بدھ‘ یکم محرم الحرام 1439 ھ ‘ 12؍ ستمبر 2018ء

Sep 12, 2018

گوجرانوالہ میں معمر شخص ون ویلنگ کرتے گرفتار

یہ بابا جی تو بڑے کمال کے نکلے۔ اس عمر میں یہ مشاغل بڑی بات ہے ورنہ ہمارے معاشرے میں اس عمر میں اگر کوئی کوئی اوٹ پٹانگ حرکت کرے تو لوگ ویسے ہی ’’چٹا جھاٹا تے خراب آٹا‘‘ کی مثال سے لیکر نجانے کون کون سی روکھی پھیکی مثالیں دینے لگتے ہیں ورنہ یورپ میں تو اسی عمر میں لوگ موج مستی کرنے کیلئے فارغ ہوتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں فراغت تو ہوتی ہے مگر موج مستی کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی۔ اسے ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بزرگ بھی خود کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں اور بے رنگ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اب یہ گوجرانوالہ کے بابا چن الٰہی کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ حضرت رات کو نوجوان منچلوں کے ساتھ ون ویلنگ کی ریس لگاتے ہیں۔ نجانے کون کونسے الٹے سیدھے کرتب بھی دکھاتے ہوں۔ کئی بار موصوف کو ٹریفک پولیس نے پکڑا مگر منت سماجت اور عمر کا لحاظ کرتے ہوئے معافی تلافی پر چھوڑ دیا۔ مگر اب کی بار ٹریفک والوں نے بھی تنگ آکر ان کی بزرگی کا لحاظ ایک طرف رکھ کر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ بابے کی تصویر دیکھ کر تو لگتا ہے موصوف کوئی روحانی شخصیت ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ روحانی شخصیت اپنے روحانی وجدان سے پرواز کرتی ہے جبکہ چن الٰہی موٹرسائیکل پر ون ویلنگ کرتے ہوئے اپنا نیا ہی چن چڑھاتے ہیں۔

٭٭……٭٭

میاں محمد سومرو کی وزیرمملکت کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت

عامر لیاقت کے بعد اب میاں محمد سومرو بھی لگتا ہے مکمل وزیر بنانے کی بجائے صرف وزیرمملکت بنائے جانے پر خوش نہیں ہیں اس لئے انہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ ہمارے ہاں تو ایف اے یا میٹرک پاس بچہ بھی عام محنت مزدوری والا کام نہیں کرتا۔ اسے یہ کام کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اسی لئے بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں تو معاملہ ہی اور ہے۔ سومرو صاحب ایک مرتبہ نگران وزیراعظم اور ایک مرتبہ قائم مقام صدرکے عہدے کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ انہیں اب یہ وزیرمملکت والا خالی خولی شو شا والے عہدے کا مزہ کیا خاک آئے گا۔ عجب بات ہے تحریک انصاف کے کاندھے پر سوار ہونے والے کچھ لوگ نجانے کیوں پیر تسمہ پا بننے کے چکروں میں پڑ جاتے ہیں۔ کیا وزیر شذیر بنے بغیر ملک و قوم کی خدمت نہیںہوتی۔ پہلے ریس لگتی ہے کون وزیر بنے گا پھر ریس لگتی ہے کون مشیر بنے گا پھر ریس لگتی ہے کون وزیرمملکت بنے گا۔ اب جو لوگ وزیرمملکت بننا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو انہیں وزیر بے محکمہ بنانے کا اعلان کی جائے تاکہ کم از کم وہ اپنے وزیر بننے پر تو مطمئن ہوں اور کم از کم اس طرح ناراضگی کا اظہار تو نہ کریں۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ حکومت؎

روٹھے سیاں کو میں تو اپنے

خود ہی منانے چلی آئی

کی لے سب کی پر منتیں ترلے کرتی پھرے

٭٭……٭٭

مولانا فضل الرحمن کے بھائی کمشنر افغان مہاجرین کے عہدے سے فارغ

حکومت سے علیحدہ ہونا اور کسی کیلئے برا ہو یا نہ ہو‘ مولانافضل الرحمن کیلئے خاصا تلخ تجربہ ہے۔ کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی گئی۔ وفاقی وزیر کے برابر پروٹوکول گیا۔ جھنڈے والی گاڑی کے ساتھ سرکاری بنگلہ بھی گیا۔ سرکاری مراعات بھی ختم۔ ڈیزل پرمٹوں کے قصے غلط سہی‘ جے یو آئی کے وزراء کے کرپشن کے فسانے جھوٹ سہی‘ مگر یہ جو کچھ اب مولانا کے ہمرائیوں کے ساتھ ہورہا ہے‘ اسے غم کا کون سا عنوان دیا جائے گا۔ سچ کہتے ہیں مشکل میں تو سایہ بھی چھوڑ جاتا ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ مولانا کے بھائی ضیاء الرحمن کو بھی کمشنر افغان مہاجرین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ عہدہ کتنا پُرکشش ہے۔ پوری سونے کی کان کمشنر افغان مہاجرین کے حوالے ہوتی ہے۔ یہاں روپوں میں نہیں‘ ڈالروں میں کام چلتا ہے۔ ملکی و غیرملکی امداد بے حساب و کتاب آتی ہے جس سے چاروں طرف ہر وقت خوشحالی پھیلی رہتی ہے۔ یہ امداد سب کو ملتی ہے سوائے حقیقی افغان مہاجرین کے جنہیں اس کا بمشکل کچھ حصہ دستیاب ہوتا ہے جو ایک انار سو بیمار کے مصداق ہے۔ اب ضیاء الرحمن صاحب کے بارے میں وفاقی وزیر فواد چودھری بھی بول پڑے ہیں کہ انہیں کس نے کس بنیاد پر یہ عہدہ دیا۔ فواد جی بھی بڑے بھولے ہیں۔ انہیں شاید یاد نہیں پتہ کہ ہمارے ہاں پُرکشش عہدے اور آسامیاں سچ کہیں تو وزارتیں بھی من پسند منظور نظر افراد کو ملتی ہیں۔ کیا معلوم یہاں بھی یہی فارمولا استعمال ہوا ہو۔

٭٭……٭٭

وفاق نے صحت کے شعبہ میں سندھ حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا: خورشید شاہ

اب معلوم نہیں خورشید شاہ یہ شکوہ پچھلی حکومت کا کر رہے ہیں یا نئی حکومت کو اپنا دکھڑا سنا رہے ہیں۔ صوبوں کے پاس اپنا محکمہ صحت بھی ہوتا ہے۔ اس کے وسائل صوبائی حکومت ہی پورے کرتی ہے۔ اب یہ تو ہمارے تمام صوبائی حکومتوں کی عادت ہے کہ وہ اپنی ناقص کارکردگی کا الزام بھی مرکز پر لگا دیتے ہیں۔ سندھ میں محکمہ صحت کی ’’بہترین‘‘ کارکردگی دیکھنی ہو تو صرف تھرپار کر کا علاقہ ہی اس کی مثالی کارکردگی کا ثبوت پیش کرنے کو کافی ہے۔ صرف تھر کا رونا کیا روئیں‘ وہاںتو ٹھٹھہ‘میرپور، بدین‘سانگھڑ‘ پڈ عیدن جہاں جائیں وہاں کے طبی مراکز اور ہسپتال اپنی تباہ حالی پر نوحہ کناں ہیں۔ عملہ غائب رہتا ہے۔ ادویات دستیاب نہیں۔ ڈاکٹر حضرات صرف شہروں میں ڈیوٹی دینے یا نجی کلینک چلانے پر ایمان رکھتے ہیں۔کراچی‘حیدرآباد کو چھوڑ کر باقی شہروں کے ہسپتالوں کی حالت بھی ابتر ہے۔ اب کیا یہ بھی وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈاکٹروں اور عملے ؒ کو پکڑ پکڑ کر ان کی جائے تعیناتی پر بٹھائے۔ فنڈز ملتے رہے ہیں‘ حکومت سندھ کو پتہ ہے یہ فنڈز کہاں جاتے ہیں۔ گزشتہ کامل دس برسوں سے سندھ پر پپلزپارٹی ارب پتی نوابوں‘ میروں‘ شاہوں‘ مخدوموں اور زرداریوں کی حکومت رہی ہے۔ انہیں کیوں تھر میں روزانہ بھوک پیاس اور بیماری سے دم توڑتے بچے نظر نہیں آئے۔ اگر صوبائی حکومت درست ہو تو وہ ڈنڈے کے زور پر بھی وفاق سے سارے فنڈز نکلوا سکتی ہے۔ اور نکلواتی بھی رہی ہے تو پھر یہاں کیوں نہیں ایسا کیا۔ یقین نہ آئے تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ ہی دیکھ لیں۔ کیسے دو صوبے کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اس اہم ترین قومی مسئلے کو جو عوام کی خوشحالی کا ضامن ہے‘ ڈنڈے کے زور پر رکوایا ہوا ہے۔

٭٭……٭٭

مزیدخبریں