نوید عالم نے پی ایچ ایف کے جنرل ہائوس کو بلانے کا مطالبہ کردیا

Sep 12, 2018

لاہور(سپورٹس رپورٹر+نمائندہ سپورٹس ) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اینڈ گیم ڈیولپمنٹ اولمپیئن نوید عالم قومی کھیل کو بچانے کے لیے ایک مرتبہ پھر علم بلند کرتے ہوئے پی ایچ ایف کا جنرل ہاوس کو فوری بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایشین گیمز میں پاکستان کا ٹوکیو اولمپک کے لیے کوالیفائی کرنے کا آسان موقع وا دیا گیا لیکن کسی کے سر پر جوں تک نہ رینگی۔ نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نوید عالم کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ہاکی تاریخ کے بد د دور سے گذر رہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان جو پی ایچ ایف کے پیٹرن انچیف بھی ہیں ان سمیت وزارت بین الصوبائی رابطہ سے درخواست ہے کہ فوری طور پر ہاوس کا اجلاس بلایا جائے تاکہ اصل ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ فیڈر کی ناقص منصوبہ بندی کی بنا پر چھ ملکی ہاکی ٹورنامنٹ کی میزبانی بھی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے اگر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے چھ ملکی ٹورنامنٹ کی میزبانی سونپی تھی لیکن حکام کی ناقص منصوبہ بکو پلاننگ کی وجہ سے ٹورنامنٹ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

؎ایشین گیمز میں کھلاڑی کمبل چراتے ہوئے پکڑے جا رہے ہیں، قومی کھلاڑیوں کی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی ورنہ ایسا واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ نوید عالم کا کہنا تھا کہ موجود وقت میں چار افراد کے واٹس اپ پر ہاکی چل رہی ہے جبکہ میدان میں ہاکی کا نام و نشان تک نہیں ہے جس کی وجہ سے آج قومی کھیل کو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی نب سے قومی کھیل کے لیے تین سالوں میں 80 کروڑ روپے کے فنڈز دیئے گئے لیکن وہ کھیل پر خرچ نہیں ہوئے اگر ہوئے ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اولمپیئن نوید عالم کا کہنا تھا کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان خود ایک سپورٹس مین رہ چکے ہیں ان کی سپورٹس پالیسی کو قومی کھیل پر بھی لاگو کرنا ہوگا جس کے مطابق صرف اس شخص کی جگہ ہوگی جو کھیل کے لیے کچھ کر سکتا ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہاکی کو بند کمرے سے میدانوں میں لے جایا جائے۔ تین سال تک ڈائریکٹر ڈومیسٹک اینڈ ڈیویلپمنٹ رہا ایک روپیہ بھی فنڈز نہیں دیئے گئے جبکہ من پسند افراد کو نوازنے کے لیے غیر ملکی دورں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان ہاکی کو سودن میں اپور لانے کا پلان موجود ہے ہاوس کو اعتماد میں لیکر اس پر عمل کرتے ہوئے قومی کھیل کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ جو فیصلہ بھی ہوگا ہاوس میں ہوگا ذمہ داران کو ہاوس میں جواب دینا ہوگا۔

مزیدخبریں