میں اور میرے کالم

Sep 12, 2018

تنویر ظہور

کالم نگاری کا باقاعدہ سلسلہ 2012 ء میں ’’نوائے وقت‘‘ سے شروع کیا جو تاحال جاری ہے۔ میرے کالم کا ’’لوگو‘‘ ’’یادیں‘‘ ہے۔ یاد کو یاس نہیں ہونا چاہیے کہ مایوسی کو کفر کہا گیا ہے۔ خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ گزرے ہوئے دنوں کی یاد جسے یاد ایام کہتے ہیں۔ بعض کالم یادگار بھی ہیں۔ میں نے بعض کالم مرحوم ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے بارے میں لکھے، خاص طور پر پنجابی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی وفات پر، کہ اخبارات میں ان پر بہت کم لکھا گیا۔ سلیم کاشر پنجابی کے نامور شاعر تھے۔ ان کی وفات کی ایک سطری خبر بھی اخبارات میں شائع نہیں ہوئی۔ ان کی وفات کے تین ماہ بعد مجھے علم ہوا تو میں نے کالم لکھا۔ میرے کالم دین، سیاست، ادب ، ثقافت اور تہذیب کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کا قول ہے: ’’دل آزاری قلم کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے‘‘ میں نے کوشش کی کہ میرے کالم سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

قرآن سے راہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ میں نے متعدد کالم قرآنی تعلیمات کے حوالے سے لکھے۔ قرآن کا ادنیٰ طالب علم ہوں۔ میں نے لکھا۔ قرآن مجید کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں۔ یعنی قرآن خوانی کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی پیدا کریں۔

اللہ پاک نے اپنی پاکیزہ کتاب قرآن مجید کو شفا کہا اور لوگوں نے اس کو تعویذ بنا کر گلے میں لٹکا لیا۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں شہد کو شفا کہا مگر کسی نے شہد کی بوتل کو اپنے گلے میں نہیں لٹکایا۔ کیونکہ سب کہ پتا ہے کہ شہد کی بوتل کو گلے میں لٹکانے سے شفا نہیں ملے گی بلکہ شہد کے کھانے سے شفا ملے گی۔ اسی طرح قرآن مجید کو تعویذ بنا کر گلے میں لٹکانے سے شفا نہیں بلکہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور عمل کرنے میں شفا ہے۔ حضرت علی کا قول ہے: ’’جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے باتیں کروں تو میں نماز پڑھنے لگتا ہوں اور جب چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ سے باتیں کرے تو میں قرآن پڑھنے لگتا ہوں‘‘ ۔

میں نے قرآن، مولانا غلام مرشد اور علامہ پرویز سے سمجھا۔ ان کے درس قرآن میں برسوں شرکت کی۔ ایف اے کے طالب علمی کے دوران ہی مجھے پرویز صاحب کی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ پرویز صاحب ہر اتوار کو اپنی رہائش گاہ (25 بی گلبرگ لاہور) پر درس قرآن دیتے تھے۔ وہ قرآن کی آیت کی تفسیر اور مفہوم اس طرح بیان کرتے کہ بسا اوقات دو تین آیات پر درس ختم ہو جاتا۔

علامہ اقبال نے فرمایا ’’تو جاہل صوفی اور کامل ملا کے پھندے میں ایسا پھنسا کہ تو نے قرآن مجید سے ہدایت لینا چھوڑ دی۔ قرآن کی آیتوں سے تجھے بس اتنا ہی کام رہ گیا کہ جب تیرے بوڑھے کی روح اٹک گئی تو سورت یسٰین لے کر بیٹھ گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی روح آسانی سے نکل جائے گی۔ مجھے تو افسوس تجھ پر ہے کہ جس کا ایک ایک لفظ زندگی دیتا ہے، اس سے بھی تو نے مرنا ہی سیکھا۔ جس قرآن سے تو نے مرنا سیکھا، کاش اسی قرآن سے تو نے جینا سیکھا ہوتا‘‘ ۔

میرے کالموں کا انتخاب ’’یادیں‘‘ ’’کلاسیک‘‘ کے تحت آغا امیر حسین نے شائع دیا ہے۔ آغا صاحب بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے کالم نگار ہیں۔ جناب مجید نظامی نے میرے کالموں کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی اور محترمہ رمیزہ مجید نظامی نے اس اجازت کو برقرار رکھا۔

کتاب ’’یادیں‘‘ کی ابتدا میں ڈاکٹر خالد جاوید جان، رانا احتشام ربانی اور مجید غنی کی آرا چھپی ہیں۔ میرے کالموں کی اشاعت کا اہتمام میرے دیرینہ رفیق جناب سعید آسی کرتے ہیں۔ کتاب کا فلیپ آسی صاحب نے لکھا۔ ملاحظہ کریں:

’’تنویر ظہور سے وابستہ یادوں کے کس پہلو کو اجاگر کروں اور کس سے صرف نظر کرلوں۔ میں ان کے ساتھ ہمہ وقت کے خوشگوار تعلقات کی بندھی ہوئی گرہ میں کوئی کمزوری درآنے کا ہرگز روادار نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ان کی زندگی کے ہر پہلو کے مفصل احاطہ کا عہد کرتے ہوئے آج صرف یہ گواہی دے رہا ہوں کہ تنویر ظہور اس دھرتی سے جڑے انسانوں کے جذبات کی جزئیات تک کی خبر رکھتے ہیں اور اس کے اظہار میں بھی کبھی بخیلی سے کام نہیں لیتے۔ انہوں نے ’’سانجھاں‘‘ رسالہ کے ذریعے اس دھرتی کے وسینکوں کی سانجھ کو انسان دوستی کے طورپر اجاگر کرنے کے لیے ابلاغ کا جو سلسلہ 70ء کی دہائی میں شروع کیا تھا وہ آٹھ سال قبل ’’نوائے وقت‘‘ میں شروع ہونے والے ان کے کالم ’’یادیں‘‘ کے ذریعے مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان کے یہ کالم درحقیقت ان کی یادوں کے ذخیرے کو پہلو در پہلو کھنگال کر باہر لانے کا راستہ نکالنے کا باعث بنے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے ہر کالم میں اپنی یادوں کی خوشبو بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ’’یادیں‘‘ کی شکل میں مرتب ہونے والی یہ کتاب ان کی انہی کالموں کا انتخاب ہے۔ وہ شاعری سے نثر نگاری تک انسان دوستی کا شاہکار بنے نظر آتے ہیں۔ وہ انسانوں میں اچھائیاں تقسیم کر رہے ہیں اور یہی ان کے لیے توشہ آخرت ہے‘‘

مزیدخبریں