سول سروس ریفارمز کا مسئلہ

Sep 12, 2018

حکمران بدلتے رہتے ہیں اور بیوروکریسی وہیں موجود رہتی ہے ،مارشل لاء کا دور ہو یا جمہوری حکومتوں کا بیوروکریسی خاص طور پر پی اے ایس گروپ کے افسران کے اختیارات لا محدود ہی رہتے ہیں ۔ یہ فارمولہ برٹش دور کا ہے جبکہ برطانیہ میں آج سول سروسز میں ریکروٹمنٹ یا شمولیت کا طریقہ کار مختلف ہے۔ وہاں سول سروسز کے کچھ قائدے قانون اور اقدار متعین ہیں اور کوئی بھی ان سے بالا تر نہیں۔جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں انتظامی سیٹ پر صرف متعلقہ محکمے کا افسر ہی لگایا جاتا ہے۔لیکن پاکستان میں ہر محکمے میں چئیرمین اور سیکرٹریز کی اکژیت پی اے ایس گروپ سے ہے۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے بعض افسران میں حاکمیت سرائیت کر چکی ہے کہ اپنے ساتھی بیوروکریٹس،انفارمیشن گروپ،فارن سروسز،آڈٹ اینڈ اکائونٹس ،کسٹم ،کامرس،ریلوے،پوسٹل ،ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ ،ان لینڈ ریونیو اور آفس مینجمنٹ کے افسران کی راہ میںبھی روڑے اٹکانے سے باز نہیں آتے جبکہ ’’ پرونشل مینجمنٹ سروسز‘‘ کے افسران کی ترقی کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔جس کی وجہ سے آئے روز سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کے درمیان تنائو کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔سی ایس ایس افسران کی ترقی کا سفر تو ہوا کی سپید سے بھی زیادہ تیزی سے اپنی منازل طے کرتا ہے جبکہ پی ایم ایس افسران سمیت دیگر سرکاری ملازمین کی ترقی کے سامنے نہ صرف سوالیہ نشان موجود ہے بلکہ بڑا سا ’’فل سٹاپ لگا دیا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر ناانصافی کی کیا مثال ہوگی کہ صوبائی یا وفاقی محکمے میں گریڈ17میں بھرتی ہونے والا افسر جب پینتیس سال بعد ریٹائرڈ ہوتا ہے تو گریڈ19 سے آگے نہیں بڑھ پاتا جبکہ سی ایس پی آفیسر اکیس یا بائیس گریڈ کی مراعات اور بھاری بھرکم پینشن کے ساتھی باقی کی زندگی بھی موج کرتا ہے ۔

پے اے ایس افسران کو جیسے سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں کہ ساری اہم سیٹیوں پر صرف انہی کا استحقاق ہے۔چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور صوبائی سیکرٹری تو درکنار پی ایم ایس افسران کو ڈپٹی سیکرٹری سروسز اورایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن کی سیٹ تک نہیں دی جاتی۔ سنئیر سیٹ پر کسی جونیئر آفیسر کی تقرری دانشمندی ہے لیکن اب یہ ٹرینڈ بنتا جارہا ہے کہ جونئیر آفیسر کو سنئیر سیٹ پر اپوائنٹ کیا جائے۔پی اے ایس کی طرح پی ایس پی افسران نے محکمہ پولیس میں اپنی اجارہ اداری قائم کر رکھی ہے اور صوبائی پولیس افسران کا استحصال کررہے ہیں۔ اے ایس آئی،سب انسپکٹر،انسپکٹر اورڈی ایس پیز رینک کے افسران کو دس سے بارہ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اگلے گریڈ میں ترقی نہیں مل پاتی۔جبکہ پی ایس پی افسران بطور انڈر ٹریننگ اے ایس پی جس ڈی ایس پی کے زیرنگرانی محرر اور ایس ایچ او سے لیکر ڈی ایس پی تک کے کام کو سیکھتے رہے وہ بیچارے آج بھی وہیں کے وہیں ہیں ۔ریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچتا ہے لیکن اے ایس آئی اور سب انسپکٹر بھرتی ہونے والوں کی اکژیت انسپکٹر اور ڈی ایس پی سے آگے نہیں جاپاتے ۔ رینکر زپولیس افسران میں سے اگر دوچار پرموٹ ہو بھی جائیں تو انکو ساری زندگی اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی۔پی ایس پی آفیسر ایس پی گریڈ 18کے باوجود گریڈ انیس کی سیٹ پر بطور ڈی پی او براجمان ہوتے ہیں جبکہ رینکر ایس ایس پی ہو کر بھی اس سیٹ کیلئے اہل نہیں سمجھا جاتا۔عیدین و دیگر تہواروں پر بھی چھٹی نہ ملنے،میرٹ کے باوجود ترقی نہ ملنے کے غم میں پریشان حال چھوٹے پولیس ملازمین پر سروس ضبطی کا فیصلہ کسی آفت سے کم نہیں ہوتا۔ناحق سروس ضبط ہونے کے غم میں سینکڑوںافرادپولیس ڈیپارٹمنٹ کو خیرباد کہ چکے ہیں کچھ بیچارے تو دلبرداشتہ ہوکر …؟اگرچہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے مذکورہ پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس اقلیت نے فرض شناس اکثریت کا امیج بھی دائو پر لگا دیا ہے۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صوبائی افسران کی نسبت سی ایس پی افسران کا رویہ سائلین کے ساتھ بہت نرم اور ہمدردانہ ہوتا ہے۔سی ایس پی افسران کی ایک طویل فہرست ہے جو نہ صرف فرش شناسی اور دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں بلکہ اتوار ،عیدین اور دیگرتعطیلات میں بھی انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے نظر آتے ہیںاور عام افراد کی خوشی غمی میں بھی شرکت کرتے ہیں۔سی ایس پی افسران کی انتظامی صلاحیتوں اور قابلیت کے سب معترف ہیں ۔سینٹرل سپرئیر سرسز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مختلف صوبوں کے افسران دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں وہاں کے رہن سہن اور کلچر کے باعث عصبیت کا خاتمہ ہوتا ہے اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔یہ افسران پاکستان کی اکائی کا کردار ادا کرہے ہیں اس لیے سروسز کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس میں بہتری کی لانے کی ضرورت ہے ۔ عشرت العباد کی سربراہی میں بنائی گئی سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس میں بھی سب پے اے ایس افسران ہیں ،سی ایس ایس کے دیگر گروپس اور پی ایم ایس سے کسی کو کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا گیا۔ آج ہر کسی کی امیدوں کا مرکز عدالت عظمیٰ ہے اور بطور منصف انصاف کا ترازواس بات کا متقاضی ہے کہ سول سروس یفارمرز کمیٹی میں سب کو متناسب نمائندگی دی جائے۔انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ اداروں کے درمیاں کھینچا تانی اور اقتدار کی جنگ کا خاتمہ ہو اور سب ملکر وطن عزیز پاکستان کی خدمت کر سکیں۔

مزیدخبریں