امریکہ چین تنازعہ اور پاکستان

Sep 12, 2018

پاکستان کی موجودہ صورتحال، الیکشن کے نتائج اور معاشی بحران کا تجزیہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ امریکہ اور چین کے تنازعے کی بنیادوں کو سمجھا جائے۔ حالیہ عرصے میں اس تنازعہ میں شدت آئی ہے اور دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں تیزی سے تصادم کی جانب بڑھ رہی ہیں۔یہ تنازعہ عالمی سیاست و معیشت میں کچھ دہائیوں سے پنپ رہا تھا لیکن ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے سے اس میں شدت آئی ہے۔ٹرمپ نے اپنی الیکشن کیمپین میں چین پر سخت تنقید کی تھی اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں بیروزگاری ختم کرنے کے لیے وہ تمام روزگار واپس لائے گا جو صنعتوں کے چین منتقل ہونے کے باعث ختم ہو گئے ہیں۔گوکہ یہ دعویٰ حقائق سے منافی تھا لیکن اس کے باوجود ٹرمپ ابھی تک یہ سمجھتا ہے کہ چین سے امریکہ آنے والی درآمدات پر پابندیاں لگا کر وہ کمپنیوں کو مجبور کرے گا کہ وہ امریکہ میں سرمایہ کاری کریں۔ٹرمپ نے اس دعوے پر گزشتہ عرصے میں تیزی سے عمل کیا ہے اور چین کے ساتھ امریکہ کا سالانہ پانچ سو ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔اس کو ایک تجارتی جنگ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جواب میں چین بھی امریکی درآمدات پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ابھی تک دونوں ملکوں نے پچاس ارب ڈالر کی درآمدات پر پچیس فیصد ڈیوٹی لگا کر اس تجارتی جنگ کا بگل بجایا ہے لیکن ٹرمپ کے بیانات سے واضح نظر آتا ہے کہ وہ اس حجم کو پانچ سو ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور تمام چینی درآمدات پر ڈیوٹی بڑھا دے گا۔اس تجارتی جنگ کے دنیا بھر کی معیشتوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور آنے والے عرصے میں اس مخاصمت کا دائرہ کار وسیع ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرمپ اور یورپی ممالک چین کی جدید ٹیکنالوجی کی جانب تیز ترین پیش رفت سے بھی پریشان ہیں اور چینی کمپنیوں پر ایسی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے باعث وہ جدید ٹیکنالوجی حاصل نہ کر سکیں۔ موبائل فون کی جدید ٹیکنالوجی سے لے کر دیگر الیکٹرانکس اور جدید مشینری کی ٹیکنالوجی درحقیقت وہ بنیادیں ہیں جن کے باعث امریکہ سمیت دیگرمغربی ممالک عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر اپنی گرفت جمائے ہوئے ہیں۔اسی طرح آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی ایک متوازی طاقت کے ابھرنے سے خوفزدہ ہیں اور اس کو ابھرنے سے پہلے ہی روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ دنیا بھر میں ان سود خور اداروں کی سامراجی گرفت قائم رہے۔دوسری جانب چین بھی دنیا بھر میں تیزی سے اپنے پنجے گاڑتا چلا جا رہا ہے اور اس کی پہلی ترجیح پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک ہیں۔ ان ممالک کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے دے کر چین اپنے دائرہ اثر میں لانے کی کوشش کر رہا ہے اور انہیں زائد پیداوار کی کھپت کے لیے منڈی کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے خام مال اور سٹرٹیجک اثاثوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔اس سلسلے میں ایک نئے منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جسے BRIیا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان میں جاری سی پیک منصوبہ بھی BRIکا ہی حصہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ایک کلیدی حصہ بن چکا ہے۔اس منصوبے کے تحت چین پاکستان میں ساٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور گوادر کی بندر گاہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ تمام صورتحال امریکی سامراج کے لیے انتہائی پریشان کن ہے جو اس خطے میں ایک لمبے عرصے سے حکمرانی کر رہا ہے اور پاکستا ن کی ریاست کو اپنی گماشتگی کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔ افغانستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے تاراج کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی سامراج نے پاکستانی ریاست کے تعاون سے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھا ہے۔ اس عمل میں سعودی ریاست بھی بڑے پیمانے پر معاونت کرتی رہی ہے۔ لیکن اب طاقتوں کا توازن تبدیل ہو رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر موجود ورلڈ آرڈر تیزی سے بکھر رہا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کسی بھی سماج پر انتہائی بڑے پیمانے پر مرتب ہوتے ہیں اور آج پاکستان اسی دیو ہیکل تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے۔ حالیہ انتخابات ماضی سے اس لیے مختلف تھے کیونکہ اس وقت مقامی اسٹیبلشمنٹ نہ صرف مختلف حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی اور یہ حصے آپس میں شدید تصادم میں تھے بلکہ امریکہ اور چین جیسی طاقتیں بھی ایک دوسرے پر فوقیت لیجانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایسے میں واضح طور پر نظر آیا کہ امریکی سامراج نے نواز شریف کو اپنا کٹھ پتلی بنا کر میدا ن میں اتارا جبکہ پاکستانی ریاست کے امریکہ مخالف مقامی دھڑے نے عمران خان کی کامیابی کے لیے پورا زور لگا دیا۔ امریکی دھڑے کی مخالفت میں چین کی جانب جھکاؤ نا گزیر تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ چین نے نہ صرف گزشتہ مالی سال کے دوران بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی امداد دی ہے، جو سی پیک کے علاوہ ہے بلکہ مزید امداد دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دو ارب ڈالر مزید دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔عمران خان کی الیکشن کامیابی پر تقریر کے دوران چین کا متعدد بار ذکر اور چین کی جانب سے فوری طور پر امداد کا اعلان واضح کرتا ہے کہ کس کس پارٹی پر کون کون پیسہ لگا رہا ہے۔ لیکن اس وقت معاشی بحران کی شدت کا تقاضا ہے کہ آئی ایم ایف سے بھی رابطہ بحال کیا جائے جس کے لیے بارہ ارب ڈالر کے قرضے کے لیے درخواست دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں آئی ایم ایف کو تنبیہ کی ہے کہ ہم پاکستان کو دئیے جانے والے قرضے کے عمل کوغور سے دیکھ رہے ہیں۔اس نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کا یہ قرضہ درحقیقت چین کے قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف کیا جائے گا جس کی ہم بالکل بھی اجازت نہیں دے سکتے۔اس نے کہا کہ امریکی عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اس طرح نہیں اڑایا جا سکتا۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ امریکی حکام پاکستان کے انتخابی نتائج سے خوش نہیں ہیں اور چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات پر خفگی کا اظہار کر رہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد عالمی میڈیا پر ایک بحث کا آغاز ہو چکا ہے جس میں نہ صرف امریکہ اور چین کے تنازعے کے پھیلاؤ پر بحث ہو رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف اور چین کے تعلقات کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔عالمی سرمایہ داری کے بہت سے سنجیدہ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی جانب سے دئیے جانے والے قرضے ان ممالک میں معاشی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں جس کے باعث ان ممالک کی معیشتیں دیوالیہ پن کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ان کے خیال میں ان بے ہنگم پالیسیوں کے نتیجے میں وہ معیشتیں مکمل طور پر ڈوب سکتی ہیں جن کے باعث آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے قرضے بھی ڈوب جائیں گے اور انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ لیکن درحقیقت یہ ماہرین چین کے بڑھتے ہوئے کردار سے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور اس سے منسلک مالیاتی اداروں کی سامراجی گرفت کمزور نہ ہونے پائے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں سے بھی آج تک کسی ملک کی معیشت میں استحکام نہیں آیا اور نہ ہی اس نے ترقی کی ہے۔ بلکہ ان قرضوں نے ان ممالک کے کروڑوں عوام کو ان مالیاتی زنجیروں میں جکڑا ہواہے اور ان کی ہڈیوں کا گودا بھی حکمران اور سود خور مالیاتی ادارے نکال کر کھا چکے ہیں۔مزید برآں بعض مخالفین کا خیال ہے کہ چین سے آنے والی سرمایہ کاری کو قابل اطمینان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بقول اْن کے گوادر کی بندرگاہ کا رستہ ہموار کرنے کے لیے پہلے ہی بلوچستان میں کئی فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں اور نئے آپریشنوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے روزگار میں اضافہ ہونے کی بجائے پہلے سے موجود صنعتیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں اور چین کی سستی مصنوعات کا سیلاب باقی ماندہ صنعتوں کو بھی بہاتا چلا جا رہا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سودی قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے جو عوام کا خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا۔ایسے میں عالمی سرمایہ داری کے کچھ تجزیہ کار مشورہ دے رہے ہیں کہ چین کے ساتھ تصادم کی بجائے اسے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ڈیل کے لیے مذاکرات کیے جائیں تاکہ کوئی درمیانہ رستہ نکل سکے۔ لیکن اس رستے کی خواہش تو موجود ہے لیکن عملی طور پر اس کی بنیادیں موجود نہیں اور عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے زوال اور مالیاتی بحران کے باعث امریکہ اور چین کی طاقتوں کے تصادم میں شدت آئے گی اور یہ بھڑکتا چلا جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

مزیدخبریں