کراچی: ڈاکوﺅں نے 3 سکیورٹی گارڈز مار ڈالے، دستی بم سے حملہ، 3 بچوں سمیت 4 زخمی

12 مارچ 2013
کراچی: ڈاکوﺅں نے 3 سکیورٹی گارڈز مار ڈالے، دستی بم سے حملہ، 3 بچوں سمیت 4 زخمی

کراچی (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) اورنگی ٹاﺅن کے علاقے علی گڑھ بازار میں ڈاکوﺅں نے بینک کی کیش وین کو لوٹنے کے دوران فائرنگ کرکے تین سکیورٹی گارڈز کو ہلاک کر دیا اور لاکھوں روپے لوٹنے کے بعد فرار ہوتے ہوئے دستی بم بھی پھینکا جس کے دھماکے سے تین بچوں سمیت چار افراد زخمی بھی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈاکو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے علی گڑھ بازار میں بنک سے رقم لے جانے والی کیش وین کو روک کر لوٹ مار کی اور اس دوران کیش وین کی حفاظت پر مامور سکیورٹی گارڈز کی جانب سے مزاحمت پر اندھادھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تینوں سکیورٹی گارڈز غلام محمد‘عرفان اورامان اللہ خان دم توڑ گئے۔ اس دوران ڈاکوﺅں نے دستی بم بھی پھینکا جس کے پھٹنے سے دھماکہ ہوا اور بم کے ٹکڑے لگنے سے 3 بچے اور ایک راہ گیر زخمی ہوا جبکہ ڈاکو لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ اس دوران ایک ڈاکو پکڑا گیا۔بعدازاں ڈاکوﺅں نے اپنے ساتھی ملزم کو چھڑانے کیلئے سول ہسپتال پر حملہ کر دیا، چار پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد زخمی ساتھی کو چھڑا کر لے گئے۔ فائرنگ سے سول ہسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔علاوہ ازیں کراچی کے سول ہسپتال سے فرار ہونے والا مجرم جیل کا قیدی نکلا۔ نجی ٹی وی کے مطابق مجرم قیوم بلوچ سزائے موت کا قیدی ہے اور اسے 2001ءمیں ڈکیتی اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مجرم کو ساتھیوں نے فائرنگ کر کے سول ہسپتال سے فرار کرایا جس سے چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ڈی آئی جی جیل نصرت منگن کے مطابق قیدی کو مناسب سکیورٹی نہ دینے پر اسسٹنٹ جیلر کو معطل کر دیا۔