ایمان‘ اتحاد‘ تنظیم کا علمبردار

Sep 12, 2018

مکرمی!25 دسمبر 1876ء کی صبح ایک نئی کرن کے ساتھ نمودار ہوئی۔ اس دن ایک ایسے بچے نے جنم لیا جو مستقبل کا ایک روشن ستارہ بننے والا تھا اور جسے صدیوں تک یاد رکھا جانا تھا۔ وقت کسی کیلئے نہیں رکتا‘ لیکن جو انسان اپنی خواہشات کو روک کر اپنی منزل کی تلاش میں رہتے ہیں‘ وہ کبھی رکا نہیں کرتے۔ یہ عظیم انسان جوکراچی میں پیدا ہوا۔ اسکا کا نام محمد علی جناح رکھا گیا ۔ان کے والد گجرات میں تجارت کا کام کرتے تھے اور آپ کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل کاٹھیوار سے کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ جب تعلیم کا سفر شروع کیا تو ایسے عالم ملے جنہوں نے آپ کی ذہانت کو ایسا چمکایا پھر آپ نے لندن کا سفر باندھا اور برطانیہ جانے لگے مگر اس سے قبل اپنی والدہ کی خوشی کیلئے ایمی بائی سے شادی کر لی اور پھر لندن چلے گئے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد آپ کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ لندن جا کر آپ نے قانون پر تعلیم حاصل کرنے کی ٹھانی اور اپنے مقصد کی جانب گامزن ہو گئے۔آپ نے 1895ء میں لاء کی ڈگری حاصل کر لی۔ 1896ء میں آپ نے ہندوستان کی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ آپ زندگی میں دو چیزوں پر عمل پیرا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اصول اور دوسرا قانون ہے۔۔ آپ نے مسلمانوں اور ہندوئوں کو ایک کرنے کی بے حد کوشش کی اور ان کی ایک کاوش لکھنؤ معاہدہ تھا مگر ہندو مسلمانوں کے درمیان بے حد نفرت دیکھ کر آپ واپس لندن روانہ ہوگئے۔علامہ اقبال لندن گئے اور قائد کو کہا کہ آپ ہی ہو جس کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ قوم کو یکجا کر سکو۔ وطن واپس آکرآپ نے مسلمانوں کے علیحدہ ملک کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ آپ جانتے تھے کہ ہندو کبھی مسلم قوم کوآگے نہیں آنے دیں گے ۔بس آپ کی کاوشوں اور ان تھک محنت سے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم ملا اور وہ اپنا حق لینے میں کامیاب ہو گئے اور ایک الگ خطہ مل گیا جسے ہم پاکستان کہتے ہیں۔3 ستمبر 1948ء کو آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور11 ستمبر 1948ء کا دن تھا جب یہ عظیم لیڈر اس قوم سے جدا ہو گیا۔ آخری وقت میں آپ کی بہن فاطمہ آپ کے پاس تھی۔ آپ نے فاطمہ سے مخاطب ہوکر کہا ’’فاطی خدا حافظ‘‘ اور آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہ عظیم لیڈر قوم کو تنہا چھوڑ گیا مگر ان کو آزادی کا تحفہ دے گیا۔آج جو ہم آزادی سے جی رہے ہیں‘ یہ اس قائد کی محنتوں کا صلہ ہے(اسوہ سلطان اعوان، لاہور)

مزیدخبریں