سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی ناقابل شناخت لاشوں کوسپرد خاک کرنے کے متعلق تفتیشی افسرنے سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرادی۔

12 مارچ 2013 (20:30)

سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے تفتیشی افسرنے عدالت کوبتایا کہ ابھی تک ڈی این اے رپورٹ نہیں آئی لہذٰا اس کے لیے وقت درکارہے۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت پندرہ مارچ تک ملتوی کردی۔ سندھ ہائیکورٹ میں ایک اوردرخواست دائرکی گئی ہے جس میں موقف اختیارکیا گیا کہ اتنا بڑا حادثہ تھا جس میں سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے لیکن تفتیشی افسر نے شواہد ضائع کردیئے جس پرعدالت نے تفتیشی افسرکونوٹس جاری کردیئے۔