ترقی کی بنیاد تعلیم کا فروغ ہے

Sep 12, 2018

طیبہ ضیاءچیمہ ....(نیویارک)

ملائیشیا ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مختصر مدت میں عدیم المثال ترقی کی۔ آج ملائیشیا کو دنیا کی تیز رفتار ی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت تصور کیا جارہا ہے۔ ملائیشیا ایشیاء میں بہترین اقتصادی ریکارڈ رکھتا ہے جس کی جی ڈی پی کی شرح اوسطاً 6.5 فیصد سالانہ ہے اور یہ شرح گزشتہ پچاس برسوں سے قائم ہے۔ آج ملائیشیا جنوبی ایشیا کی تیسری اور دنیا کی 29ویں پوزیشن کے ساتھ ایک بڑی انڈسٹریل مارکیٹ اکانومی کے طورپر دنیا کے منظر نامے پر ظاہر ہوا ہے۔ ملائیشیا دنیا کے اْن 19 ممالک میں بھی شامل ہے جنہیں پْرامن تصور کیا جاتا ہے۔

ملائیشیا کی معاشی ترقی اور مضبوط و مستحکم نظام کے پیچھے ایک بڑی وجہ معیار تعلیم اور بہتر شرح خواندگی ہے۔ ملائیشیا کی قیادت نے اس حقیقت کا ادراک ایک عشرہ پہلے کرلیا تھا کہ دنیا میں معاشی ترقی کے لیے سب سے بنیادی چیز تعلیم ہے۔ تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی و خوشحالی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اس نے ملائیشیا میں تعلیمی اداروں کو اپنے ایجنڈے اور معیشت کا اہم عنصر بنایا اور ملک میں تعلیم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرلیا۔ تعلیم کا معیار بین الاقوامی تعلیمی معیار کے برابر لانے کے لیے انقلابی اقدامات کئے اور آج ملائیشیا کی یونیورسٹیاں دنیا کی معیاری جامعات میں سے ہیں۔ ملائیشیا کی 28 ملین آبادی کے لئے 110 پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ یونیسکو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملائیشیا تعلیم کیلئے ترجیحی فہرست میں 11ویں نمبر پر ہے۔ ملائیشیا ایجوکیشن ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر آنا چاہتا ہے۔ اس وقت ملائیشیا میں زیر تعلیم فارن سٹوڈنٹس میں ایران سرفہرست ہے۔ ملائیشیا کی سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں 14 ہزار ایرانی سٹوڈنٹس ہیں جن میں سے 8 ہزار پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ملائیشیا کی اس بے مثال ترقی اور اقتصادی خوشحالی نے دنیا بھر کی حکومتوں کو حیرت زدہ کردیا۔صحافی برادر خالد قیوم نے ملائشیا وزٹ سے متعلق لکھا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی اور حیرت بھی کہ ملائیشیا کی سرکاری، پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں زیر تعلیم فارن سٹوڈنٹس کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چْکی ہے اور ملائیشین حکومت نے 2020ء تک فارن سٹوڈنٹس دو لاکھ تک بڑھانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اس سے تعلیم کا شعبہ ملائیشیا میں معیشت کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ بدنصیبی سے پاکستان کی پستی اور تنزلی کا سبب جہالت ہے لیکن پاکستان کی کسی حکومت نے تعلیم کو فوقیت نہیں دی۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی جاتی رہی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا تعلیمی نظام دنیا بھر میں پرائمری سطح پر دی جانے والی تعلیم نئے تقاضوں کے معیار سے 50سال جبکہ سیکنڈری سطح پر دی جانے والی تعلیم 60 سال پیچھے ہے۔ پاکستان میں 56لاکھ ایسے بچے ہیں جو سکول جاتے ہی نہیں۔ ایک کروڑ 4 لاکھ ایسے بچے ہیں جو سیکنڈری سکولوں سے آگے نہیں جاتے۔ حکومت اپنے اخراجات کا محض 11.3فیصد تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ پوری دنیا میں لڑکیاں تعلیم میں لڑکوں سے آگے ہیں۔ پاکستان میں بھی تعلیمی میدان میں لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ محنتی قرار دی جاتی ہیں لیکن پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا رحجان سست روی کا شکار ہے۔ اس کا سبب عورت کے لئے غیر محفوظ معاشرہ، مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ غریب باپ بیٹی کو شہر بھیجنے اور اس کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا پاکستان کا ٹیلنٹ گھروں میں پڑا سڑ جاتا ہے اور امیر کی بیٹی مہنگے نجی اداروں سے ڈگریاں لے کر بھی معاشرہ کا حصہ نہیں بنتی۔ پاکستانیوں میں ابھی اتنا شعور بیدار نہیں ہو سکا کہ تعلیم کو حقیقی زیور تسلیم کر سکیں۔ غریب کے بچے ملازمت کے لئے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ملازمت کا نہ ملنا بھی ایک تکلیف دہ موضوع ہے لیکن تعلیم کا حاصل نہ کر سکنا اذیت ناک ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، خواتین کی تعلیم کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ بلوچستان میں خواتین کی تعلیمی شرح 15 سے 25 فیصد ہے۔ پاکستان میں معیار تعلیم‘ تعلیمی سہولیات‘ تعلیمی شعور اور رحجان کے بحرا ن سے نبٹنے کے لئے سرکار کی توجہ اور نیت کو بہت دخل ہے۔ جو تعلیمی معیار بھٹو خاندان‘ عمران خان اور شریف برادران نے اپنے اور اپنی اولاد کے لئے پسند کیا‘ وہ معیار ایک عام پاکستانی کو نصیب ہو جائے تو پاکستان ترقی میں امریکہ کو بھی مات دے جائے۔ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت دی جائے تو پاکستانی معاشرہ صحیح معنوں میں اقبال کا پاکستان بن جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کئی خاندانوں کو سنوارتی ہے اور خاندانوں سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور معاشرہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ جس ملک کی ماں ان پڑھ ہے، اس ملک کی نسلیں کبھی پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان ستر سال کا ہو گیا ہے لیکن تعلیمی میدان میں ستر سال پیچھے ہے۔ تعلیم ہی حقیقی زیور اور دولت ہے۔ اسے نہ کوئی چوری کر سکتا ہے اور نہ چھین سکتا ہے۔ اپنی لڑکی کو ڈھیروں تولہ سونا بھی پہنا دو‘ اس میں وہ اعتماد پیدا نہیں ہو سکتا جو پروفیشنل ڈگری کے حصول سے ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں