صوبائی حکومتیں ٹھیک کام کریں تو عدالتوں پر بھی بوجھ کم ہو‘ چیف جسٹس

12 مارچ 2013
صوبائی حکومتیں ٹھیک کام کریں تو عدالتوں پر بھی بوجھ کم ہو‘ چیف جسٹس

اسلام آباد(صلاح الدین خان / نمائندہ نوائے وقت) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں ٹھیک کام کریں تو عدالتوں پر بھی بوجھ کم ہو دن بھر مصروفیت کے باوجود رات کو نیند نہ آنے پر اکثر رات گئے تک ٹی وی پروگرام دیکھتے رہتے ہیں لاہور سانحہ کی خبر دیکھ کر ازخود نوٹس لےا ، سابق وزیر اعظم گیلانی کی توہین عدالت اور سوئس کیس معاملے میں برطرفی میں اگر عدالت آئین و قانون سے ہٹ کر کوئی فیصلہ دیتی توہر طرف سے عدلیہ کے کردار پر انگلےاں اٹھتیں مگر عدالتی حکم پر کسی نے اعتراض نہ کےا، پاکستان کی جمہوری تاریخ میں وہ سب سے زےادہ لمبا عرصہ گزارنے والے وزیراعظم ہیںعدالت ان کی اپنی سزا کے خلاف اپیل کو بھی آئین وقانون کے مطابق دیکھے گی۔ عدالت عظمیٰ میں حقائق کو چھپاکر بار بار جھوٹ بولنے اور اپنے موقف سے انکارپر ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس اور ایس پی ماڈل ٹاﺅن کی سرزنش جبکہ میڈےا کے کردار کی تعریف کی گئی یہ ریمارکس چیف جسٹس اور دیگر ججز نے گذشتہ روز مختلف کیسز کی سماعت کے دوران دئیے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے سانحہ لاہورکیس کی سماعت کے دوران اس وقت سخت برہمی کا اظہار کےا جب ایڈیشنل آئی جی پنجاب خان بیگ نے کہا کہ عیسائی بستی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیئے پولیس کو اسے خالی کروانے کا حکم دےا گےا جبکہ دوسری جانب انہوں نے کہا کہ پولیس نے عیسائی بستی خالی نہیں کروائی وہ انہوں نے خود ہی خالی کی۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا آپ کی ےادداشت کمزور ہے ےا آپ کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے میڈےا بہت ایڈوانس ہے آج ےا کل اصل حقائق سامنے آہی جائیں گے اور آپ کو اپنی غلط بےانی اور جھوٹی رپورٹ کا خمےازہ بھگتنا پڑے گا نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے ایک پل آپ کہتے کے بستی خالی کرانے کا پولیس کو حکم دےا دوسرے پل آپ اس سے انکار کرتے ہیں؟ ایک موقع پر ایس پی ماڈل ٹاﺅن اعجاز شفیع نے روسٹرم پر آکر بات کی تو چیف جسٹس نے استفسار کےا وہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتاےا کہ وہ ماڈل ٹاﺅن کے ایس پی ہیں اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کےا بادامی باغ سانحہ کی تفتیش ماڈل ٹاﺅن میں بیٹھ کر ہورہی ہے آپ کو عدالت نے نہیں بلاےا آپ کا معاملے سے کےا تعلق؟ ایس پی کا کہنا تھا کہ وہ ریکارڈ لے کر آئے ہیں اور معاملے کے حوالے سے کچھ معلومات رکھتے ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ معلومات کےا؟جو ٹی وی پر ہم نے دیکھا وہی کچھ بتاےا جارہا ہے۔