این آر او عملدرآمد کیس : ریفرنس سے وزیراعظم کو کس بنیاد پر نکالا‘ تحقیقات کا انجام کیا ہوا : سپریم کورٹ

12 مارچ 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ نیب نے وزیراعظم اور تعینات ہونے والوں کو ریفرنس سے نکال دیا اور صرف سیکرٹری کے خلاف ریفرنس تیار کیا گیا۔ عدالت کو دیکھنا ہو گا کہ وزیراعظم اور تعینات ہونے و الوں کو کس بنیاد پر نکالا گیا اور تحقیقات کا منطقی انجام کیا ہوا ؟ عدالت نے کیس کی سماعت آج منگل 12 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عدنان اے خواجہ کی تعیناتی اور احمد ریاض شیخ کی ترقی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی تو پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ایک بااختیار اور خودمختار ادارہ ہے۔ سپریم کورٹ اس کی تفتیش میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے سے ہاتھ اٹھا لے اور نیب کو اس کا کام کرنے دے کیونکہ مذکورہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا نہ ہی یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔ جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ کیا نیب کے پاس لامحدود صوابدیدی اختیار ہے یا اسے قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ کے کے آغا نے کہا کہ وزیراعظم اور عدنان خواجہ و احمد ریاض شیخ کے خلاف تحقیقات میں کچھ ثابت نہیں ہوا اس لئے انہیں ریفرنس میں نہیں ڈالا گیا۔ جسٹس اطہر سعید نے کہا کہ نیب نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنا فیصلہ دے دیا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا کوئی ا ختیار ہی نہیں۔ کے کے آغا نے کہا کہ عدنان خواجہ کی تقرری اور احمد ریاض کی ترقی خالصتاً حکومتی دائرہ اختیار ہے اس سے عدالت کا کوئی لینا دینا نہیں اگر کسی کا حق متاثر ہوا ہے تو وہ عدالت سے خود رجوع کر سکتا ہے جس پر جسٹس اطہر سعید نے کہا کہ اگر ایک ٹیکنیکل ادارے کا سربراہ ان پڑھ آدمی کو لگا دیا جائے تو کیا عدالت اسے نہیں دیکھ سکتی تو کے کے آغا نے کہا کہ جب قانون میں تعلیمی پابندی نہیں تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ تفتیش مکمل اور ریفرنس دائر کر دیا اب نیب کو عدالت کا دائرہ اختیار کیسے اور کیوں یاد آیا۔ کے کے آغا نے کہا کہ ریفرنس ان کے خلاف دائر کیا گیا جنہوں نے کچھ غلط کیا جن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا ان کو نیب نے بری کر دیا۔