سزا معطلی کیس:نیب کو بتانا ہوگاجوائنٹ فیملی سسٹم میںبچے کس کے زیر کفالت تھے،جسٹس اطہر من اللہ

Sep 12, 2018 | 15:05

ویب ڈیسک

 جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں بچے کس کے زیر کفالت تھے، بار ثبوت نیب پر آتا ہے، جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے پرنیب کو بتانا ہوگا کہ بچے کس کے زیر کفالت تھے ،یہ سوال اہم ہے کہ بچے دادا کے زیر کفالت تھے یا والد کے، ٹرائل کورٹ نے تو مفروضے پر یہ بات کہی کہ عمومی طور پر بچے والد کے زیر کفالت ہوتے ہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ معلوم ذرائع کا ہی معلوم نہ ہو تو تضادات معلوم نہیں کیا جاسکتا اور جب معلوم ذرائع نہیں بتائے جائیں گے توعدم مطابقت کا نہیں معلوم ہوسکتا اور یہ بہت بنیادی نکتہ ہے،1993 میں بچوں کا دادا زندہ تھا، فرد جرم سزا سے یکسر مختلف ہے جس میں شریف خاندان کو مالک ظاہر کیا گیا اور بعد میں صرف نواز شریف کو مالک ظاہر کر دیا گیا، اگر جائیداد کی قیمت نہیں لکھی گئی تو نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے، معلوم ذرائع آمدن اور فلیٹس کی قیمت بتائے بغیر کہا گیا اثاثے آمدن سے زائد ہیں، گواہوں کے بیانات موجود ہیں لیکن کسی نے اصل قیمت سے متعلق نہیں بتایا۔ بدھ کو جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ احتساب عدالت سے سزا یافتہ تینوں افراد کی درخواستوں پر سماعت کی ۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے مجموعی طور پر 11 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر)صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا بیان نہیں دیکھا جس میں ایون فیلڈ کی ملکیت بتائی گئی ہو جس پر جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا 'اگر ملکیت نہ بتائی گئی ہو تو پھر نتائج کیا ہونگے؟،خواجہ حارث نے کہا کہ معلوم ذرائع کا ہی معلوم نہ ہو تو تضادات معلوم نہیں کیا جاسکتا اور جب معلوم ذرائع نہیں بتائے جائیں گے توعدم مطابقت کا نہیں معلوم ہوسکتا اور یہ بہت بنیادی نکتہ ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کا موقف یہ ہے کہ میاں شریف نے جائیداد تقسیم کی ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا موقف ہے کہ ان کا جائیدادوں اور سرمایہ کاری سے کوئی تعلق نہیں، عدالت کے سامنے موقف یہ ہے کہ ان کا ان جائیدادواں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا کہ عدالتی فیصلے میں بے نامی دار کی بات آئی ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا فیصلے میں صرف زیر کفالت کا ذکر ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا کبھی زیر کفالت کو سزا ہوئی ہے، نیب کا موقف تھا کہ بچے زیر کفالت تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ بچے نواز شریف کے زیر کفالت نہیں تھے اور ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا 1993 میں بچے کس کے زیر کفالت تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا اس وقت بچوں کا دادا زندہ تھا، فاضل جج نے استفسار کیا میاں شریف کی حیات میں یہ کاروبار مشترکہ خاندانی تھا جس پر وکیل نے کہا شیئر ہولڈنگ سب کی تھی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کیا فرد جرم میں بے نامی کا ذکر ہے' خواجہ حارث نے جواب دیا، فرد جرم سزا سے یکسر مختلف ہے جس میں شریف خاندان کو مالک ظاہر کیا گیا اور بعد میں صرف نواز شریف کو مالک ظاہر کر دیا گیا۔جسٹس میاں گل حسن نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ نے پہلے کہا تھا کہ واجد ضیا نے بتایا انہوں نے جائیداد کی اصل قیمت کہیں نہیں دیکھی، اگر کچھ دستاویزات میں قیمت نہیں لکھی گئی تو اس کا اثر کیا پڑے گا۔خواجہ حارث نے کہا اگر جائیداد کی قیمت نہیں لکھی گئی تو نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے، معلوم ذرائع آمدن اور فلیٹس کی قیمت بتائے بغیر کہا گیا اثاثے آمدن سے زائد ہیں، گواہوں کے بیانات موجود ہیں لیکن کسی نے اصل قیمت سے متعلق نہیں بتایا۔خواجہ حارث نے دلائل میں کہا واجد ضیا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بچوں کا زیر کفالت ہونے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں بچے کس کے زیر کفالت تھے، بار ثبوت نیب پر آتا ہے، جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے پرنیب کو بتانا ہوگا کہ بچے کس کے زیر کفالت تھے اور یہ سوال اہم ہے کہ بچے دادا کے زیر کفالت تھے یا والد کے، ٹرائل کورٹ نے تو مفروضے پر یہ بات کہی کہ عمومی طور پر بچے والد کے زیر کفالت ہوتے ہیں۔

مزیدخبریں