دودھ کی نہریں بہاتی شہد کی بوتلیں

Sep 12, 2018

ماضی میں بھی شہد کی بوتلیں شہرت پاتی رہی ہیں اور اس شہرت کی وجہ اس شہد کا خاص مشروب کے لیبل والی بوتل میں ہونا ہے- شہد کے ذخیرے کے لئے ان بوتلو ں کا انتخاب ہی کیوں ضروری ہے – کیا ان میں شہد کا ہونا اس کو زیادہ دیر محفوظ رکھتا ہے یا اس میں شہد کی مٹھاس بڑھ جاتی ہے یا یہ بوتل اس کی تاثیر میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے کیونکہ یہ نقطہ تو اہلِ قلم کے لئے صدیوں سے ہی دلچسپی کا عنوان رہا ہے اور بقول احمد فرا ز نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں- گو کہ خون کے سمپل اور شہد کے لیبارٹری میں گئے نمونے شاید ابھی تک نہ واپس آنے کے لئے گئے ہیں ورنہ اتنی تاخیر تو نہیں ہوتی - مگر ایک بات خوش آئند ہے کہ منی ٹریل ملے نہ ملے اس بوتل ٹریل کے لئے تفتیشی ٹیم بنادی گئی ہے- جب اس شہد کی اتنی پذیرائی دیکھتا ہوں تو عوام کے لئے بہائی وہ دودھ کی نہریں دھونڈنے لگ جا تا ہوں کہ وہ بھی کہیں آس پاس ہی ہوں گی کہ جن کا وعدہ کرتے ہمارے راہنما جوئے شہد ہی کھود آئے ہیں اور اس شہد کے مالک پھر وہی غریب عوام کے دو نمائندے ٹھہرائے گئے ہیں جو تحویل میں لے لئے گئے تاکہ مزید معلومات مل سکیں اور شہد کے ساتھ ساتھ اس شِیر کے منبع کو بھی تلاش کیا جاسکے جو کہ ایک دن اسے اپنے ہی وسائل سے نصیب ہوگا- وگرنہ تو ہمارا ناطقہ ہر طرف سے بند کیا جارہا ہے – 5 ستمبر کو امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پمپیو اور دفاعی سیکریٹری تشریف لائے ہماری نئی حکومت اور وزیرِ اعظم کو اپنے معیار پہ تولتے بھارت سدھارے – ایک اور تبدیلی افغانستان میں آرمی چیف آسٹن ملر کی ہے - جنرل مِلر افغانستان میں تیرہ ہزار سے زائدفوج کی کمان کے ساتھ ساتھ افغان فوج کو تربیت دیں گے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پہ لانے کے لئے حکمتِ عملی بھی ترتیب دیں گے- نجانے کس نے یہ بات امریکی اداروں اور اب تک کے صدور کے دماغ میں بٹھا دی ہے کہ پاکستان اگر چاہے تو امریکہ یہ جنگ ابھی بھی جیت سکتا ہے- اس کے لئے ڈو مور کے تقاضے اور زور و جبر کی چھڑی ہے کہ برستی رہتی ہے – ایسی ہی ایک کوشش اب بھی کی گئی ہے کہ پاکستان کے کولیشن فنڈ کا 30 کروڑ ڈالر روک دیا گیا ہے – یہ کوئی امداد نہیں یہ تو وہ رقم ہے جو افغانستان میں جاری جنگ میں امریکہ اپنے اتحادی اور اس کے ہونے والے نقصان کے ازالے میں دے رہا تھا – امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان اس وقت معیشت کے بد ترین موڑ پہ کھڑا ہے اور ملکی وزیرِ خزانہ جناب اسد عمر کے مطابق پاکستان کو اپنی ضروریات سے نمٹنے کے لئے نو ا رب ڈالرز کی فی الفور ضرورت ہے اس لئے لگایا گیا یہ امریکی تازیانہ اپنے دورے سے پہلے اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان پہ ایک دفعہ پھر وہی وار ہوگا اور اس کی وہی شرائط اور قیمت ہوگی جو پاکستان اب تک کشت و خون کی صورت بھرتا آیا ہے – پاکستان میں گر دجھاڑتے یہ بھارت جانے والے افسران خطے کے بدلتے حالات میں دورے کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ حالات واشنگٹن کے لئے بھی تشویش کا باعث ہیں – ترکی میں طیب اردگان کا روس کی جانب جھکاؤ اور دونوں کی مل کر تہران سے ملاقاتیں خطے میں طاقت کے توازن میں روس کے پلڑے کو بھاری کر رہی ہیں – بھارت بلاک بدلتا سوچ رہا ہے کہ اس کی امریکہ نواز پالیسیاں اور جناب نریندر مودی کی صدر ٹرمپ کو ڈالی گئی جھپیاں کہیں اس کے خطے میں صاحب بننے کی امیدوں پہ پانی تو نہیں پھیر رہی ہیں- افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ ملے ممالک روس ، چین، ایران اور پاکستان اگر ایک ہو گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر امریکہ کی سرپرستی میں دوبارہ بھارتی دال ہی نہ گلے- ترکی کو پہنچائی گئی معاشی زِک اور جواب میں اردگان کا امریکہ کو دیا گیا بھیڑیے کا خطاب – روس پہ طالبان کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات پینٹا گون کے اضطراب کو ظاہر کر رہے ہیں جس میں وہ مبتلا ہے – ترکی کہیں پاکستان کی امداد میں کھڑا نہ ہو جائے اس لئے مضبوط ہوتا ترکی اس کے مفاد میں نہیں ہے – حالیہ ترکی کا ایڈوانس روسی دفاعی نظام کا خریدا جانا نیٹو پارٹنرز کے لئے بہت ہی پریشان کر دینے والا عمل ہے – گزشتہ برس ولادی میر پیوٹن نے کہا تھا کہ اے ایس 400 ایس دفاعی نظام ترکی کے کہنے پہ اسے فورا" فراہم کر دیا جائے گا اور نیٹو کا خیال ہے کہ اس نظام کی فراہمی ان کے جنگی طیاروں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ اور چیلنج ہے – ترکی نیٹو میں ا مریکہ کا اتحادی ہے لیکن انقرہ میں امریکی پادری جاسوس کا پکڑا جانا جس پہ ترکی میں دہشت گردی کے الزامات ہیں دونوں ممالک کو دور بہت دور کر رہے ہیں – امریکی صدر ٹرمپ کی ترکی مصنوعات پہ لگائے گئے ٹیکس ترکی کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اب اپنے دوست بدلتا ہوا مشکل کے دوست ڈھونڈے- ترکی میں فوجی بغاوت میں ولادی میر پیوٹن کے سلوک اور کردار نے طیب اردگان کو خطے میں اپنی مصنوعات کی ترسیل کے لئے نئی مارکیٹ کے حصول اور نئے گٹھ جوڑ کے مواقع تو ضرور فراہم کیئے ہیں جن پہ ترکی سنجیدگی سے سوچتا آگے بڑھ رہا ہے – ایرانی وزیر خارجہ محمود ظریف کی پاکستان آمد – قطر کی ترکی کے معاشی مسائل میں دل کھول کے مدد اور سعودی عرب کی قطر کے گرد ساٹھ کلومیٹر لمبی جھیل کھود کے اسے ایک جزیرہ بنا دینے کی منصوبہ بندی اس طرف ایک اشارہ ہے کہ خطے میں دوستیاں بدل رہی ہیں اور پاکستان کو بھی بدلنا ہے – لو اور دو کی پالیسی پہ بنتی خارجہ حکمتِ عملی ہی اس کی راہیں تلاشے گی – برآمدات میں اضافے کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش اور کارخانوں کو توانائی کی فراہمی- کسان کو سہولیات سے لہلہاتے کھیت ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہیں – درآمدات میں ہر طرح کی کمی ہی ہمیں اپنے پاؤں پہ کھڑا کرے گی اور اگر ولائیتی شہد کی درآمد اور استعمال کو قابو میں لایا جا سکے تو ہمارے قائدین شہد کے سرور سے باہر زیادہ تندہی سے کام کر سکیں گے – جس سے ملک میں دودھ کی نہریں بہانے میں مدد ملے گی-

مزیدخبریں