حکومت نوازشریف، مریم اور کیپٹن صفدر کو پیرول پر رہا کرکے بڑے پن کا مظاہرہ کرے

Sep 12, 2018

قومی، سیاسی زندگی میں صبر و استقامت اور وفا کی علامت بیگم کلثوم نواز کی لندن میں رحلت

جبر و آمریت کے ادوار کا پامردی اور جرأت و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنے اور بحالی و استحکام جمہوریت کی جدوجہد میں یادگار کردار ادا کرنے والی سابق خاتون اول اور سابق رکن قومی اسمبلی بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں کینسر کے موذی مرض کے ساتھ تقریباً دس ماہ تک لڑتے لڑتے گزشتہ روز داعی اجل کو لبیک کہہ کر اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔لندن میں موجود ان کے صاحبزادے حسین نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔جیل حکام کے مطابق میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بیگم کلثوم نواز کے سانحۂ انتقال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ٹی وی چینلز پر اپ ڈیٹس کیلئے انہیں اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں بٹھا دیا گیا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم کے انتقال کی خبر سن کر وہ آبدیدہ ہو گئے۔ بیگم کلثوم نواز کو پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کی نااہلیت کے بعد جمہوریت کی بقاء کے حوالے سے پیدا ہونے والی گھٹن کے باعث کینسر کا عارضہ لاحق ہوا۔ جس کی تشخیص ہوتے ہی میاں نواز شریف انہیں فوری طور پر علاج و معالجہ کے لئے لندن لے آئے۔ جبکہ ان کی لندن روانگی سے قبل میاں نواز شریف کی نااہلیت کے باعت حلقہ این اے 120 لاہو ر کی خالی ہونے والی نشست کے ضمنی انتخاب میں ان کے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے جاچکے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں ہی ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوئی اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے تن تنہا ان کی انتخابی مہم چلائی جو اپنی جدوجہد میں سرخرو ہوئیں اور بیگم کلثوم نواز تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کے مقابلہ میں 15 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے مجموعی 61745 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئیں۔ تاہم انہیں اپنی رکنیت کا حلف اٹھانا نصیب نہ ہوسکا اور ان کی علالت کے دوران ہی 31 مئی کو قومی اسمبلی اپنی آئینی میعاد پوری کرکے تحلیل ہوگئی۔ اس طرح بیگم کلثوم نواز بطور رکن قومی اسمبلی اس نمائندہ فورم کی کسی کارروائی میں شریک نہ ہوسکیں۔

بیگم کلثوم نواز بستر مرگ پر ہی تھیں کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں ان کے شوہر سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو مختلف المیعاد قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائیں جس پر انہوں نے ملک واپس آکر سزائیں بھگتنے کو ترجیح دی اور وہ بیگم کلثوم کو بے ہوشی کی حالت میں ہی الوداع کہہ کر ملک واپس آئے اور انہیں لاہور ایئرپورٹ پر حراست میں لے کر اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے قریبی ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کو ان کے شوہر، بیٹی اور داماد کی سزائوں اور جیل میں قید کئے جانے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا جبکہ انہیں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا بھی علم نہیں تھا۔ گزشتہ روز ان کا وینٹی لیٹر اتارا گیا تو وہ جانبر نہ ہو سکیں اور تقریباً دو ماہ تک بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ خدا انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے۔ ان کے خاندان کے ذرائع کے مطابق ان کی میت لندن سے لاہور لائی جا رہی ہے اور انہیں جاتی عمرہ میں سپرد خاک کیا جائے گا جبکہ ان کی نماز جنازہ اور تدفین کی رسومات میں شرکت کیلئے میاں نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی پیرول پر رہائی کا امکان ہے۔

68 برس تک بقید حیات رہنے والی اس بہادر خاتون نے برصغیر کے معروف کشمیری پہلوان خاندان رستم ہند امام بخش کی صاحبزادی کی کوکھ سے 29 مارچ 1950ء کو جنم لیا۔ اسلامیہ کالج کوپر روڈ لاہور سے انٹرمیڈیٹ اور وہیں سے 1970ء میں گریجوایشن کی۔ جس کے بعد انہوں نے 1972ء میں ایف سی کالج لاہور سے اردو ادب میں ڈگری حاصل کی۔ جبکہ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے اردو کیا۔ میاں نواز شریف سے 1971ء میں ان کی شادی ہوئی۔ انہوں نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کے بطن سے چار بچے مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور اسما نواز پیدا ہوئے۔ میاں نواز شریف کی اہلیہ کی حیثیت سے انہیں 3 بار ملک کی خاتون اول بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

میاں نواز شریف کے سیاست میں آنے تک بیگم کلثوم نواز ایک باپردہ خاتون خانہ کی حیثیت سے زندگی گزارتی رہیں۔ میاں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دور میں بھی وہ کسی قسم کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں شریک نہ ہوئیں۔ تاہم 1990ء میں میاں نواز شریف کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد وہ خاتون اول کی حیثیت سے قومی و سیاسی منظر نامہ پر اجاگر ہوئیں۔ بیگم کلثوم نواز کو سیاسی سفر کی کٹھنائیوں سے پہلی بار اکتوبر 1999ء میں سامنا کرنا پڑا جب میاں نواز شریف کے ہاتھوں معزول ہونے والے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999ء کو ان کی حکومت ختم کرکے انہیں قید تنہائی میں ڈالا۔ اس وقت اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے میاں نواز شریف کی حبس بے جا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ درخواست دائر کی تو بیگم کلثوم نواز اپنی صاحبزادیوں، صاحبزادوں اور میاں شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کے ساتھ پہلی بار گھر سے نکل کر لاہور ہائیکورٹ آئیں۔ جہاں انہیں کمرہ عدالت میں پہلی بار میڈیا کے تند و تیز سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کا نقطہ آغاز تھا۔ تاہم انہوں نے بہت استقامت کے ساتھ مشرف کی جرنیلی آمریت کی کٹھنائیوں کا سامنا کرنا شروع کردیا اور میاں نواز شریف کی رہائی کے علاوہ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں نوابزادہ نصراللہ خان سے معاونت حاصل کرنے کے لئے ان کی اقامت گاہ 32 نکلسن روڈ لاہور پر آگئیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان اس وقت اپوزیشن اتحاد جی ڈی اے کے سربراہ تھے اور یہ اتحاد میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف قائم ہوا تھا۔ نوابزادہ صاحب نے اپنی وضعداری کے پیش نظر بیگم کلثوم نواز کو خوش آمدید کہا اور جی ڈی اے کی رکن جماعتوں کو مسلم لیگ ن کو اتحاد میں شامل کرکے میاں نواز شریف کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کا آغاز کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم جی ڈی اے کی بعض جماعتیں اس پر آمادہ نہ ہوئیں اور جی ڈی اے سے باہر نکل آئیں جس کے بعد نوابزادہ نصراللہ خان نے اسلام آباد میں سید ظفر علی شاہ کی اقامت گاہ پر جی ڈی اے کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلایا جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس کے سیکرٹری جنرل سرانجام خان شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی ہمراہی میں اپوزیشن اتحاد الائنس فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (اے آر ڈی) کی تشکیل کا اعلان کیا گیا جس کا بنیادی مقصد مشرف کی جرنیلی آمریت سے قوم کو نجات دلانے کا تھا۔ بیگم کلثوم نواز نے بھی اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر بحالی جمہوریت کی جدوجہد میں حصہ لینا شروع کیا اور ساتھ ہی ساتھ مسلم لیگ (ن) کی غیر اعلانیہ طور پر قیادت بھی سنبھال لی۔ اس دوران انہیں 3 دسمبر 2000ء کو ریاستی جبر کی انتہا سے نبردآزما ہونا پڑا ۔جب وہ اے آر ڈی کے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے کے لئے اپنی گاڑی پر گھر سے روانہ ہوئیں تو انہیں جی او آر سے شاہراہ قائداعظم پر آنے سے پہلے ہی روک لیا گیا اور پولیس کی بھاری نفری نے ان کی گاڑی کو حصار میں لے

لیا۔ اس وقت بیگم تہمینہ دولتانہ اور مخدوم جاوید ہاشمی بھی گاڑی کی پچھلی نشست پر ان کے ہمراہ تھے۔ بیگم کلثوم نواز نے واپس جانے کے لئے انتظامیہ کے حکم نامہ کی تعمیل سے انکار کیا اور گاڑی آگے بڑھانے کی جدوجہد جاری رکھی تو انتظامیہ نے کرین منگوا کر ان کی گاڑی اٹھالی۔ اس کے باوجود بیگم کلثوم نواز نے ریاستی جبر کے سامنے ہار نہ مانی اور وہ سخت حبس میں تقریباً دس گھنٹے تک گاڑی کے اندر ہی موجود رہیں۔ اس طرح انہوں نے مشرف آمریت کو یہ ٹھوس پیغام دیا کہ ریاستی جبر کا کوئی ہتھکنڈہ ان کے آہنی عزم کو شکست نہیں دے سکتا اور گاما پہلوان کی نواسی کو سیاسی اکھاڑے میں کسی صورت ہزیمت سے دوچار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ان کی جرأت رندانہ ہی تھی کہ انہوں نے جرنیلی آمریت کے بدترین لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیلوں کی برسات اور دوسرے ظلم و جبر کو برداشت کیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے پروانوں نے اس ریاستی جبر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جی او آر سے اسمبلی ہال تک کٹھن اور جان لیوا جدوجہد کی نئی داستانیں رقم کیں۔ اس کٹھن جدوجہد کے دوران بیگم کلثوم نواز سے ایک اخبار نویس نے استفسار کیا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا تو میاں نواز شریف کی رہائی کی تحریک کون چلائے گا جس پر انہوں نے بلا تؤقف جواب دیا کہ وہ سارے امکانات ذہن میں رکھ کر گھر سے نکلی ہیں‘ ان کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن زیادہ شدت سے تحریک چلائیں گے۔ وہ اپنی جدوجہد کے دوران ہر جلسے، ہر پریس کانفرنس اور ہر ملاقاتی سے بات چیت کے موقع پر یہ بات ضرور کہتیں کہ میاں صاحب کی رہائی کے بعد وہ واپس کچن میں چلی جائیں گی چنانچہ ان کی یہ تکرار سیاسی اور صحافتی حلقوں میں وفا نبھانے کے ناطے سے دلچسپ موضوع بحث بن گئی۔ انہوں نے قلیل عرصے میں ہی خود کو ایک مدبر اور زیرک قومی سیاسی قائد کے طور پر تسلیم کرا لیا تھا۔ اس جدوجہد کے ایک ہفتے بعد ہی مشرف آمریت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر پوری شریف فیملی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے ہمراہ جدہ روانہ ہو گئی جہاں سے 2008ء کے انتخابات کے موقع پر ان کی ملک واپسی ہوئی۔ بیگم کلثوم نواز نے جلاوطنی کے آٹھ سال کے عرصہ کے دوران اور پھر میاں نواز شریف کی اپوزیشن کی سیاست اور ان کی وزارت عظمٰی کے تیسرے دور میں بھی خاتون اول ہونے کے باوجود ایک خاتون خانہ کی حیثیت سے ہی زندگی گزاری تاہم میاں نواز شریف‘ ان کی صاحبزادی، بیٹوں اور داماد کو بہیمانہ انداز میں پانامہ کیس میں رگیدنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے باعث بیگم کلثوم نواز کی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے شوہر میاں نواز شریف اور اپنے بچوں کو تحقیر آمیز حالات میں نیب کے مقدمات میں پیش ہوتا اور انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرتے دیکھتی رہیں مگر انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کو ملک، عوام اور مسلم لیگ کے کارکنوں سے کنارہ کش ہونے کی کبھی تلقین نہیں کی۔ یہ ان کی وفا کا ہی صلہ ہے کہ جب ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ونٹی لیٹر پر رکھا گیا تو میاں نواز شریف کے مخالف سیاستدانوں اور آرمی چیف سمیت ملک کے تمام شعبہ ہائے زندگی کی شخصیات کی جانب سے ان کی جلد صحتیابی اور درازی عمر کی دعائیں کی گئیں اور میاں شہبازشریف بھی عیدالفطر کے روز انکی عیادت کیلئے لندن چلے گئے۔ آج پوری قوم ان کے سانحہ ارتحال پر غم میں ڈوبی ہے اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ و استحکام کے لئے دعاگو ہے۔ خدائے بزرگ و برتر بیگم کلثوم نواز کو اپنی جوار رحمت میں مقام خاص عطا فرمائیں۔ ادارہ ٔ نوائے وقت بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر ان کے خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ حکومت کو میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) محمد صفدر کی پیرول پر رہائی کے معاملہ میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہئے اور انہیں جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق رہا کر دینا چاہئے، تاکہ وہ اپنی عزیز ہستی کی تدفین کی رسومات میں شریک ہو سکیں۔

مزیدخبریں