ملک میں تبدیلی ووٹ سے ہی ممکن ہے، انتخابات شفاف ہونگے: وزیراعظم

12 مارچ 2013

اسلام آباد (اے پی پی + آن لائن) وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے آئندہ انتخابات شفاف انداز میں منعقد کرانے کیلئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جمہوری ملک میں تبدیلی صرف ووٹ کے ذریعے ممکن ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں اراکین قومی اسمبلی سید عنایت علی شاہ، بیگم ثریا جتوئی اور اپنے معاون خصوصی سید قاسم علی شاہ سے الگ الگ بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت نے لگن کے ساتھ عوام کی خدمت کی۔گزشتہ پانچ برسوں میں جتنا ترقیاتی کام ہوا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ملک میں مضبوط اور دیرپا جمہوریت کیلئے شفاف ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کو مضبوط بنایا ہے تاکہ حکومت کی تشکیل میں عوام کی پسند کی شفاف انداز میں عکاسی ہو۔ دریں اثنا وزیراعظم سے زرعی بنک کے صدر احسان الحق اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکاء اشرف نے بھی ملاقات کی اس موقع پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور موجودہ حکومت نے زرعی شعبہ کے فروغ کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے۔ پی پی پی نے ہمیشہ کسانوں اور دیہی عوام کے مفادات کا تحفظ کیا اور آج پاکستان گندم برآمد کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے سینیٹر ہمن داس اور سینیٹر امرجیت ملہوترا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت غیر مسلم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے تمام تر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ملک کا آئین تمام شہریوں کو ذات، رنگ یا عقیدہ سے قطع نظر یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ حکومت غیر مسلم پاکستانیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ہرممکن اقدامات کو یقینی بنائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں غیر مسلموں کے لئے کوٹہ اور قومی اسمبلی میں نشستیں مختص کرنے سے انہیں قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں لانے کی راہ ہموار ہوئی۔ ادھر آسٹریلوی وزیراعظم کے خصوصی نمائندے انگس ہوسٹن نے وزیراعظم سے ملاقات کی اس موقع پر وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ پاکستان بحالی عمل اور انسانی سمگلنگ کے باعث درپیش مشکلات کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے پاک آسٹریلیا تعلقات بہت اچھے ہیں اور تعاون قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے عوام کے لئے آسٹریلوی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ امداد خصوصاً امدادی سنٹروں کے قیام کو سراہا۔ ائر چیف مارشل (ر) انگس ہوسٹن نے آسٹریلوی حکومت کی طرف سے انسانی سمگلنگ کو چیک کرنے کی کوششوں اور پالیسیوں بارے بھی آگاہ کیا اور عزم کیا کہ آسٹریلیا انسانی سمگلنگ کی کمی کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔