جنگ ستمبر کی یادیں … (۸)

Sep 12, 2018

الطاف حسن قریشی

ہندوئوں کا دوسرا مقصد جس میں لارڈ مائونٹ بیٹن بھی دل و جان سے شریک تھے، وہ پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کا گلا گھونٹ دینا تھا۔ دراصل 3جون 1947ء کو برطانوی وزیراعظم ایٹلی نے دارالعوام میں تقسیم کے منصوبے کا اعلان کیا جسے حزب اختلاف کی تائید حاصل تھی۔ اس اعلان کے مطابق انڈین یونین اور پاکستان کی آزاد مملکتیں وجود میں آنا تھیں جنہیں اقتدار یکم جون 1948ء تک منتقل کر دینا تھا۔ اُسی شام آل انڈیا ریڈیو سے وائسرائے مائونٹ بیٹن، پنڈت نہرو، قائداعظم اور بلد یوسنگھ نے نشری تقریریں کیں۔ یہ اعلان نہرو کے مشورے سے ترتیب دیا گیا تھا، اس لئے انہوں نے اسے خوشی خوشی قبول کر لیا اور وائسرائے کی حکمت و فراست کو خراج تحسین پیش کیا۔ قائداعظم نے فرمایا کہ یہ منصوبہ ہماری خواہشات کے مطابق تو نہیں، مگر وہ اندریں حالات اس کی مشروط حمایت کرتے ہیں اور اسے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے سامنے پیش کریں گے۔

اس اعلان کی روشنی میں برطانوی پارلیمنٹ نے جولائی میں قانون آزادی ہند منظور کیا۔ کانگرس کی طرف سے وائسرائے کو یقین دلایا گیا کہ اگر دو ماہ کے اندر اقتدار منتقل کردیا جائے تو انڈین یونین دولت مشترکہ میں شمولیت اختیار کر لے گی۔ چنانچہ مائونٹ بیٹن نے 4جون کی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اقتدار 15اگست 1947ء یا اس کے لگ بھگ منتقل کیا جائے گا۔

اس عاجلانہ انتقالِ اقتدار کے تمام تر فوائد انڈین یونین اور نقصانات پاکستان کے حصے میں آنا تھے۔ انڈین یونین کو حکومت ہند کی انتظامی مشینری عملاً جوں کی توں ورثے میں مل رہی تھی۔ حکومت کے جملہ محکمے اور مسلح افواج کے صدر دفاتر بھی دہلی میں تھے۔ اس کے برعکس پاکستان کا دارالحکومت ابھی وجود میں آنا تھا۔ اس اعتبار سے دو ماہ کا عرصہ اتنا قلیل تھا کہ اس کے اندر انتظامی مشینری اور افواج کی خوش اسلوبی سے تقسیم ناممکن تھا۔ اس عرصے میں وہ بے شمار معاملات سرانجام نہیں دیئے جا سکتے تھے جو پنجاب اور بنگال کے تقسیم شدہ صوبوں کی حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں پاکستان کو درپیش آنا تھے۔

مائونٹ بیٹن اور کانگرسی لیڈروں کے درمیان سودا بازی کی انسانی جانوں کے ضیاع اور ناقابل تصور مشکلات کی صورت میں پاکستان کو جو قیمت ادا کرنا پڑی، وہ بے حد و حساب تھی۔ انہی اندیشوں کے باعث ونسٹن چرچل نے انتقال اقتدار کی اس قلیل مدت کو شرم ناک فرار اور عاجلانہ شکست وریخت، کے مترادف قرار دیا۔ آگے چل کر یہ میعاد دو ماہ میں بدلنے سے جو ہول ناک نتائج پیدا ہوئے، خون کی ندیاں بہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ان کی ذمے داری مائونٹ بیٹن ، نہرو، پٹیل اور وی، پی مینن پر عائد ہوتی ہے۔ اس زمانے میں ہندو قیادت کا سینہ انتقامی جذبات سے لبریز تھا اس کے سر میں یہی سودا سمایا ہوا تھا کہ پاکستان کی روز مرہ سہولتیں اس قدر قطع و برید کر دی جائیں کہ اس کا قائم رہنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔ یوں لگتا تھا کہ اس منفی جذبے نے اسے انسانیت اور انصاف کے تقاضوں سے بالکل اندھا کر دیا تھا۔

تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے، تو کانگرسی لیڈروں کا تیسرا بڑا مقصد پاکستان کو اس کے جائز علاقوں میں جغرافیائی طور پر متصل دیسی ریاستوں اور پانی کے سرچشموں سے محروم کر دینا تھا کہ اگر وہ قائم بھی ہو جائے تو چند ہی ماہ کے اندر معاشی طور پر مفلوج اور سمٹ کر ایک چھوٹا سا خطہ رہ جائے جسے کسی وقت بھی طاقت سے زیر کیا جا سکتا ہو۔ تقسیم ہند کے منصوبے میں بہت ساری خرابیوں میں سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی پاکستان میں شمولیت کیلئے استصواب رائے کی شرط عائد کی گئی تھی۔ بلوچستان شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگے اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے غیر سرکاری ارکان کی منظوری سے مشروط تھا۔ شمال مغربی سرحدی صوبے میں استصواب ایک طوفانی مباحثے کا عنوان بن گیا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب اور ان کے بھائی سرخ پوش لیڈر عبدالغفار خاں کانگرس کے حلقہ بگوش تھے۔2جون کو کانگرس ورکنگ کمیٹی میں گاندھی جی نے تقسیم ہند کی حمایت میں تقریر کی، تو عبدالغفار خاں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ وہ بولنے کے قابل ہوئے تو بار بار یہی کہتے رہے کہ کانگرس کی تقسیم ہند کی حمایت غداری کے مترادف ہو گی۔ دونوں بھائی استصواب رائے نہیں چاہتے تھے۔ اپنے صوبے میں واپس جانے کے بعد انہوں نے شمال مغربی سرحدی صوبے کی آزاد مملکت کا نعرہ لگا دیا۔

پختونستان کا نعرہ خان برادران کو گاندھی جی نے دیا تھا جس کی تہ میں اس صوبے کو انڈیا میں مدغم کرنے کی تدبیر تھی۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ استصواب رائے میں آزاد مملکت کا آپشن بھی شامل کر لیا جائے۔ اس پر مائونٹ بیٹن نے یہ موقف اختیار کیا کہ تقسیم ہند کے منصوبے میں پنڈت نہرو نے نظرثانی کی تھی جس کے تحت کسی بھی صوبے کو آزاد مملکت کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ یہ تدبیر اس وقت کارگر ثابت ہو سکتی تھی جب ریاست جموں و کشمیر کے ذریعے سرحدی صوبے سے جغرافیائی اتصال ہو جاتا ہے۔ پختونستان کا فتنہ اپنے پر پھیلانے لگا تھا۔21جون کو سرخ پوشوں نے یہ قرارداد منظور کی کہ تمام پختونوں کی ایک آزاد پٹھان مملکت قائم کی جائے۔ اس مہم میں افغانستان بھی کود پڑا۔ افغان حکومت نے برطانیہ اور ہند کی حکومتوں کو لکھا کہ دریائے سندھ کے مغربی علاقوں کو، جہاں پٹھان آباد ہیں، فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے کہ وہ افغانستان یا ہندوستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا ایک آزاد مملکت قائم کرنے کے حق میں ہیں۔ برطانوی حکومت نے یہ نامعلوم مطالبہ مسترد کر دیا اس محاذ پر ناکام ہو جانے کے بعد خان برادران نے استصواب رائے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا، صوبہ سرحد کے عوام نے اتنی بڑی تعداد میں پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالے کہ گاندھی جی کی تمام تدبیریں ناکامی سے دوچار ہوئیں، مگر پختونستان کا فتنہ پاکستان کیلئے مسلسل مسائل پیدا کرتا رہا۔

مزیدخبریں