بنام وزیراعظم عمران خان

Sep 12, 2018

اللہ تعالیٰ کے کرم سے اور عوام کی کوشش اور شراکت سے آپ پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہو چکے ۔آپ سے لوگوں کی توقعات وابستہ ہیں آپ بہت سے افراد کے رول ماڈل بھی ہیں ماضی میں آپ نے ایک کھلاڑی کی حیثیت اور ٹیم کے کپتان کے ناطے ورلڈکپ جیتا ۔آپ کو دنیا بھر میں عز ت و وقار نصیب ہوا آپ کی متانت اور سنجیدگی بڑی حد تک برقرار رہی پھر شوکت خانم کینسر ہسپتال میں قوم نے آپ کو پذیرائی بخشی ۔اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں نے آپ کی اس کاوش میں بھرپور حصہ ڈالا ۔1996/1997میں سیاست کا آغاز کیا تو آپ کو خاصے ووٹ ملے مگر اسمبلی میں نمائندگی نہ مل سکی اور پھر آپ کے آبائی علاقے میانوالی نے آپ کو اسمبلی میں پہنچا دیا۔ 2008کے بعد 2013میں آپ کو KPKمیں حکومت بنانے کا موقع ملا جماعت اسلامی کے ایلائنس میں وزیراعلیٰ خٹک اور ان کی ٹیم نے اچھا کام کیا لوگوں نے 2018میں آپ کو اکثریتی جماعت کے طور پر تحریک انصاف کو حکومت سازی کو موقع دیا جماعت اسلامی نے اس دوران خیر باد کہہ کر جے یو آئی کے ساتھ MMAبنالی جو جماعت اسلامی کو تو کچھ نہ دے سکی مگر فضل الرحمن جماعت کچھ سیٹیں لینے میں کامیاب ہوگئی ۔سراج الحق نے جماعت اسلامی کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ۔تحریک انصاف مرکز میں اکثریتی جماعت بن گئی سندھ اور بلوچستان نے عمران خان کو حصہ دیا اور اس کی قیادت اور پروگرام کو تسلیم کیا ۔ دراصل قوم PPPاور PML(N)اور فوجی حکومتوں سے بڑی حد تک مایوس تھی اور بیزاری کا شکار بھی ۔غربت ،صحت ،تعلیم ،روزگار اور امن عامہ اور دھشت گردی سمیت عوام کی زندگی اجیرن بنا چکے تھے ۔ان حالات میں بہت سے لوگوں نے عمران کو موقع دیا اور ایک امید کی کرن اس کے اندر نظر آئی کم از کم وہ قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور بہتری کی کوشش بھی ہوگئی ۔عمران کی انتھک کوشش اور محنت ضرور رنگ لائے گی اور یہ پاکستان کے لیے خیر کا باعث بھی ہے اور عزت اور وقار کا سبب بھی بنے گا ۔

عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد 1100کنال گھر کی بجائے ملٹری سیکرٹری کے 4کنال کے گھر کو اپنا مسکن بنایاہے ۔الیکشن کے فوراً بعد جو سفرا ان کو ملنے آئے عمران خان نے بنی گالامیں ان کو چائے اور بسکٹ سے ہی تو اضع کی اور یہ سلسلہ صدر ہاؤس میں Oathکے روز میں نظر آیا ۔پانی ،بسکٹ اور چائے ،کفایت شعاری اچھی بات ہے اور یہ سلسلہ بعد ازاں صوبوں میںبھی بشمول صوبہ سندھ جہاں PPPکی حکومت سے شروع ہوا اور اپنایا گیا سرکاری گاڑیوں کی تعداد اور استعمال اور پروٹوکول پر بھی احکامات جاری ہوئے اور ایک مثبت تبدیلی نظر آئی ۔آج مال روڈ سے گزرتے ہوئے ایک جنرل کو جو چھ ستمبر کی تقریب میں جا رہے تھے بغیر پروٹوکول جاتے دیکھ کر خوشی ہوئی ۔دراصل جب گھر کا بڑا ،ادار ے کا سربراہ اور ملک کا سربراہ دیانت داری سے قومی خزانے اور امور میں ایک اچھے کردار کا نمونہ بنے گا تو اس کے اثرات سب پر مرتب ہونگے کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں رہتی البتہ پاکستان کے معروضی حالات ،انتظامی ،مالی اور اخلاقی کرپشن کے سبب موثر مونیٹرنگ کا نظام اور عدالتی اور غیر عدالتی احتساب کو مستقل شکل میں عمل پذیر بنا ہوگا جو نظر آرہا ہے ۔ نیب کے مقدمات میں ملوث ایک مشیر کو فوراًریفرنس دائر ہونے کے بعد استعفیٰ دینا پڑا ۔یہاں تو یوسف رضا گیلانی سابق وزیراعظم کو سوئس اکاؤنٹس سے زرداری کو بچانے کی خاطر سپریم کورٹ کو حکم عدولی پر گھر جانا پڑا مگر دراصل عمران خان سے قومی توقعات ہیں کہ وہ دوران حکومت ہر معاملے پر نظر رکھے گا ۔ان کے ایک اقتصادی مشیر کے حوالہ سے تنازعہ منظرعام پر آگیا ہے ۔پاکستان میں ختم نبوت کے حوالہ سے مسلمان انتہائی Sensitiveمعاملہ قرار دیتے ہیں اور No Compromiseکی صورت بھی ہے اور ہونی چاہیے اس تعیناتی کو اناَ کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس عہدہ سے ہٹا دینا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ کوئی مشکل صورت حال حکومت کے لیے پیدا نہ کر دے ۔آپ نے جس طرح ہالینڈ میں مقدس خاکوں کے حوالہ سے موثر طور پر معاملہ کو اٹھایا اور OICاور UNتک لے جانے کا عندیہ دیا اس دوران تحریک لبیک نے بھی احتجاج کیا گو کہ باقی جماعتیں خاموش دکھائی دیں صرف افسوس کیا جا سکتا ہے احتجاج فرض ہے انتشار نہیں ؟ترکی سمیت کئی ممالک نے عمران اور حکومت کے اقدامات کو سراہا جس پر ہالینڈ حکومت نے ملعون خاکے بنانے والے مقابلے پر پابندی لگا دی ۔عمران نے مدلل طریقے سے موقف کواجاگر کیا۔مزید توجہ اور محتاط رویئے اور حکومتی فیصلوں میں چھان بین بھی ضروری ہو گی لباس اور دیگر متعلقہ امور میں وزیراعظم رول ماڈل ہیں ۔ان کو اپنائیں ۔قائد اعظم محمد علی جناح ساری عمر انگریزی لباس پہنتے رہے مگر جو نہی حلف کے لیے آئے تو شلوار قمیض شیروانی اور پاؤں میں بند جوتے پہن لیے ۔آپ نے سادگی اپنائی شلوار قمیض اور بعض اوقات اس پر واسکٹ پہنی اچھا لگا اچھا کیا ۔وزیراعظم حلف کے روز شیروانی زیب تن کی مگر پاؤں میں چپل میرے خیال میں درست نہ تھا آپ نے اسی طرح وزیراعظم ہاؤس داخلے کے وقت گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور چپل ہی پہنی ۔آپ کو بند جوتا پہننا چاہیے تھا ۔بعض تقربیا ت Formalہوتی ہیں اور بعض Informal۔دونوں میں لباس اور انداز تکلم اور معاملات میں فرق ہونا چاہیے ۔آپ کا کابینہ کے اندر شلوار قمیض میں آنا کوئی حرج نہیں مگر اس میں بھی واسکٹ یا شارٹ کورٹ لباس کا حصہ ہونا چاہیے تاکہ آپ کے وزراء بھی ایک قومی تشخص اور نظم و ضبظ کا خیال رکھیں ۔امریکی وفد کی آمد پر آپ کا شلوار قمیض کے اوپر Short Coatہونا چاہیے تھا سادگی کا مقصد قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ آپCasualلگنا شروع ہو جائیں ۔آپ کی قومی معاملات میں سنجیدگی اور Commitmentاورشبانہ روز کوششیں قابل احترام ہیں مگر اس آپ کے روز و شب کے مختلف دفتر ی معاملات میں کسی طرح سے بھی لباس سے لے کر گفتگو اور چال ڈھال میں غیر سنجیدگی کا پہلو کسی طرح سے سامنے نہیں آنا چاہیے ۔قائد اعظم کے طور اطوار زندگی کے ہر شعبے میں اپنانے کی کوشش کریں ۔پاکستان اور دنیا میں ہمیں Statesmanکے طور پر دیکھا اور سمجھا جانا چاہیے ۔آپ کے فیصلوں میں ایک جھلک ہے ۔بزرگوں کا قول ہے "کھاؤ من بھاتا۔پہنوجگ بھاتا؟

مزیدخبریں