یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ، جارحیت کا 10 گنا طاقت سے جواب دینگے: ایرا ن

Sep 12, 2018

تہرا ن (آن لائن، اے پی پی )ایران کی جوہری توانائی کے ادارے کے سر براہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ رہبر انقلاب سپریم لیڈآیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر یورینیم افزودگی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لیے سینٹری فیوجزکی تیاری کے نئے مرکز پلیٹ فارم پرکام شروع کردیا گیا ہے۔اخبار’ایران‘ کو دیے گئے انٹرویو میں علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ تہران میں جوہری پلانٹ کو دوبارہ فعال کیاجا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جوہری پلانٹ دو سال پہلے والی حالت میں نہیں بلکہ اس سے بہتر اور مکمل شکل میں بنایا جا رہا ہے۔ اس جوہری تنصیب کی تیاری کے لیے ایک یورپی ملک سے معاہدہ کیا گیا ہے۔ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے عندیہ دیا کہ تہران جوہری اسلحہ کے تجربات پر پابندی کے پروٹوکول سے باہر نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا جوہری سمجھوتہ ختم ہوتا ہے تو ہمارے لیے اضافی پروٹوکول پرعمل درآمدکرنا ممکن نہیں رہے گا، تاہم اس حوالے سے فیصلہ مجھے نہیں بلکہ جوہری معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کردہ کمیٹی اورریاست کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ حال ہی میں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے سینٹری فیوجز کی تیاری کے جدید مرکز کے قیام کے لیے پلیٹ فارم کوجلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ایران کے ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران ملک کے خلاف کسی بھی معاندانہ کارروائی کا جواب دے گا۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شامخانی نے کہا حملہ کر کے نکل جانے کا زمانہ دنیا میں ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ ان کے ملک کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام کا تہران کی طرف سے 10 گنا طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

مزیدخبریں