مفاہمت کی فضاء

Sep 12, 2018

بیشتر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سول ملٹری تعلقات ہمیشہ عوامی دلچسپی کا اہم موضوع رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ہماری قومی تاریخ کے سات عشروں کے دوران نصف کے قریب وطن عزیز میں غیر جمہوری حکومتوں کی موجودگی اور عملداری رہی ہے اس لیے تھوڑی سی بھی آہٹ محسوس ہو تو تجزیہ نگار اسے نادیدہ قوتوں کی نقل و حرکت کا عنوان دے دیتے ہیں پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ جمہوریت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک جمہوری قوتوں اور جمہوری اداروں کو آزادی عمل حاصل نہ ہویہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں حکومت کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ کی سوچ اور سمت کو ملک بھر میں فیصلہ کن اہمیت دی اور تسلیم کی جاتی ہے ۔ زیر نظرموضوع کی اہمیت کے پیش نظر جمہوری حکومتوں کے بر سر اقتدار آتے ہی میڈیا پر تبصرے اور تجزیے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ پانچ سال پر محیط جمہوری حکومتوںکے ادوار میںایک تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے الیکٹرونک میڈیا نے صورتحال کی وسعت اور گہرائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے بھلا ہو پاکستانی میڈیا کا ‘جسے تحقیق اور فنون لطیفہ کی بجائے‘ سیاسی حاشیہ آرائی کا زیادہ چسکا لگا ہوا ہے کیونکہ اس سے ان کی ریٹنگ منسلک ہے یہی وجہ ہے کہ چوبیس چوبیس گھنٹے اسی طرح کے موضوعات زیر بحث رہتے ہیں اور ایسی ایسی سمتیں اور جہتیں نکالی جاتی ہیں جن کا حقائق سے دورپرے کاواسطہ ہی نہیں ہوتا ۔

پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی آ ج ہر طرف پھر یہ موضوع وسیع پیمانے پر زیر بحث ہے بیشتر تجزیہ نگار جی ایچ کیو میں نئے وزیر اعظم عمران خان کو دی گئی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں جہاں انہوں نے ماضی کی روایات کے بر عکس ایک ایسی میٹنگ کی صدارت کی جس میں پاکستان کی پوری عسکری قیادت موجود تھی اسی طرح ـ"ہمیں پیار ہے پاکستان سے"کے نئے عنوان سے منائے جانے والے یوم ِدفاع و شہداء کے موقع پر 6ستمبر کو جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب میں بھی وزیر اعظم ہی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے جہاں کی گئی ان کی فی البدیہہ تقرید کو نا صرف ملک بھر میں عوامی اور سیاسی حلقوں میں سراہا گیا بلکہ تقریب میں موجود سابقہ اور موجودہ عسکری اکابرین نے بھی اسے توجہ سے سنا اور بعض مواقع پر تالیوں کی صورت میں اس کی تحسین بھی کی جس پر ہفتہ عشرہ گزر جانے کے باوجود اب بھی تجزیے جاری ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی‘ جمہوری عمل میں معمول کی ایک سرگرمی سمجھی جاتی ہے اس لیے وہاں کا میڈیا عوامی دلچسپی کے دیگر موضوعات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے تا ہم پاکستان جیسے ایک مخصوص تاریخ رکھنے والے ملک میں ایک جمہوری حکومت کی مدت کی تکمیل کو بھی غیر معمولی سمجھا اور تسلیم کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے آج بیشتر تجزیہ نگار اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک لمبے عرصے بعد سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین مفاہمت کی فضاء پائی جاتی ہے جس کے مثبت اثرات داخلی اور خارجہ محاذ پر بھی مرتب ہونگے ظاہر ہے جمہوریت کے بارے میں حساسیت کے شکار پاکستانیوں کے لیے یہ ایک مثبت اور بڑی خبر ہے ۔

پچھلے دنوں چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بھاشا اور دیامر ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈونیشن کے حوالے سے جو مہم چلائی جارہی تھی اس میںحصہ لینے کے لیے عمران خان کی طرف سے بڑی سادہ لیکن پر اثر اپیل نے ملکی سطح پر خوشگوار اثرات مرتب کر نے کے علاوہ بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو بھی ملکی خدمت کے لیے ایک جذبہ نو اور حوصلہ عطا کیا ہے یہ ایک اہم پیش رفت ہے یہی وجہ ہے کہ محب وطن حلقے ماضی کے مقابلے میں آج کافی سے زیادہ پر امید ہیں اور انہیں یقین ہو چلا ہے کہ سیاسی قیادت ،اسٹیبلیشمنٹ اور انصاف کے ادارے ہم قدم ہو کر چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں ناصرف جمہوریت مستحکم ومضبوط ہو سکے گی بلکہ ہمارا ملک ترقی کے حوالے سے اپنے دیرینہ خوابوں کی تعبیر بھی پاسکے گا ۔

مزیدخبریں