قومی اسمبلی نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کا بل منظور کرلیا، تشدد کرنے والے شخص کو ایک سال قید یاپچاس ہزارروپے جرمانہ یادونوں سزائیں بھی دی جاسکیں گی۔

12 مارچ 2013 (20:36)
قومی اسمبلی نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کا بل منظور کرلیا، تشدد کرنے والے شخص کو ایک سال قید یاپچاس ہزارروپے جرمانہ یادونوں سزائیں بھی دی جاسکیں گی۔

اسپیکرفہمیدہ مرزا کی صدارت میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ق کی رکن ڈاکٹرعطیہ عنایت اللہ نے بچوں کو جسمانی سزا کی ممانعت کا بل پیش کیا، جس کی ایوان نے متفقہ منظوری دی ۔ بل کے مطابق بچوں کوکسی بھی طورجسمانی سزانہیں دی جاسکے گی ، تشدد کرنے والے شخص کو ایک سال قید یا پچاس ہزار جرمانہ یا دونوں سزا ئیں دی جاسکیں گی ،جسمانی سزا کے باعث زخمی ہوجانے پر پہلے سے موجودقوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔ جسمانی سزا دینے والے شخص کیخلاف بچہ خود یا اس کے والدین یا سرپرست مجسٹریٹ کو درخواست دے سکیں گے، اس قانون کا نفاذ سرکاری، پرائیویٹ اوردیگراداروں پربھی ہوگا۔