر پابندی لگادی۔ ویلنٹائن شہنشاہ کے خیال سے متفق نہیں تھا۔ وہ جنگ پر جانے والے سپاہیوں کی خفیہ شادیاں کرانے لگا۔ شہنشاہ کے علم میں آنے پر اسے جیل پھینک دیا گیا اور پھر موت کی سزا سنائی گئی۔ خیال ہے کہ ویلنٹائن روم کے نواح میں ’ترنی‘ کا ’بشپ‘ یا راہب تھا۔ سینٹ ویلنٹائن کے کردار کے بارے میں اس قدر ابہام ہے کہ چرچ نے 1969 میں اس کی پزیرائی کا سرکاری اہتمام بند کردیا گوکہ ’سینٹ‘ کا سرکاری لقب اب بھی برقرار ہے۔لاطینی زبان کے لفظ ’ویلنٹئیس‘ کا معنی قیمتی، طاقتور یا مضبوط ہے۔ یہ نام دوسری سے آٹھویں صدی تک ایک مشہور نام رہا۔ مسیحی تاریخ کے کئی شہداء کا یہی نام آیا ہے۔ اس نام سے ایک پوپ بھی گزرا ہے۔ ویلنٹائن جذام، مرگی کے مریضوں کا علاج بھی کرتا تھا۔ سینٹ ویلنٹائن کا ’سر‘ روم میں پھولوں سے سجاکررکھاگیا ہے۔
سرخ گلابوں کی اس دن سے مناسبت کا حال بھی دلچسپ ہے۔ کہتے ہیں کہ یورپ میں گلاب کے عشق ومحبت کی علامت کہلانے کا آغاز 1700ء میں ہوا جب سویڈن کے شاہ چارلس دوم فارسی شاعرانہ فن ’پھولوں کی زبان‘ یورپ لائے۔ گلاب کو محبت کی رومن دیوی سے بھی جوڑا جاتا تھا۔
اٹھارویں صدی میں یہ تہوار کاروباریوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اسی صدی میں برطانیہ میں محبت کے اظہار کے طورپر مختلف اشیاء کے تبادلے اور تحائف دینے کا چلن عام ہوگیا۔ 1913ئ￿ میں ہال مارک کارڈز اس دن کی مناسبت سے پہلی بار بڑی تعداد میں شائع ہوئے اور انہیں ویلنٹائن دے پر تقسیم کیاگیا۔ آج اس دن پر ایک ارب سے زیادہ کارڈز بھجوائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں اس دن کو جس بیہودگی اور لچرپن کی شکل دی گئی اس نے روایت پسند معاشرے اور اسلام سے محبت رکھنے والوں کو بے چین کرکے رکھ دیا۔ پھر مغرب زدہ ذہنوں نے اسے قومی تہوار کی شکل دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زورلگانا شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں ویلنٹائن ڈے اس انداز میں مسلط ہوا کہ اس کیخلاف بات کرنیوالے کو گویا کسی جنگلی تصورکیاجانے لگا۔ میڈیاکی دکانوں نے ایسے تشہیر کی گویا ہم غاروں میں رہتے ہیں اور اس ’سنگ میل‘ کو عبور نہ کرکے ہم مہذب دنیا سے کٹ جائینگے۔
اسلام آباد کے رہائشی عبدالوحید نے اس صورتحال پر ہائیکورٹ کا درازہ کھٹکھٹایا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاق کے علاوہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پیمرا، پی ٹی اے، چیف کمشنر اسلام آباد، داخلہ، مذہبی امور، قانون اور کیڈ کی وزارتوں، ہائیر ایجوکیشن کمشن کو فریق مقدمہ بنایا۔ فریاد کی کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس کا دستور اسلامی ہے جس میں ریاست کی یہ ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ وہ شہریوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائے گی۔ ویلنٹائن ڈے قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہماری ثقافت، تہذیب واقدار کا جنازہ نکالا جارہا ہے، ریاستی ادارے خاموش تماشائی ہیں۔ اس دن پر پابندی لگانے، ریاست کو اس امر کو یقینی بنانے اور میڈیا کو اس دن کو فروغ دینے پر پابندی لگانے کی استدعا کی گئی۔ سکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں میں اس طرح کی سرگرمیوں روکنے کی درخواست بھی اس میں شامل تھی۔ بہادر اور نیک نام جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 13فروری2017 کو ان معروضات کو پذ یرائی دیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے پیمرا کو حکم دیا کہ چینلز کو اس معاملے میں پابند کیاجائے اور یقینی بنایاجائے کہ ویلنٹائن ڈے کے فروغ کے پروگرام نشر نہ ہوں۔
مشرقی تہذیب و روایات اور اپنی ثقافت کی بات کرنے والوں کو گالی دینا فیشن بن چکا ہے۔ اس کا قصہ بھی سن لیں جو بطور چیئرمین پیمرا سابق سیکریٹری اطلاعات اور ’دیسی مزاج‘ کے کھرے افسر چوہدری رشید کے ساتھ پیش آیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب مجھے جنوری2013ء میں چیئرمین پیمرا کا چارج ملا اور میں نے اپنے ساتھیوں سے پیمرا کی ذمہ داریوں اور میڈیا کے پروگرامز کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تو معلوم ہوا کہ شکایت آنے تک پیمراخاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ چنانچہ پیمرا کا تمام چینلز کو خط بھجوایا کہ چند ہفتوں بعد آنے والے ویلنٹائن ڈے کے بارے میں پروگرام تشکیل دیتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پاکستانی تشخص اور کلچر مجروح نہ ہو۔ چند دن بعد اس وقت کے وزیر اطلاعات جناب قمر زمان کائرہ نے مجھے فون پر پوچھا کہ کیا پیمرا ویلنٹائن ڈے پر ٹی وی چینلز کو بند کر رہا ہے؟ عرض کی ایسی کوئی بات نہیں۔ استفسا ر پر انھوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑے ’میڈیا ٹائیکون‘ نے صدر آصف علی زرداری صاحب کو فون کرکے کہا کہ ’’آپ نے کس مولوی کو چیئرمین پیمرا لگا دیا ہے جو ویلنٹاین ڈے پر چینل بند کر رہا ہے۔‘‘ میں نے کائرہ صاحب کو وہ خط پڑھ کر سنایا جو پیمرا نے لکھا تھا۔ وہ مطمئن ہو گئے۔ اْس سال پیمرا کو صرف چند شکائتیں موصول ہوئیں جبکہ اس سے پہلے ویلنٹائن ڈے کے پروگراموں کے بارے میں شکایات کے انبار لگ جاتے تھے۔
ویلنٹائن ڈے تقریبات کے سلسلے میں پیمرا نے میڈیا کو مطلع کیا ہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ کا فیصلہ نافذ العمل ہے۔ تہذیبی اقدار، روایات اور ثقافت کے منافی کوئی پروگرام نشر یا شائع نہ کیاجائے۔ یہ الگ بحث ہے کہ کیا ہماری روایات کے بر عکس ہے اور کیا نہیں۔ دراصل آزاد میڈیا کے ساتھ ساتھ کچھ قباحتیں بھی پروان چڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ بنا کاروبار میڈیا زندہ نہیں رہ سکتا مگر صرف کاروبار کی خاطر عام پاکستانیوں اور غریب لوگوں کے احساس محرومی میں مزید شدت اور اشتعال پیدا کرنا کسی صورت درست رویہ نہیں ہو سکتا۔
جس خاندان کو دو وقت کی روٹی نہ مل سکتی ہو اس کے بچوں کو گلدستے تحائف اور موج و مستی پر اکسا نا اور ایسے بزنس کو آزادی صحافت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوسکتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم اس تناظر میں بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ جب حکومتی ادارے اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو آزاد اور خود مختار عدلیہ کو عام شہری کے حقوق کے تحفظ کے لے میدان میں آنا پڑتا ہے۔اس ساری کہانی میں جو اصل مقصد تھا وہ کہیں فراموش ہوگیا۔ ویلنٹائن کی کہانی سچ مان بھی لی جائے تو وہ شادی کے مقدس بندھن کے لحاظ سے تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اسے معاشرے کی بنیادیں ہلانے والے شیطانی عمل کی آبیاری کے لئے استعمال کرنے کی منطق کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری اپنی روایات اور تاریخ بنجر نہیں۔ ہمارے پاس مغرب سے کہیں شاندار اور اعلی ترین تہوار، روایات اور اقدار ہیں۔ کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا۔ دولت کمانے کی خاطر عزت بیچ دینا کہاں کی روایت، کون سا اخلاق اور کون سی دانائی ہے۔