الیکشن کمیشن آف پاکستان اور حکومت کے درمیان کاغذات نامزدگی فارم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

12 مارچ 2013 (19:44)

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سندھ سے تعلق رکھنے والے ممبر روشن عیسانی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر کی منظوری کے بغیرنئے کاغذات نامزدگی فارم کی چھپائی کے فیصلے پر اختلافی نوٹ تحریرکر دیا ہے۔ جس میں ان کا کہنا ہے کہ صدر کی منظوری حاصل کیے بغیر کاغذات نامزدگی کی چھپائی کا فیصلہ درست نہیں ہے، جبکہ کمیشن کے دوسرے رکن شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر قائم ہے اور اگر کوئی فیصلے کیخلاف عدالت جانا چاہتا ہے تو وہ جاسکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صدر اب نئے کاغذات نامزدگی کو مسترد بھی کر دیں تب بھی الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر قائم رہےگا۔ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کےانعقاد کےلیے مناسب اقدامات اٹھا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب وزارت قانون نے نئے کاغذات نامزدگی کا مسودہ صدر کو بھجوا دیا ہے جس میں وزارت قانون نےاعتراضات بھی اٹھائے ہیں