معالج سے صدر مملکت : پرعزم داستان

Sep 12, 2018

محمد اسلم خان....چوپال

نصف صدی پر محیط طویل سیاسی جدوجہد کے بعد ڈاکٹر عارف علوی ایوان صدر پہنچ گئے، دور طالب علمی سے شروع ہونے والا کٹھن سفر تمام ہوا۔ کراچی کے شیر دلیر دائیں بازو کے نمایاں رہنما کی بے چینی کو قرار آگیا۔ ایوان صدر کے نئے مکین صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ہیں۔ڈاکٹر علوی صدر مملکت کی حیثیت سے متحرک آئینی کردار ادا کریں گے۔ گونگاپہلوان بنیں گے اور نہ ہی زرداری کی طرح وزیر اعظم اور پارلیمان کے اعصاب پر سوار رہیں گے۔

متحدہ ہندوستان میں اہلحدیثوں کے نمایاں خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حبیب الرحمن الٰہی علوی، چوٹی کے ماہر معالج دندان (Dentist) تھے ۔اکل کھرے عالم دین اور کثیر العیال تھے، توحید پرست عمومی طور پر اپنے نظریات میں عموماً متشدد ہوتے ہیں ۔یہی معاملہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بھی تھا لیکن انہیں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی رفاقت میسر آگئی اور وہ ابتدائی دور میں جماعت اسلامی کے نمایاں فکری رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔اسی ماحول میں اور پس منظر میں ڈاکٹر عارف علوی پروان چڑ ھے جس نے انہیں شعلہ جوالا اور سہ آتشہ بنادیا۔

کہتے ہیں کہ ان کی مادر علمی ڈینٹل کالج لاہور میں طلبہ کا اوباش گروپ بہت منہ زور تھا۔ عارف علوی جنرل ایوب کے خلاف جمہوری جدوجہد کے جانباز ہراول دستے میں شامل تھے ‘ انہوں نے کالج مافیا کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ وہ بد قماش مرنے مارنے پر تل گئے لیکن عارف علوی ڈٹ گئے اور لفنگوں کے اس ٹولے کو بھگا کر دم لیا اور پھر مدتوں ڈاکٹر طلبہ یونین کے صدر رہے ۔

عارف علوی کے والد ڈاکٹر حبیب الرحمن الہٰی علوی کراچی نہیں پاکستان کے درجہ اول کے ڈینٹسٹ تھے۔ڈاکٹر حبیب الرحمن الہٰی علوی نرے پرے ڈاکٹر ہی نہیں بڑے دبنگ اور خدائی فوج دار قسم کے عوامی مجاہد تھے۔ ایک بار انہوں نے کراچی میں شراب فروشی کے خلاف تحریک شروع کر دی اور پھر سارے شہر میں شراب کی کوئی دکان کھلی نہ رہ سکی۔ ڈاکٹرعارف علوی اس کار خیر میں اپنے والد گرامی قدر کے قدم بقدم شریک کار تھے۔ جگہ جگہ جا کر دکانیں بند کراتے پھرتے تھے، یہ ان کی عملی سیاسی تربیت کا دور تھا۔

معالج کے طور پر ڈاکٹر علوی کا شمار بھی شہر کراچی ہی نہیں‘ پاکستان کے معروف ڈینٹسٹ میں ہوتا تھا۔ ایشیا ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ اس شعبے کے ڈاکٹر بہت مہنگے ہوتے ہیں‘ کہا جاتا تھا عارف علوی تو اس درجے کے ڈاکٹر تھے کہ ان کی کرسی پر بیٹھنے کی فیس ہی لاکھوں روپے ہوتی۔

صدر عارف علوی جمہوریت پسندوں کی اس نایاب و کامیاب نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے 60 کی دہائی کے آخری برسوں میں ایوبی آمریت پر کاری وار کیا ، طلبہ تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ یہ ایوب کی فوجی آمریت کے خلاف جمہوریت کے پروانوں کی نسل تھی۔کیا کیا عظیم لوگ تھے جو اسلام کا پرچم لے کر نکلے تھے جنہوں نے اپنی ہتھیلیوں پر نقد جان کی شمعیں روشن کی تھیں جو آج بھی ڈھاکہ کے سبزہ زاروں میں وفا کی شمعیں روشن کر رہے ہیں۔ پاکستان کے نام پر ہنستے مسکراتے پھانسی کے پھندے چوم رہے ہیں ۔ڈاکٹر عارف علوی بھی ان قوتوں کا حصہ تھے۔ یہ کسی جماعت میں باضابطہ شامل نہ تھے‘ مگر والد کی طرح دینی کاموں میں سرگرم تھے۔

ڈاکٹر علوی کے دور جوانی کے دوست ممتاز دانشور سجاد میر لکھتے ہیں ‘‘ عارف علوی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے تبدیلی کے خواب دیکھے تھے۔ مگر یہ خواب بہت ’’پاکیزہ‘‘ اور سلجھے ہوئے تھے‘ ان میں کوئی چھچھورا پن نہ تھا۔ نہ کٹر مذہبیت تھی نہ بے مہار آزاد خیالی تھی۔ یہ ایک خوبصورت روشن خیال پاکستان کا خواب تھا جو ہمارے تہذیبی ورثے سے جڑا ہوا ہو۔وہ بھی اپنے عظیم المرتبت والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود بھی دندان کے ماہر معالج بنے اور امریکہ سے اس شعبے میں درجہ تخصص حاصل کیا لیکن سیاست اور سیاسی عمل سے اپنا دامن نہ چھڑا سکے۔ وہ ضیا مارشل لا کے نفاذ کے وقت کراچی جماعت اسلامی کے سرکردہ نوجوان رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے ۔1979 کے متناسب نمائندگی کے تحت ہونے والے مجوزہ عام انتخابات میں جناب عارف علوی جماعت اسلامی کراچی کی سیاسی حکمت عملی اور متوقع امیدواروں کی فہرستیں بنا رہے تھے کہ جنرل ضیاء نے عام انتخابات حیلہ جوئی سے ہمیشہ کے لئے ملتوی کردئیے۔مرحوم قاضی حسین احمد کے دور انقلاب میں جناب عمران خان مطلع سیاست پر اُبھرے اور دونوں رہنماؤں میں گاڑھی چھننے لگی تو ڈاکٹر علوی بذریعہ جماعت اسلامی عمران خان کی قربت پائے گئے وہ ایسے عمران خان کی زلف گرہ گیر کا شکار ہوئے کہ تحریک انصاف کی بنیاد بھی شاید ان کی رہائش گاہ پر رکھی گئی۔ عمران خان کی طویل 22 سالہ جدوجہد کے دوران ڈاکٹر عارف علوی کراچی میں عمران خان کا سایہ تھے ،بازو ئے شمشیر زن تھے ۔اس سے بھی بڑھ کر سب کچھ تھے وہ کراچی کا حقیقی مسیحا بن ابھرے۔ انہوں نے عین دور عروج پر الطاف کو چیلنج کیا جس کی کم از کم سزا اس وقت درد ناک موت تھی لیکن ڈاکٹر علوی دیوانہ وار موت سے پنجہ آزما ہو گئے۔ الطاف اور اس کی جفا پرور ایم کیو ایم کے دست قاتل کو مروڑ کر رکھ دیا۔

ڈاکٹر عارف علوی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے انتخابی میدان میں تمام تر دھاندلیوں کے باوجود ایم کیو ایم کو شکست فاش دے کر اس کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر تار تار کرکے رکھ دیا۔اب ڈاکٹر عارف علوی 5 سال ایوان صدر کے مکین رہیں گے۔

ڈاکٹر علوی ایوان صدر میں نئی روایات کے امین ثابت ہوں گے کہ انہوں نے اپنے انتخاب کے فوراً بعد اعلان کیا کہ وہ ساری قوم کے صدر مملکت ہیں، سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ضروری پروٹوکول نہیں ہونا چاہیے، سکیورٹی جائز حد تک ہو۔ میں صرف تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں کا صدر ہوں۔پاکستان کی بہتری کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھاؤں گا، اور بھی بہتر طریقے سے کام کروں گا۔

ایک زرداری تھے جو تمام روایات کے برعکس اپنی جماعت کو بھی چلاتے رہے اور اس سے رسمی علیحدگی بھی اختیار نہ کی۔دوسری مثال جناب ممنون حسین کی ہے جو اپنے تمام تر تجربے اور علم و فضل کے باوجود نواز شریف کے ذاتی وفادار رہے۔ شب گذشتہ ان کے مشیر اطلاعات فاروق عادل نے وضاحت کی ہے کہ وہ پاکستان کو مطلوب ملزموں سے ملنے کے لئے سرکاری ٹکٹ پر نہیں ذاتی خرچ پر لندن گئے تھے اب وہ پہلی فرصت میں نواز شریف کو سلام پیش کرنے اڈیالہ جیل تشریف لے جائینگے ۔

مزیدخبریں