قائمہ کمیٹی کی ڈیپوٹیشن پر پانی و بجلی کے محکموں میں تعینات ملازمین واپس بھجوانے کی سفارش

12 مارچ 2013

اسلام آباد (ثناءنیوز) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے ڈیپوٹیشن پر پانی و بجلی کے محکموں میں تعینات ملازمین کو ان کے محکموں و اداروں میں فی الفور واپس بجھوانے کی سفارش کر دی ہے ۔ کمیٹی نے پشاور میں 107 میگاواٹ کے تعمیر پاور پراجیکٹ کی لاہور میں افتتاحی تقریب کے انعقاد کی تحقیقات کی بھی ہدایت کر دی۔ صدر مملکت نے منصوبے کا افتتاح کیا تھا ۔ کمیٹی نے درگئی میں گرڈ سٹیشن کی تباہی میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 ، 10 لاکھ معاوضے دینے کی سفارش کی ہے ۔ سیکرٹری پانی و بجلی سکندر رائے نے بجلی کے طویل بریک ڈاﺅن کے بارے میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر خود ہی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط قرار دےدیا اور کہا کہ تحقیقات دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ قائمہ کمیٹی نے تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم ہاﺅس بجھوانے سے قبل قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی ۔ گزشتہ روز چیئرمین کمیٹی سینیٹر زاہد خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کمیٹی نے بجلی کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر نظرثانی کی سفارش کی اور کہا کہ ٹیرف کے تعین کےلئے 30 دنوں کے بجائے 45 دنوں کا ٹائم فریم مقرر کیا جائے۔ کمیٹی نے بجلی پیدا کرنے اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں سنیارٹی کے مطابق ملازمین کو ترقیاں دینے اور ڈیپوٹیشن پر تعینات ملازمین کو واپس بجھوانے کی ہدایت کی ۔ کمیٹی نے بجلی کے منصوبوں کے تعمیراتی کاموں کی رپورٹس طلب کر لیں۔ علاوہ ازیں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ داسو ڈیم کےلئے عالمی بینک نے 70 کروڑ ڈالر کا قرضہ دیا ۔ اسی طرح گول ان گول ڈیم کےلئے امریکہ نے 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد دی۔