گیس منصوبے پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینا احسن اقدام نہیں: مشاہداللہ

12 مارچ 2013

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خبرنگار) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے سے پہلے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس کی تفصیلات سامنے آنے پر دیکھیں گے، قومی مفاد میں ہوا تو اس کی حمایت کرینگے۔ حکومت ختم ہونے سے سات دن پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد اور اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینا احسن اقدام قرار نہیں دئیے جا سکتے۔ ق لیگ نے گیس پائپ لائن کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ق لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ منصوبے کے سنگ بنیاد رکھنے جانے کے لئے امریکی دباﺅ مسترد کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان گیس منصوبے کو ہر صورت میں مکمل کرے گا۔ وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی لاہور کی صدر ثمینہ خالد گھرکی اور سیکرٹری اطلاعات عابد حسین صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کی تنصیب کے معاہدے پر دستخط پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ یہ معاہدہ جمہوریت کی فتح ہے آمرانہ دور میں کبھی اس طرح کے معاہدے پورے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کی توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے پختہ عزم کر رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہا کہ 2014ءمیں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے مکمل ہونے پر پاکستان میں توانائی بحران پر بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا ۔ اس منصوبے سے برادر ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہو گا جس سے معاشی شعبے میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور دونوں ملکوں کی معشیتوں کے باہمی انحصار سے پاکستان اور ایران کے عوام قریب تر ہو جائیں گے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہ پاک ایران گیس منصوبے پر کام کا آغاز تاریخی کارنامہ ہے، صدر آصف علی زرداری نے نئی تاریخ لکھ دی ہے جس طرح قائد اعظمؒ نے پاکستان بنا کر ، ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1973 ءکا آئین بنا کر اور ایٹمی ٹیکنالوجی دے کر ، بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی دے کر تاریخ لکھی تھی، صدر زرداری نے امریکی دباﺅ مسترد کرتے ہوئے بے مثال جرا¿ت کا مظاہرہ کر کے پوری قوم کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا ہے ۔ پیر کو اسلام آباد روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منظور وٹو نے کہا کہ توانائی بحران سے نمٹنے اور قومی صنعت کی پیداوار بحال کرنے کے لئے پاک ایران گیس معاہدہ بہت اہم ہے، اس سے ہمیں انتہائی مناسب نرخ پر 75 کروڑ مکعب فٹ گیس ملے گی جبکہ 2 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل ہو گی۔ منظور احمد وٹو نے کہا کہ ان فیصلوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی حقیقت پسندانہ ، قومی اُمنگوں سے ہم آہنگ اور مضبوط ہوئی ہے، خطے میں بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت کے آگے بند باندھنے کے لئے چین اور ایران ہمارے دیرینہ آزمودہ اور قابل اعتبار دوست ممالک ہیں جنہوں نے ہر آزمائش میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک ، عوام اور جمہوریت کے لئے بے مثال قربانیاں دے چکی ہے جبکہ صدر زرداری کی مدبرانہ اور مفاہمانہ پالیسی کے باعث جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوط ہوئے، پاکستان کی ترقی اور قومی مفاد میں اہم فیصلے ہمیشہ پیپلز پارٹی نے کئے۔ پالیسیوں کے تسلسل کے لئے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھرپور عوامی حمایت اور فیصلہ کن عوامی مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔