ریاضت و عبادت

Sep 12, 2018

ریاض احمد سید

مرید باصفا مرشد کے روحانی کمالات پر مرمٹا، تو عرض کی حضور کوئی آپ سے بھی بڑھ کر ہو گا؟ فرمایا فلاں ملک کے بادشاہ کے پاس چلے جائو۔ مرید سٹپٹا گیا کہ کہاں باطن کی باتیں اور کہاں پادشاہی۔ مگر مرشد کا حکم تھا۔ منزلیں مارتا ہوا پہنچا، بادشاہ کے حضور حاضری دی ا ور قصہ کہہ سنایا۔ بادشاہ بولا، یہ باتیں پھر سہی۔ آجکل جشنِ بہاراں ہے۔ گھومو ، پھرو، عیش کرو۔ اجنبی چلا تو دودھ سے بھرا پیالہ تھما دیا اور ایک جلاد بھی ہمراہ کردیا کہ جہاں پیالہ چھلکے، سر قلم کر دینا۔ شام کو واپس آئے تو بادشاہ نے تفریح کا احوال پوچھا۔ بولا، جہاں پناہ! کہاں کی تفریح اور کہاں کا جشن ، میری نظریں تو پیالے ہی سے نہیں ہٹیں، مبادا دودھ گر جائے اور مارا جائوں۔ بادشاہ مسکرایا اور بولا، میری ذمہ داریاں بھی دودھ کے اس پیالے کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنے کی مہلت نہیں دیتیں۔ مجھ گنہگار کی یہی ریاضت ہے اور یہی عبادت۔

مزیدخبریں