نگران وزیراعظم‘ تعیناتی کا عمل مکمل کرنے کی انتہائی حد 24 مارچ ہو گی

12 مارچ 2013

اسلام آباد (عترت جعفری) ملک کے اندر نگران وزیراعظم کی تعیناتی کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے تاہم آئین میں نگران وزیراعظم کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی کنفیوژن نہیں ہے۔ نگران وزیراعظم کا تقرر 17 مارچ کو بھی ہو سکتا ہے اور اس عمل کو مکمل کرنے کی انتہائی حد 24 مارچ ہو گی اور یہی عمل 16 مارچ سے صوبوں میں بھی شروع ہو گا اور اسے بھی 24 مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 224 اور 224 اے کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے خط کے ذریعے تین نام وزیراعظم کو بھیجنے ہیں۔ وزیراعظم ان میں سے کسی ایک نام کو قبول کر لیں یا اپوزیشن لیڈر جوابی طور پر وزیراعظم کے تجویز کردہ ناموں میں سے کسی کو قبول کر لیں تو قومی اسمبلی‘ کابینہ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی 16 مارچ کی شب 12 بجے مدت پوری کر کے سابق ہو جائیں گے اگر یہ اتفاق رائے نہیں ہوتا تو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی جس میں سینیٹرز شامل ہو سکتے ہیں فیصلہ کرے گی اور اسے فیصلہ کے لئے تین روز یعنی 20‘ 21 اور 22 مارچ ملیںگے اگر پارلیمانی کمیٹی یہ فیصلہ نہیں کر سکتی تو یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر کو چلا جائے گا اور انہیں فیصلہ کے لئے 23 اور 24 مارچ کے دو روز ملیں گے۔ الیکشن کمشن پانچ ارکان پر مشتمل ہے جہاں اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر نگران وزیراعظم کا انتخاب ہو جائے گا اور نگران وزیر ان ہی چار افراد میں سے ہو گا جن کے قائد ایوان یا قائد حزب اختلاف نے تجویز کئے ہوں گے یعنی وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان عدم تعاون کا منطقی نتیجہ ہر حال میں 24 مارچ کو سامنے آ جائے گا جب چیف الیکشن کمشنر نگران وزیراعظم کا اعلان کر دیں گے۔ یہ عمل صوبوں میں اسی طرح ہو گا۔ پنجاب میں پی پی پی نے سابق جج عامر رضا اور جسٹس ریٹائرڈ عارف چودھری اور مسلم لیگ (ن) نے جسٹس ریٹائرڈ میاں اللہ نواز اور بزنس مین خواجہ اظہرکے نام نگران وزیراعظم کے طور پر زیر گردش ہیں۔