دشمن قوتوں کے تمام عزائم ناکام بنائیں گے‘ شہریار آفریدی

Sep 12, 2018

اسلام آباد( وقائع نگار خصوصی) وزیر مملکت برا ئے دا خلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے عوام کے درمیان نفرتیں پھیلانے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ملکی دفاع اور سلامتی کے اداروں کے خلاف دشمن ایجنسیوں کا پراپیگنڈا ناکام بنایا جائے گا۔ ہمارے ملک میں مختلف ممالک کی 54 خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ملک کو غیر مستحکم کررہے ہیں۔یہ ایجنٹ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑاتے ہیں۔ ایجنٹوں کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پنجاب مسلط ہیہمارے دشمن بلوچستان کا کارڈ استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے پاکستان کے معاملات کو سمجھنا ہے۔ قومی سلامتی پر مسلسل سمجھوتہ ہوتا رہا ہے،وزیراعظم کے ایک سو دن کے پروگرام کے حوالے سے بھرپور کام جاری ہے، ملک میں حقیقی تبدیلی لائی جائے گی۔منگل کوذرائع ابلاغ'' کے نمائندوں سے غیر رسمی تعارفی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ''سو دن'' کے پنتیس نکات ہیں، جن پر کام کیا جارہا ہے، ان میں گورننس، نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہے، جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں ان پر بھرپور کام ہورہا ہے۔ بلوچستان میں آرمی چیف کے ساتھ مل کر تمام مکاتب فکر کے علما سے ملاقات کروں گا۔ علما کے ساتھ مختلف یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کریں گے۔مدارس اور امام بارگاہوں اور دیگر تعلیمی انسٹی ٹیوشنز میں جائیں گے۔۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروائیں گے۔ 6ستمبر کو ملٹری سول ریلیشن کی اعلی مثال سامنے آئی۔ بلوچستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں، اس کے عوام کو احساس دیا جائے گا کہ وہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے باقی ہیں۔افغان مہاجرین اپنے لباس اور حلیہ کی وجہ سے مقامی آبادی میں اس طرح سے گھل مل گئے ہیں کہ ان کا پتا لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ریاست کی زمین پر قبضہ اور انکروچمنٹ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ہنڈی حوالہ کا کاروبار ہماری نسلوں کا قتل ہے۔ ہم نے تمام ناراض لوگوں کو گلے لگانا ہے، ہم نے ہوش سے قوم بنانی ہے، میڈیا کے درمیان ہم کوئی تفریق نہیں رکھیں گے ،میڈیا سے امید ہے کہ کوئی ایسی خبر نہ دیں جس سے کسی پیارے کو کوئی نقصان نہ ہوجائے۔ تفتان میں کسٹم ہاؤس بنائیں گے، وہاں پر طبعی سہولیات فراہم کرینگے۔ تفتان میں قائم پاکستان ہاؤس کو فعال کرینگے اور زائرین کی حفاظت اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔میرے تین دن بلوچستان میں گزرے ہیں، جنھوں نے مجھے ووٹ دئیے کوہاٹ کے لوگوں نے ان کا بے حد مشکور ہوں۔ ابھی تک اپنے حلقے میں نہیں جاسکا ہوں۔ وفاق کی وزارت داخلہ سب کے ساتھ برابری کی سطح پر ڈیل کرے گی۔ ایران جانے والے زائرین کے مسائل جاننے کے لئے تفتان گیا تو وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ آج تک اس علاقے میں کوئی وزیر داخلہ نہیں گیا۔ چھبیس سو گیارہ کلومیٹر کی ہماری سرحد افغانستان سے ملتی ہے، نوسو نو کلومیٹر کی سرحد ایران سے ملتی ہے۔ ہم سب سے پہلے ہم بلوچستان پر توجہ دینگے، اسکے مسائل کے حل نکالیں گے۔ بہت جلد مکران اور گواردر کے دورے کرنے ہیں، ہم نے بلوچی سرداروں کے پاس بھی جانا ہے۔ وزیرمملکت برائے داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں موجود ملک دشمن فرقہ واریت کو اچھالتے ہیں، ایران میں اہلسنت اور بریلوی مسلک کے علما جاتے ہیں جہاں وہ مقرر کے طور پر جاتے ہیں مگر آج تک ہمیں کسی نے نہیں بتایا۔ خامنائی کی جانب سے یہ فتوی جاری ہوا تھا کہ صحابہ کرام کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ بلوچستان کوئٹہ میں اہلسنت اور اہل تشیع اکٹھے نماز پڑھتے ہیں مگر قوم کو نہیں بتایا جاتا ہے۔ قوم کو مسلسل اضطراب میں رکھا گیا ہے۔ اپنے حالیہ دورے کے دوران کوئٹہ میں عام آدمی کی طرح پھرنا چاہا تو مجھے سیکیورٹی خدشات کے نام پربہت ڈرایا گیا، میں نے کہا کہ اگر موت جہاں آنی ہے وہی آئے گی۔ نادرا کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ''نادرا پورٹیل'' بنایا جائے گا، وہ اور ان کے سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری خود اآدھا گھنٹہ روزانہ نادرا کے خلاف شکایات دیکھا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی کام جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتے۔ ایف آئی اے کو وسائل فراہم کئے جائیں گے، اس کی صلاحیت بہتر بنائی جائے گی، ایف آئی اے کے دس تھانے ہیں، اس کی بیشتر عمارتیں کرائے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آفس میں میڈیا ونگ قائم کیا جارہا ہے، وزارتوں کے میڈیا دفاتر بھی قائم کئے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی کام کیا جائے گا۔

مزیدخبریں