کھلا خط بنام عمران خان

Sep 12, 2018

طارق امین۔۔۔۔ تیسری آنکھ

آج کا کالم وزیراعظم عمران خان کے نام۔ گْو کہ راقم موصوف کے طرز سیاست اور سیاست میں ان کے طرز تکلم کی وجہ سے شروع دن سے ان کا ایک بہت بڑا نقاد رہا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ عمران کی ایک بات جو راقم کو بہت اچھی لگتی ہے وہ یہ کہ جب بھی وہ اپنی کسی بات کا آغاز کرنے لگتے ہیں تو بسم اللہ کے بعد وہ سورہ فاتحہ کی یہ آیات پڑھتا ہے "اِیَّاکَ نَعّبْدہ وَ اِیَّاکَ نَسّتَعین اِھدِنَا الصِّرَاطَ المْستَقِیمَ" راقم کوئی عالم نہیں لیکن اتنا ضرور جانتا ہے کہ جسطرح توحید کے فلسفے کو اجاگر کرنے میں سورہ فاتحہ قرآن پاک کا نچوڑ ہے اسی طرح سورہ فاتحہ کی یہ چوتھی اور پانچویں آیات سورہ فاتحہ کا نچوڑ ہیں۔ بات صرف ان آیات کی دل سے پڑھنے کی ہے۔ ان آیات کی جب فضیلت اور افادیت دیکھتا ہوں تو راقم کی نہ صرف اپنے لیئے بلکہ عمران خان اور دوسرے ہم وطنوں کیلیئے بھی یہی دعا نکلتی ہے کہ اے رَب کریم ہم سب بشمول عمران خان سب کیلئے یہ دْعا قبول فرما۔ بات چل نکلی ہے سیدھے راستے کی تو اسے ہماری تاریخ کا المیہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ایوب خان سے لیکر آج تک سیاسی سے لیکر غیر سیاسی قائدین تک جو بھی اقتدار میں آیا بقول شخصے اس نے ہمیشہ سیدھا رستہ ہی اپنایا لیکن تاریخ اس امر سے بھری پڑی ہے کہ اسکے عمل نے پاکستان کے معاشرے کو کوئی نہ کوئی ایسا انمول تحفہ ضرور دیا ہے جو نہ صرف اسکے ٹریڈ مارک کے طور پر جانا جاتا ہے بلکہ یہ اس حکمران کی لیگسی Legacy کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے جبکہ راقم کی زبان میں جو بعض اوقات کچھ زیادہ ہی دراز ہو جاتی ہے ان حکمرانوں میں سے ہر کسی نے پاکستان دی بیڑی وِچ اک نہ اک ایسا وٹہ ضرور پایا اے جدی وجہ نال آج تک وطن عزیز دی بیڑی پار نہیں لگ سکی۔ اسکی واضح مثال ایوب دور کے امپورٹ پرمٹ اور راشن ڈپو الاٹ منٹ۔ بھٹو دور کا عوامی راج۔ ضیا دور کا ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر، بینظیر کا پہلا ٹین پرسنٹ دور تو نوازشریف کے پہلے دور میں سیاست میں پیسے اور کرپشن کے رْجحان کا آغاز۔ زرداری کے آخری دور میں علی بابا اور چالیس چوروں کی صدائیں تو نواز کے آخری دور کی کرپشن کی انتہا کی لازوال داستانیں اور اسحاق ڈار کی لْٹو تے پْھٹو پالیسی۔ بینظیر اور نواز کے ان ادوار کے درمیان ایک کاغذی شیر بھی مسندِ اقدار پر بیٹھا جسکی غلطیاں نہ صرف افواج پاکستان بلکہ پورا پاکستان آج تک بْھگت رہا ہے۔ یہ تو تھا ماضی، اب آتے ہیں زمانہ حال کی طرف جہاں عمران خان اب اقتدار کے ایوانوں میں جلوہ افروز ہوا ہے۔ دیکھتے ہیں اب اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ سیاست میں متعارف کرائے گئے اپنے ہی گالی کلچر سے کس طرح جان چھڑواتا ہے یا دوسروں کی طرح وہ بھی ایک ٹریڈ مارک ایک چھاپ اپنے ساتھ ہی لیکر جاتا ہے۔ اب جب عوام کی اکثریت نے آپ کو وزیراعظم ہونے کا اعزاز بخشا ہے تو میرے لیئے اور دوسروں کیلئے بھی یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اللہ کریم سے دعا کریں کہ وہ وعدے جو آپ نے عوام سے کیئے ہیں اللہ آپکو انھیں پورا کرنے اور ان پر عملدرآمد کرنے اور کروانے کی توفیق عطا فرمائے۔ عمران صاحب آپ کی بائیس سالہ جدوجہد پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس میں تین چیزیں جو بڑی واضح دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ہیں تنقید، تعمیر اور امید جنکی بنیاد پر آپ نے عوام سے بیشمار وعدے کیئے جنہیں ایک غیرجانبدار تجزیہ نگار آپ کے ویژن کا نچوڑ یا شاخسانہ سمجھتا ہے جبکہ آپ کے ناقدین یا مخالفین اسے کس نام سے پکارتے ہیں اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ خان صاحب! ویژن نظریاتی چیز ہے اسے حقیقت کا روپ دینے کے لئے عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویژن کو حقیقت کا روپ دینا نہایت کٹھن مرحلہ ہے بالکل اس طرح جیسے ماں بچے کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ لِپ سروس والے مشیروں کی باتوں پر دھیان دینے کی بجائے پریکٹیکل لوگوں کو پاس لائیں اور انکی تجاویز پر عمل کریں۔ کچھ لوگ حکومت کے پہلے سو دنوں کو ہنی مون پریڈ کا نام دیتے ہیں لیکن آپ کے معاملے میں یہ بات بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے کیونکہ آپ نے لوگوں سے جس انداز اور جس تعداد میں وعدے کیئے ہیں اس تناظر میں عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ اگر آپ نے ان سو دنوں میں کوئی قابل قدر نظر آنے والے کام نہ کئے اور صرف کمیٹیاں کمیٹیاں اور ٹاسک فورس ٹاسک فورس ہی کھیلتے رہے تو یاد رکھیے پندرہ نومبر کے بعد ایک نہ رْکنے والا طوفان کھڑا ہونے کا خطرہ اپکے دروازے پر دستک دے رہا ہو گا۔ زمینی حقائق اس حقیقت کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ووٹرز کا بیشتر حصہ مڈل اور اپر مڈل کلاس پر محیط ہے جبکہ خط غربت کے قریب اور اسکے نیچے رہنے والے بیشتر افراد کی اکثریت تحریک انصاف کی مخالف پارٹیوں کی حامی ہے۔ خان صاحب اب جبکہ اپکی حکومت نے آتے ہی ان بائیس دنوں میں بجلی، کھاد، گیس اور جن میں دوسری ضروریات زندگی بھی شامل ہیں جس تیزی سے انکے نرخ بڑھائے ہیں آنے والے دنوں میں اپوزیشن ان چیزوںکی مہنگائی کی آڑ میں عوام کے جذبات کے ساتھ کس طرح کھیلے گی شائد آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسکے ساتھ ساتھ ایک اور محاذ جو بڑی شدت کے ساتھ حکومتی اور اپوزیشن کی صفوں کے درمیان جنگی صورتحال میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے وہ ہے متنازعہ الیکشن کا الزام۔ خاں صاحب آپ اس خطرے کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ آگ اگر بھڑک اٹھی تو یہ کہاں تک اپنا اثر دکھا سکتی ہے کیونکہ 2014ء میں اسی طرح کے ایک کھیل جسکے معماروں میں آپکا شمار ہوتا ہے اسکی روداد کے آپ عینی شاھد ہیں لہذا یہ کتنا ہی مناسب اور بہتر ہو کہ ٓاپ ملک کو اس تصادم سے بچانے کے لیئے آنے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس الزام کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی بجائے پارلیمانی کمیشن کا اعلان کر دیں۔ خان صاحب برطانیہ جس کی آپ بہت مثالیں دیتے ہیں اسکی سابقہ وزیراعظم مارگریٹ تھیچر سے کسی نے پوچھا کہ برطانیہ کی تاریخ ساز وزیراعظم بننے کا راز بتانا پسند کریں گی۔ اسکا جواب تھا سمجھدار اور لائق مشیر۔ خان صاحب آپ جس تبدیلی کی بات کر رہے ہیں اور جو تبدیلی کرنے جا رہے وہ نظام میں changes structural کے بغیر ممکن نہیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پالیسیاں بنانے والوں کو پریکٹیکل تجربہ حاصل نہ ہو۔ آرمی کی مثال اپکے سامنے ہے جب تک کسی کو کور کی کمانڈ کا تجربہ نہ ہو وہ آرمی چیف نہیں بن سکتا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فیلڈ فارمیشن کا تجربہ کتنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم صاحب آپ نے اپنی انتظامی مشینری میں جن لوگوں کا انتخاب کیا ہے بعض ناقدین ان پر بیشمار اعتراضات اٹھا رہے ہیں جن میں بیشتر یا تو بْغض پر مبنی دکھائی دیتے ہیں یا معاملات کچھ اور عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں میری گزارشات بالکل مختلف ہیں۔ دوست لوگوں کا عْذر ہے کہ بیشتر بیوروکریٹس وہی ہیں جنہوں نے سابقہ حکومت کے ساتھ کام کیا ہے۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے میں فرداً فرداً ہر کسی کی سی وی پر بات نہیں کر سکتا صرف ایک مثال چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کی دے سکتا ہوں جس نے اپنا پروفیشنل کیرئیر اے سی کینٹ لاہور سے شروع کیا۔ یہ جہانزیب صاحب وہی ہیں جو مشرف دور کے آخری دنوں میں فرانس میں کمرشل کونسلر تھے وہاں انھوں نے سفاتکاری میں وہ جوہر دکھائے کہ فرانس کے صدر تک انہیں ذاتی رسائی حاصل ہو گئی ایک وقت آیا کہ حکومت انہیں فرانس میں سفیر لگانے لگی لیکن نوکر شاہی کی سیاست نے ایسا نہ ہونے دیا ۔ جہانزیب فردِ واحد نہیں پاکستان کی نوکر شاہی اس وقت بھی ایسے نایاب ہیروں سے بھری پڑی ہے کہتے ہیں action speaks louder than words اسکی ایک زندہ مثال کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ لاہور محمد جمیل ناصر خان کی ہے جس نے کولمبیا یونیورسٹی سے Master in economic policy management کی ہے اس شخص کی پاکستان کی تعلیم، زراعت، گورننس اور انکی پاکستان کی اقتصادیات پر اثرات کے حوالے سے اگلے مہینے ایک کتاب " اقتصادی ترقی کے زاویے" مارکیٹ میں آ رہی ہے یقین جانئیے اس کتاب میں اس شخص نے جو لکھ دیا ہے میرا نہیں خیال کہ اس کے بعدپاکستان میں کسی ’’عاطف میاں‘‘ کی ضرورت ہو گی یقیناً اقتصادی میدان میں اسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پولیس کے بارے changes structural کے سلسلے میں اپ نے ناصر درانی کا انتخاب کیا ہے۔ بلاشبہ ناصر درانی بہترین چوائس ہے لیکن اتھارٹی کے طور پر شعیب سڈل کی طرح جرائم کے خاتمے اور نیک نامی میں کسی ایک اور شخص کی کارکردگی مانی جاتی ہے تو وہ ہے سابق آئی جی پنجاب حاجی حبیب الرحمن جسکی مشاورت یقیناً بڑی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ تعلیم میں بہتری کیلیئے دوسری چیزوں کے ساتھ ترکی کی طرح دو سالہ فوجی تربیت قوم کا مزاج مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ اسی طرح تمام مساجد میںدینی علوم کے ساتھ جدید علوم سے آراستہ پیش اماموں کا تقرر شدت پسندی کو روکنے میں بڑا ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ رہی بات ڈیمز کی تعمیر کے متعلق چندے کی تو راقم کے خیال میں امیدوں کی بجائے پریکٹیبلز پر اگر توجہ دی جائے تو شاید کچھ بہتر نتائج برآمد ہوں اسلیئے اگر بیرون ممالک پاکستانیوں کیلئے بانڈز فروخت کئے جائیں تو کہیں بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ آخر میںصرف ایک عرض، لیڈر سنتا سب کی ہے لیکن فیصلے صرف اپنی دانست کے مطابق کرتا ہے راہنمائی لینا کوئی برائی نہیں لیکن توہم پرستی کی نہ ہی معاشرہ اور نہ ہی مذہب اجازت دیتا ہے۔!

مزیدخبریں