یوٹیلٹی سٹورز کے بجائے یوٹیلٹی دکان

Sep 12, 2018

مکرمی! پہلے خبرآئی کہ نئی حکومت یوٹیلٹی سٹورز کو بند کر رہی ہے۔ جب میڈیا پر شور ہوا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے موجودہ نوکریاں ختم کر رہے ہیں تو حکومت کو پسا ہونا پڑا۔ سابقہ حکومت کا یوٹیلٹی سٹورز بنانے کا مقصد نیک تھا مگر طریقہ کار غلط اختیار کیا۔ یوٹیلٹی سٹور کے ذریعے محروم اور کم آمدن والے افراد کی مدد کرنا تھا۔ موجودہ حکومت بھی یہی مقصد لئے ہوئے ہے مگر شاید اس حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس مقصد کو کیسے حاصل کرے اور اس کی مینجمنٹ اور خسارہ کو کیسے کم کرے۔ بنیادی طورپر یوٹیلیٹی سٹورز کم آمدن اور محروم طبقوں کیسے بنائے گئے تھے تاکہ کم آمدن میں سستا راشن خرید سکے۔ مزدور کی بنیادی ضروریات کیا ہیں۔ مثلاً گھی ، آٹا ، چینی ، چائے ، چاول‘ صابن وغیرہ اس لئے بڑے بڑے ہال کرایوں پر لیکر سٹور قائم کے گئے ہیں جس سے کرایہ اور زیادہ سٹاف کی تنخواہ کی مد میں ماہانہ لاکھوں خرچ ہوتے ہیں جن کو ختم کرکے بچت کی جا سکتی ہے۔ میری رائے میں بڑے پوش علاقوں سے بڑے بڑے یوٹیلٹی سٹورز ختم کرکے صرف یوٹیلٹی دکان متعارف کرائی جائے وہ بھی صرف غریب علاقوں میں اور وہاں صرف مزدوروں کیلئے روزمرہ کی بنیادی ضرورت کی 15/20 اشیاء سستے داموں فراہم کی جائیں۔ اس طرح حکومت کا خسارہ بھی ختم ہو جائے گا۔(زاہد برکی 50 / B III ماڈل ٹائون لاہور)

مزیدخبریں