پاکستان کو 2019ء تک پولیو سے نجات مل جائے گی: ماہرین

Sep 12, 2018

کراچی (ہیلتھ رپورٹر) بقائی میڈیکل یونیورسٹی شعبۂ اطفال کے زیر اہتمام ای پی آئی پروگرام کے تحت بچوں کی خطرناک بیماریوں پولیو‘ خسرہ‘ ہیضہ‘ نمونیہ‘ خناق‘ کالی کھانسی وغیرہ سے نوزائیدہ تا پانچ سالہ بچوں کو نجات دلانے کیلئے حفاظتی ٹیکوں کی ضرورت‘ فوائد اور اثرات پر خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ایم بی بی ایس کے طلبا و طالبات نے پی جی ایس کی رہنمائی میں بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر نائب صدر پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن سندھ چیپٹر ماہر امراضِ اطفال پروفیسر ڈاکٹر جلال اکبر چیئر مین پیڈیاٹرکس ڈپارٹمنٹ بقائی میڈیکل یونیورسٹی نے طلبہ کو بتایا کہ طبی دنیا تیزی سے تغیر پذیری کی طرف گامزن ہے ۔اس ورکشاپ کا مقصد نئی معالجاتی پیش رفت اور تبدیلیوں سے نہ صرف ماہرین اور طلبائے علوم طب کو آگاہ کرنا مقصود ہے بلکہ مستقبل میں بچوں کی حفاظتی ویکسنیشن کے عالمی معیار سے آگہی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بہتر اور موثر نتائج حاصل کرکے بچوں کی صحت کا گراف قومی سطح پر اوپر لے جاناہے‘ مستقبل میں EPI پروگرام کے ذریعے بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔توقع ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کے ذریعے 2019ء تک افغانستان‘ پاکستان اور نائیجریا جیسے ممالک کو پولیو سے نجات حاصل ہو جائے گی اپنی کوششوں کے بارے میں عالمی ادارۂ صحت کو اطمینان ہے کہ وہ دنیا کے بچوں کو جسمانی طور پر معذورکرنے والی بیماری پولیو سے پاک کردے گا۔

مزیدخبریں