چیف جسٹس نوٹس نہ لیتے تو…

Sep 12, 2018

سعد اختر

30سالوں سے سُن رہے تھے، ڈیم، ڈیم،ڈیم۔مگر یہ ڈیمز تھے جو بننے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ کئی سیاسی حکومتیں آئیں، فوجی ڈکٹیٹر بھی برسرِ اقتدار رہے مگر کوئی بھی ڈیم نہ بنا سکا۔ جبکہ ڈیمز کا بننا پاکستان کے لئے کس قدر ضروری ہے، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ عام لفظوں میں کہا جائے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی ڈیمز کے قیام سے ہی وابستہ ہے۔

آنے والوں سالوں اور مہینوں میں پاکستان کو آبی ذخائر کی جس شدید ترین کمی کا سامنا کرنا ہو گا، آبی ماہرین نے ابھی سے اُس پر اظہارِ خیال کرنا شروع کر دیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل ہماری آنے والی نسلوں کب اور کس قدر متاثر کر سکتے ہیں اُس پر سنجیدگی سے غور و خوض کی ضرورت ہے۔ ڈیمز نہ بنے تو مستقبل قریب میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہو گی۔ جس سے کھیت اور کھلیان تباہی کا منظر پیش کریں گے۔ لوگ پینے کے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس جائیں گے۔ دیگر ضروریات کے لیے بھی پانی دستیاب نہ ہو گا۔آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کے نیچے موجود پانی کے ذخائر میں بتدریج ہونے والی کمی کے باعث اُس کی سطح معمول سے بہت نیچے آ چکی ہے جس سے یہ خدشہ حتمی صورت اختیار کر گیا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں ان ذخائر میں مزید کمی دیکھنے میں آئے گی اور پانی اس سطح تک نیچے گر جائے گا کہ ٹیوب ویلوں کے ذریعے بھی دستیاب نہیں ہو گا۔

ہمارے بعض اہم دریائوں نے بھی ایسی صورت اختیار کر لی ہے کہ اُن میں یا تو بالکل ہی پانی نہیں ہے یا پھر پانی کی شدید قلت ہے۔ دریائے راوی لاہور میں واقع ہے اس میں پانی بہنے کی کہانی کئی سال پرانی ہے۔ اب یہ دریا بالکل خشک ہو چکا ہے کیونکہ بھارت نے اپنے علاقے میں اس دریا پر بند باندھ کر ڈیم بنا لیا ہے۔ جس سے وہ اپنی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ سستی بجلی بھی پیدا کر رہا ہے۔اس طرح راوی میں پانی کی آمد رک گئی ہے۔ جس سے نقصان یہ ہوا ہے کہ راوی کے پانی سے جن کھیتوں کی ہم آبیاری کرتے تھے وہ پانی نہ ملنے سے بنجر نظر آنے لگے ہیں ۔ پنجاب میں گجرات ، وزیر آباد کے مقام پر بہنے والے دریائے چناب اور جہلم کے مقام پر دریائے جہلم کی بھی یہی صورت حال ہے۔ وہاں پانی ضرور ہے لیکن نہ ہونے کے برابر۔دریائے چناب آپ پیدل چل کر کراس کر سکتے ہیں۔ جب یہ صورتِ حال ہو گی تو کھیت کیسے سیراب ہوں گے۔ انہیں پانی نہیں ملے گا تو اُن کا بنجر ہونا لازمی ہے۔ پنجاب زرعی اجناس کا اہم گڑھ ہے۔ ہماری بیشتر زرعی پیداوار پنجاب سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ جن کا معیار اور مقدار اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے۔ ہم پنجاب سے حاصل ہونے والی گندم فروخت کے لیے دوسرے ملکوں کی منڈیوں میں بھی بھیجتے ہیں اور زرِمبادلہ کماتے ہیں ۔ اور اب پانی کی شدید کمی دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ڈیمز نہ بنے تو ہم بہت ساری سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے۔ افسوس کا مقام ہے کہ سیاسی لیڈر شپ نے ’’ڈیمز‘‘ کی ضرورت محسوس ہوتے ہوئے بھی کبھی اس مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی۔ توجہ دی ہوتی تو آج ہمارے ملک میں کئی ڈیمز ہوتے اور ہمیں آبی ذخائر کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بجلی بھی وافر مقدار میںسستی ملتی۔ جس سے عام صارفین پر بلوں کی صورت میں زیادہ بوجھ نہ پڑتا اور صنعتوں کا پہیہ بھی چلتا رہتا۔ صنعتوں کو سستی بجلی ملتی تو پروڈکشن پر بھی زیادہ مالی بوجھ نہ پڑتا اور صنعتی اشیاء سستے داموں لوگوں کو میسر ہوتیں۔ چین کی صنعتی کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ اپنی صنعتوں کو سستی بجلی مہیا کرتا ہے اور بعض صنعتیں ایسی ہیں جن کو چینی حکومت نے 30سالوں کے لیے فری بجلی مہیا کی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین صنعتی اعتبار سے دنیا بھر میں چھایا ہوا ہے اور اُس کی پروڈکشن نے دیگر کئی ممالک کی پروڈکشن کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

سو، ثابت ہوا کہ اگر ہمارے پاس پانی وافر مقدار میں ہو گا جو ڈیموں کی صورت میں ہی ممکن ہے تو بجلی کی پیداوار بھی سستی ہو گی ۔ جو صارفین کو انتہائی سستے داموں مہیا کی جا سکے گی جس سے ایک بڑا صنعتی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ جو ملک صنعتی اعتبار سے مضبوط اور توانا ہوتے ہیں وہ دنیا پر حکمرانی کرتے ہیں۔ صنعتی اعتبار سے کمزور ممالک کو دوسروں کا دستِ نگر رہنا پڑتا ہے۔ اور جن کے ہاتھوں میں کشکول ہوتا ہے وہ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ اُن کی ترقی کے سب راستے رک جاتے ہیں اور خوشحالی اُن سے دور بھاگ جاتی ہے۔

یہ تو اچھا ہوا، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بروقت ایک فیصلہ کیا اور آبی ذخائر کے حوالے سے ایک ازخود نوٹس کیس میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں ایک بڑا قدم اٹھایا اور فیصلہ دیا کہ اگر کالا باغ ڈیم پر کچھ سیاسی جماعتوں یا صوبوں کے تحفظات ہیں تو کچھ اور نئے ڈیمز مختلف مقامات پر بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ ملکی بقا کا فیصلہ تھا جو میاں ثاقب نثار نے قریباً دو ماہ پہلے صادر کیا اور بھاشا، دیامیر وغیرہ ڈیمز کو نہ صرف بنانے کا اعلان کیا بلکہ اس کے لیے فنڈز ریزنگ بھی شروع کر دی۔ اس فیصلے کو ہر مکتبہ فکر نے سراہا ۔ موجودہ حکومت نے بھی ان ڈیمز کی تائید کی ہے۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس مقصد کے لیے وزیراعظم فنڈ قائم کر دیا ہے اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان ڈیمز کے لیے لوگ والہانہ طور پر اپنے عطیات جمع کرا رہے ہیں۔ تاجر ہوں، سکول کے بچے ، عام شہری یا اوورسیز پاکستانی، سب اس فنڈ کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

امید ہے اب یہ ڈیمز بن کر ہی رہیں گے۔ یقیناً ان ڈیمز کے بعد کالا باغ ڈیم کی باری بھی آ جائے گی اور یہ سب ڈیمز پاکستان اور پاکستان کی معیشت کے لیے بے حد کارآمد ثابت ہوں گے۔ لوگ چیف جسٹس اور وزیراعظم کے فنڈز میں جس طرح عطیات جمع کرا رہے ہیں اُسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم میں کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ اگر مقصد بڑا ہو تو وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ لگتا ہے اب کچھ بھی ہو جائے یہ ڈیمز بن کے ہی رہیں گے کیونکہ پاکستانی معیشت کی تقدیر اب ان ڈیموں سے وابستہ ہے۔

آبی ذخائر کو بچانے کے لیے جہاں کچھ ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے۔ وہاں ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہیں پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ عموماً مساجد اور گھروں میں پانی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔ پانی کا استعمال اپنی جگہ، لیکن ہم استعمال کے وقت ضرورت سے زیادہ پانی ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر ہم قوم بن کر ایک ایک بوند کی حفاظت کریں اور اسے ضائع ہونے سے بچائیں تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو پانی کے ایک بہت بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔ پانی کا بحران آنے والے چند سالوں میں اس قدر شدت اختیار کرنے والا ہے کہ شاید کچھ ملکوں کے مابین اس حوالے سے جنگیں بھی ہوں۔ ہمیں ابھی سے اس کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ نا صرف سکولوں، کالجوں کی سطح پر بلکہ تمام یونیورسٹیوں اور دفاتر میں بھی اس حوالے سے ایک بھرپور متحرک تحریک کی ضرورت ہے جس میں میڈیا کے کردار کو پیچھے نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا نے آبی ذخائر کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں اپنا رول ادا کیا اور قوم کو صحیح وقت پر آگہی دی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم آبی ذخائر کو محفوظ نہ بنا سکیں۔ ڈیمز اپنی جگہ لیکن پانی کو بڑے پیمانے پر ضائع ہونے سے بچانا بھی ہماری قومی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

مزیدخبریں