الیکشن کمیشن، مولانا فضل الرحمن اور اعظم سواتی

Sep 12, 2018

اسد اللہ غالب

مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات لگائے تو جھٹ پٹ الیکشن کمیشن بولا اور مولانا کو یاد دلایاکہ وہ قومی اداروں کو بدنام نہ کریں لیکن اعظم سواتی نے دو ہفتے قبل ایک لائیو پریس کانفرنس میں الز ام لگایا کہ ووٹنگ کے بعد آر ٹی ایس بند ہوا، جس کی تحقیقات ہونی چاہئےں ۔مگر اعظم سواتی نے جو کچھ کہا، الیکشن کمیشن بہرہ بن گیا جیسے اسے اعظم سواتی کی آواز ہی نہ سنائی دی ہو۔ویسے پورے ملک میں اعظم سواتی کو کسی نے لفٹ نہیں کرائی، مگر اب تو میاں شہباز شریف نے مطالبہ کر دیا ہے کہ الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم اپنا وعدہ ایفا کریں اور ایک پارلیمانی کمیشن تشکیل دیں۔ ایسانہ کیا گیا تو یہ دھاندلی زدہ نظام نہیں چلنے دیا جائے گا، شہباز شریف نے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا تو اس پر حکومت کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکے گی کیونکہ پچھلے انتخابات کو اس نے بھی دھا ندلی ز دہ قرار دیا تھا،ا س کے خلاف دھرنا دیا،عدالتوں سے رجوع کیا،،آرمی چیف جنرل راحیل سے آدھی رات کو ملاقات بھی کر ڈالی، دارالحکومت کو مفلوج کئے رکھا، پی ٹی وی پر قبضہ جمایا اور اپنی مرضی کی خبریں نشر کروائیں،اس قبضے کو ایس ایس جی کمانڈو نے چھڑوایاا ور معمول کی نشریات بحال کروائیں، دھرنے والوںنے سپریم کورٹ کی دیوراوں پر گندی شلواریں لٹکائیں اور جج صاحبان کا رستہ روکا جس کی وجہ سے انہیں خفیہ رستوں سے عدالتوںمیںجانا پڑا، ایک بار تو پی ٹی ا ٓئی نے دارالحکومت کو لاک کرنے کی کوشش کی جسے وزیر داخلہ چودھری نثار نے جارحانہ حکمت عملی سے ناکام بنایا اور موٹر وے پر خندقیںکھود دیں تاکہ وزیراعلی خیبر پی کے کا لشکر آگے نہ بڑھنے پائے، اب جو جماعت دوسری حکومت سے یہ سلوک کرتی رہی ہو ، اس کے خلاف یہی حرکتیں شروع ہو جائیں تو اسے کوئی ا عتراض نہیں ہونا چاہئے ا ور اعتراض ا سلئے بھی نہیں ہونا چاہیے کہ خود وزیرا عظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے شہباز شریف کو اکسایا تھا کہ وہ دھرنا دے کر دکھائیں ،اس کے لئے کنٹینر بھی وہ مہیا کریں گے ا وربندے درکار ہوں تو وہ بھی فراہم کر دیں گے۔ اب اگر شہبازشریف تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عمران خان کی باتوں کے جواب میں سڑکوں کا رخ کر لیں تو پھر تیرا کیا بنے گا کالیہ۔ ہاں ملک میں پھر ایک تماشہ لگ جائے گا۔عمران اور قادری کے دھرنے نے چینی وزیر اعظم کے دورے کو ملتوی کیا اور سی پیک تاخیر کا شکار ہو گیا،شہباز شریف کا دھرنا کیا گل کھلائے گا، یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا، ویسے دھرنادینا اتنا آسان بھی نہیں۔ ن لیگ کے بقول عمران کے دھرنے کو جنرل پاشا کی حمایت حاصل تھی ، اب تو حکومت کے استحکام کی دعا جی ایچ کیو میں کی گئی ہے۔ ن لیگ کو یہ سبق بہت پرانااز بر ہے کہ کسی بھی کامیابی کے لئے تین الف درکار ہوتے ہیں۔اللہ، آرمی اور امریکہ۔ کوئی تو ساتھ دینے والا ہو۔ آرمی کو تو ن لیگ نے ستا کے رکھ دیا تھا، اللہ ساتھ ہوتا تو نواز شریف بیٹی ا ور داماد سمیت اڈیالہ میں بند نہ ہوتے۔ ن لیگ کے ساتھ اپوزیشن کی کوئی پارٹی نہیں۔ پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو وزیر اعظم کے الیکشن میں ووٹ نہیں دیئے۔ صدر کے الیکشن میں اپوزیشن دو امیدوار میدان میں لے آئی۔ لگتا ہے کہ اپوزیشن کو تقسیم کرنے میں کوئی تیسری اور خفیہ طاقت سرگرم ہے، نیب کی ایک طاقت تو نظر آ رہی ہے کہ زرداری ا ورا ن کی بہن کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں، کئی ارب کی منی لانڈرنگ کا کیس ان کے سر پہ منڈلا رہا ہے۔یہ بھوت ان کابازو جدھر موڑنا چاہے، موڑ سکتا ہے،پیپلز پارٹی کے سواا ور کونسی جماعت بندے اکٹھے کرے گی، مولانا فضل الرحمن کو زعم ہے کہ ان کے پاس مدرسوں کی طاقت ہے، بھٹوکے خلاف مفتی محمود اور مولا نا نورانی نے مدرسوں کی طاقت دکھائی تھی اور ان کا ناک میں دم کر دیا تھا، اب اکوڑہ خٹک کا مدرسہ تو مولانا فضل الرحمن کے اثر سے ا ٓزاد ہے۔ بہر حال ن لیگ کے مجنوں تو صرف دودھ پی سکتے ہیں، ساری وزارتیں تو شریف خاندان کے شہزادوں کے پاس تھیں۔ اب باہر کون نکلے گا، صرف ایک ٹیکنیکل گراﺅنڈ ہے جس پر شہباز میاں حکومت کو چت کر سکتے ہیں اورا س کے لئے اعظم سواتی نے آ بیل مجھے مار کا کردار ادا کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آر ٹی ایس کے بندہونے کی تحقیق کروا لیں تو شہاز میاں کو اس تحقیق پر اڑ جانا چاہیے،۔ آر ٹی ایس کے حقائق درج ذیل ہیں:

ا ٓر ٹی ایس نادرا نے الیکشن کمیشن کو تیار کر کے دیا۔اس سے نادرا کو انکار نہیں۔ آر ٹی ایس کو ہر ٹیسٹ میں کامیاب ثابت کر کے اس کا چارج الیکشن کمیشن کو دے دیا گیا، یہ اسی کی عمارت میں نصب تھا۔ اس کو چالو رکھنے کی ذمے داری الیکشن کمیشن کی ٹیکنیکل ٹیم پر عائدہوتی تھی ۔

آدھی رات کو ا لیکشن کمیشن کے ترجمان نے یہ انکشاف کیا کہ آر ٹی ایس بند ہو گیا اور اب ریزلٹ روایتی طریقے سے اکٹھے کئے جائیں گے تو انہوں نے آر ٹی ایس بند ہونے کی وجہ نہیں بتائی،

آر ٹی ا یس کی کسی خرابی سے نادرا کو اسی میڈیا بریفنگ سے پتہ چلا، یہ کوئی سیریس مسئلہ ہوتا تو الیکشن کمیشن اسی وقت نادرا کو نوٹس دیتا ،اس کی بندش کی ذمے داری نادرا پر عائد کرتا مگر یہ الزام الیکشن کمیشن نے آج تک نادرا پر عائد نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے آج تک وضاحت نہیں کی کہ پولنگ کا عمل سارا دن سست رفتار کیوں رکھا گیا۔

آدھی رات کو شیری رحمن ، فرحت اللہ بابر اور شہباز شریف نے برملا شکایت کی کہ ان کے امیدواروں کو فارم پینتالیس پر مصدقہ رزلٹ نہیں دیا جارہا، کراچی کے قلب میں لیاری کا رزلٹ دو دن تک جاری نہیں کیا گیا۔ لاہور کے قلب میں سعد رفیق سر پٹختا پھر ا۔اسے بھی چوبیس گھنٹے رزلٹ نہیں ملا۔ اس تاخیر کا تعلق تو آر ٹی ایس سے نہیں تھا، یہ رزلٹ تو موقع پر دے دینا چاہئے تھا۔

الیکشن کمیشن نے آج تک وضاحت نہیں کہ اس الیکشن میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ ضائع کیوں کئے گئے اور یہ کس کی کارستانی ہے۔

الیکشن کمیشن یہ بھی بتائے کہ اس نے کس جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے نشانوں کی الاٹ منٹ کے لئے ایک دن کا وقت بڑھایا۔

پری الیکشن رگنگ کے معاملات الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے مگر کیا یہ حقیت نہیں کہ ایک پارٹی ن لیگ کا نمدا کس کر اور دوسری پارٹی پی پی پی کے سر پہ منی لانڈرنگ کیس کی تلوار لٹکا کر مبینہ طورپر پری الیکشن رگنگ کاارتکاب کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کو خاموشی ا ختیار کر کے معاملے کو نہیں ٹالنا چاہئے ورنہ وزیر اعظم تو قومی اسمبلی میں کئے گئے اعلان کی رو سے اپنے حکومتی جواز کے لئے پارلیمانی کمیشن ضرور بنائیں تاکہ دھاندلی کے الزام کی حقیقت سامنے آ سکے۔

الیکشن سے پہلے فوجی ترجمان نے دھاندلی کے الزامات پر کہا تھا کہ کونسا الیکشن ہے جس پر اعتراضات نہیں ہوئے، مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ہر الیکشن کی طرح اس الیکشن پر بھی دھاندلی کے الزامات ہین تو ان سے چشم پوشی اس دلیل کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی جو جنرل صاحب نے پیش کی۔ قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے بارے میںجان سکے کہ ا ٓیا ا س پر کسی نے ڈاکہ تو نہیں ڈالا۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ نادرا نے تیار کر کے الیکشن کمیشن کے حوالے کی ہے۔ اس کی روشنی میں دھاندلی کا لزام ثابت ہوا یا نہیں۔ یہ تو اس رپورٹ کو عرق ریزی سے پڑھنے کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے۔

مگر حقیقت سامنے ضرور آنی چاہئے۔

مزیدخبریں