آئین و قوانین کا احترام‘ سب کی ذمہ داری

Sep 12, 2018

مکرمی! میدان سیاست میں طبع آزمائی‘ حصول اقتدار و اختیار کا قدیم اور روایتی انداز ہے جو کم و بیش عالمگیر سطح پر بلا روک ٹوک آج کل بھی جاری ہے۔ اس شعبہ میں ہر ملک اور معاشرے کے ذہنی‘ جسمانی اور معاشی لحاظ سے نسبتاً بہتر‘ تگڑے اور آسودہ حال افراد ہی حصہ لیتے ہیں جبکہ سیاسی کارکن ان حضرات اور خواتین کے حامی اور معاون بن کر اپنی پارٹیوں یا اتحادوں کی قوت اور تقویت کا کردار نبھاتے ہیں۔ یوں ایسے گروپس یا اتحاد اپنے اغراض و مقاصد کے حصول و فروغ میں خاصا قابل ذکر اور جاندار موقف اختیار کر کے حریف لوگوں کی سیاسی سرگرمیوں کامقابلہ یا دفاعی انداز اپناتے ہیں۔ سیاسی کارکردگی‘ کسی قوم اور معاشرے کی رہبری اور رہنمائی کے اہم فرائض و ذمہ داریوں کی انجام دہی پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ کارکردگی بلاشبہ عام معمولات زندگی سے کہیں برتر اور بلند معیار ومقام کا درجہ رکھتی ہے۔ اچھی سیاسی کارکردگی کا بڑا مقصد اور مدعا قومی یا اجتماعی مفادات کے حصول کے حوالے سے حتیٰ المقدور کم وقت میں مثبت نتائج برآمد کرنا ہے بے شک ذاتی مفادات کا حصہ ان میں قلیل مقدار و نوعیت میں ہو لیکن ایسی تقسیم کاری اکثر سیاست کار حضرات اور کارکنوں کو غالباً نامناسب لگ کر قابل قبول نہیں ہوتی‘ انہیں سیاسی سرگرمیوں میں اپنی خدمات کے عوض جلد اور بڑے ذاتی مفادات کی توقعات کے مطالبات کو رضاکارانہ ایثار کے تحت آئین و قانون اور انصاف کے اصولوں کے منافی زیادہ کرنے سے بہرحال گریز کرنا چاہئے بصورت دیگر ایک تو ان کے عوام کے سامنے کئے گئے بے لوث عوامی خدمت کے وعدے اور دعوے زمین بوس ہونے کے امکانات ہوتے ہیں اور دوسرے قانون شکنی کی حدود میں وارد ہونے سے ان کی قانونی گرفت کے حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس طرح اچھے بھلے‘ نامی گرامی اور اچھی شہرت کے حامل سیاست کار حضرات محض اپنے ذاتی طمع اور کچھ لالچ کی خاطر بددیانتی‘ فراڈ بازی اور دھوکہ دہی کے ملزموں کی فہرست میں شامل ہو کر اپنے خاندان کی عزت اور حرمت کو بھی داغدار اور ہدف تنقید کا سامان فراہم کر دیتے ہیں اگر ان مقدمات کی کسی شہری یا سرکاری ادارے کی جانب سے پیروی کرنے کا عزم کر لیا جائے اور متعلقہ سرکاری دفاتر یا عدالتوں میں بھی ایسے مقدمات کی محنت و دیانت سے حتمی نتائج تک پیروی کی جائے تو بلاشبہ ملزمان کو متعلقہ عدالتوں سے سزائیں مل سکتی ہیں۔ (مقبول احمد قریشی )

مزیدخبریں