بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں میں 53 ہزار آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف

Sep 12, 2018

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں بجلی کی 10بڑی تقسیم کار کمپنیوں میں 53ہزار آسامیاں خالی ہو نے کا انکشاف کیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی نے ملازمتوں میں صوبوںکا کوٹہ مختص کر نے کی ہدایت کر دی ، کمیٹی نے تمام ڈسکوز کے بورڈ آف ممبر ز کی تعداد اور تعیناتی کے طریقہ کار کے حوالے سے وزارت توانائی سے اگلے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔تفصیلات کے مطابق منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین فدا محمد کی صدارت میں ہوا ، اجلاس میں سیکرٹری توانائی کی جانب سے ملک بھر کے تمام ڈسکوز کے ملازمین کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ 10بڑی کمپنیوں میں 53ہزار آسامیاں خالی ہیں ، جبکہ 96ہزار790ملازمین اس وقت ریگولر کام کر رہے ہیں ، تین ہزار ملازمین ورک چارٹ پر کام کر رہے ہیں،یہ ادارے نجکاری کمیشن کی لسٹ پرہیں ، سینیٹر مولا بخش چانڈیوں نے استفسار کیا کہ ملازمتوں پر سے پابندی اٹھنے کے بعد کتنے لوگ رکھے گئے ہیں ، سی ای او آئیسکو نے کمیٹی کو بتایا کہ دسمبر میں پابندی اٹھنے کے بعد 1277لوگ رکھے گئے ہیں ، جن کی جنوری میں ریکروٹمنٹ کی گئی ہے ، گریڈ 17سے اوپر کے ملازمین کے لئے کوٹہ مختص ہو تا ہے جبکہ گریڈ 17سے نیچے والے گریڈ کے لئے کوٹہ مختص نہیں ہوتا ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پورے ملک کے لئے ملازمتوں میں کوٹہ ہونا چاہئے ، اجلاس میں کے الیکٹرک کے ساتھ 650واٹ بجلی فراہمی کے معاہدے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ، سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی نے کمیٹی کو بتایا کہ معاہدے کی میعاد 2015میں ختم ہو گئی تھی ،لیکن ہم نے درخواست کی کہ معاہدے میں توسیع کی جائے ، اس معاہدے کے حوالے سے وزارت سے بات چیت چل رہی ہے ، چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے وزارت توانائی کے ساتھ ایک میٹنگ کر لیں ، سیکرٹری توانائی نے کہا کہ واجبات کا ایک مسئلہ ہے ، کمیٹی اجلاس کے دوران سینیٹر مشاہداللہ نے سی ای او کے الیکٹرک سے استفسار کیا کہ بارش کے بعد فیڈر ٹرپ کر جاتے ہیں ، جس سے سارا کراچی تنگ ہے ، تاروں کی کوالٹی ٹھیک ہے یا نہیں ِ؟، سی ای او کے الیکٹرک نے کہا کہ 25ہزار میں سے 5ہزار ٹرانسفارمر ز کے ساتھ اے بی سی تار لگا دی گئی ہے ، 1760فیڈرز میں سے 1200فیڈرز لو ڈشیڈنگ سے مستثنی ہیں ،سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ 80فیصد کام ابھی بھی رہتا ہے، مجھے یہاں بیٹھ کر کراچی کا زیادہ پتہ ہے ،دو سال میں اگر ساڑھے چار ہزار پر تار یں لگائی گئیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ باقی 15سال میں لگائی جائیں گی، اجلاس میں تمام ڈسکوز کی جانب سے ٹرنسفارمرز کی مرمت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

مزیدخبریں