8 نئی وزارتوں کی منظوری مفادات کونسل سے نہیں لی گئی، خصوصی کمیٹی سینٹ میں انکشاف

12 مارچ 2013

اسلام آباد (ثناءنیوز) آئین میں 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنانے کے بارے میں سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ صوبائی خودمختاری پر عملدرآمد کے حوالے سے معاملات میں شفافیت نہ لائی گئی تو مرکز اور صوبوں میں تصادم کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ کمیٹی میں کابینہ اور بین الصوبائی رابطہ کی وزارتوں کے حکام نے اعتراض کیا ہے کہ صوبوں کے سپرد معاملات پر وفاق میں 8 نئی وزارتوں کے قیام کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہیں لی گئی تھی۔ وزیراعظم نے ایک کمیٹی کی سفارش پر ان نئی وزارتوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ سینٹ خصوصی کمیٹی نے متعلقہ کمیٹی کے نوٹیفیکشن، قواعد و ضوابط منٹس وزیراعظم کے احکامات سے متعلق اعلامیے اور سمری کی 15 دنوں میں کاپیاں مانگ لی ہیں۔ کمیٹی نے منتقل وزارتوں کے اثاثوں کے حوالے سے متعلقہ دونوں وزارتوں کی بریفنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس پیر کو کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جہانگیر بدر کی صدارت میں پارلیمنٹ ہا¶س میں ہوا۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے ہیلتھ کے پروگرام وفاق میں رکھنے کے بارے میں فیصلے کی کاپی بھی مانگ لی ہے۔ کابینہ ڈویژن اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حکام کو وفاق میں نئی وزارتوں کی تشکیل کے بارے آئینی جواز پیش نہ کر سکے۔ سینیٹر زاہد خان، سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ بیوروکریسی نے آئین سے انحراف کیا ہے۔ وزیراعظم کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا اور انہیں غلط دستاویز بھجوائی گئیں، معاملہ نیب کے حوالے ہونا چاہئے۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ بے چارے وزیراعظم کو کچھ علم تھا کہ پارلیمنٹ کو اس بارے میں کچھ آگاہ کیا گیا۔ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ نئی وزارتیں وزیراعظم کا انتظامی اختیار تھا۔ سینیٹرز نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی معاملات پر وفاق میں نئی وزارتیں نہیں بن سکتیں۔ اس معامے پر سینیٹرز نے اجلاس میں موجود حکام کو جھاڑ بھی پلا دی اور کہا کہ کوئی بھی انتظامی اختیار آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔