بادامی باغ واقعہ : قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

12 مارچ 2013

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں سانحہ بادامی باغ کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد وزیر مملکت اکرم مسیح گل نے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس چودھری عبدالغفور کی زیر صدارت ہوا۔ مذمتی قرارداد میں بادامی باغ واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور کہا گیا کہ مسیحی برادری کے گھروں کو جلانے کی مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد میں واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمشن قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ ایم کیو ایم نے بادامی باغ واقعہ پر قومی اسمبلی اجلاس سے واک آ¶ٹ کیا۔ وسیم اختر نے کہا کہ آئین سے اقلیت کا لفظ نکال دیا جائے۔ مذہبی انتہا پسندوں کو ہمیشہ فری ہینڈ دیا گیا۔ انتہا پسندی کو فری ہینڈ نہ دیا جاتا تو ایسے واقعات بھی نہ ہوتے۔ ایم کیو ایم ایسے واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پنجاب کو بدنام کرنے کے لئے بادامی باغ واقعہ سازش کے تحت کیا گیا۔ اکرم مسیح گل کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں تحفظ نہیں دے سکتے تو ایک صوبہ بنا دیں۔ لوگوں کو جان بوجھ کر موقع دیا گیا کہ وہ ہماری آبادی کو جلا ڈالیں ہمیں قائدؒ کا پاکستان چاہئے جس میں ہمیں مساوی حقوق دئیے گئے تھے، ہم توہین رسالت کا سوچ بھی نہیں سکتے، اے این پی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ بادامی باغ واقعہ غیر انسانی فعل ہے، ریاست کی غلطی کی معافی مانگتی ہوں، پنجاب کو اب ذمہ داری لینا ہو گی اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے۔ پنجاب ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ پی پی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ پنجاب پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے، بادامی باغ واقعہ کو چھپانا بے حسی ہے، واقعہ پر فوٹو سیشن کرائے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ارکان اگر امن و امان کی صورتحال پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس پر اعتراض نہیں ہو گا۔ وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے کہا کہ وقفہ سوالات کی کارروائی معطل کر کے امن و امان کی صورتحال پر بحث کرائی جائے۔ زاہد حامد نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر بات ہونی چاہئے تاہم وقفہ سوالات کی کارروائی معطل نہ کی جائے۔ آسیہ ناصر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پنجاب میں اقلیتیں غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہیں۔ جواجہ سہیل منصور نے کہا کہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ملک کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ انسداد دہشت گردی دوسرا ترمیمی بل 2013ءپیش کر دیا گیا تاہم کورم پورا نہ ہونے کے باعث منظور نہ ہو سکا۔ بل وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے پیش کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی زاہد حامد نے بل کی مخالفت کی۔ بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے گا۔ وزیر پانی و بجلی چودھری احمد مختار نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں کہا ہے کہ 5 سال میں 90 ارب روپے کی بجلی چوری ہوئی۔ واپڈا ملازمین بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ بجلی چوری کی وجوہات خراب اقتصادی صورتحال، ٹیرف میں اضافہ ہے۔ مارچ 2008ءسے بجلی کے نرخوں میں 13 گنا اضافہ ہوا۔ قومی ا سمبلی کا اجلاس صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی نے پیر کو اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں لاہور میں بادامی باغ میں رونما ہونے والے واقعہ کی مذمت کی گئی جس کے نتیجہ میں مسیحی برادری کے گھروں اور دکانوں کو جلا دیا گیا۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر توہین رسالت کا الزام ثابت ہو جائے تو وہ بھی قابل مذمت ہے۔ یہ قرارداد پیپلز پارٹی کے اقلیتی رکن سلیم خورشید کھوکھر نے پیش کی، قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اس اقدام کی مذمت کرتا ہے اور توہین رسالت کا الزام ثابت ہو جائے تو اس کی بھی مذمت کرتا ہے۔ صوبہ پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے ادارے معصوم پاکستانیوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ قرارداد میں حکومت سندھ سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ معاملہ حکومت پنجاب کے سامنے اٹھائے۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ میں بلڈ گروپ کا بھی اندراج کیا جائے۔ یہ مطالبہ اتفاق رائے سے منظور ہونے والی ایک قرارداد پر کیا گیا، جو متحدہ قومی موومنٹ کی خاتون رکن بلقیس مختیار نے پیش کی تھی۔ علاوہ ازیں اقلیتی رکن اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر شریک ہوئے۔ اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) ایم کیو ایم نے بادامی باغ واقعہ کے خلاف سینٹ سے واک آﺅٹ کیا جبکہ دیگر جماعتوں نے واقعہ کی شدید مذمت کی۔ طاہر مشہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بادامی باغ واقعہ میں ہمیں شرم سے مر جانا چاہئے، ہماری سوچ کیسی ہے کہ دہشت گردوں نے 175مکانوں کو آگ لگا دی، مہذب معاشروں میں اقلیتوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوتا۔ جس وقت واقعہ پیش آیا پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور پنجاب حکومت کہاں تھی۔ بادامی باغ واقعہ پر تحریک التوا بھی پیش کی گئی۔ تحریک التوا محسن لغاری اور سعید غنی نے پیش کی۔ محسن لغاری کا کہنا تھا کہ منظم سازش کے تحت مسیحی برادری کے گھروں کو خالی کرا کے آگ لگائی گئی۔ سینٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹر صابر بلوچ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وینزیلا کے مرحوم صدر ہوگو شاویز کی جمہوریت کیلئے خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایوان میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ سینٹ میں کیپٹل یونیورسٹی اسلام آباد بل اور پاکستان سائیکلوجیکل بل پیش کر دیا گیا۔ گذشتہ روز سینٹ کا اجلاس شروع ہوا تو سینیٹر محسن لغاری نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایوان معمول کی کارروائی روک کر بادامی باغ کے واقعے پر بحث کرے۔ قائم مقام چیئرمین سینٹ صابر بلوچ نے محسن لغاری کی اس تحریک کو منظور کرتے ہوئے بحث شروع کروائی۔ سینیٹر محسن لغاری نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ سے میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ یہ ایک منظم سازش کے تحت مسیحی کمیونٹی کے گھروں کو خالی کرا کے آگ لگائی گئی۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب کی ذمہ داری تھی کہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جاتا پنجاب حکومت اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی نے کہاکہ کوئی مسلمان ناموس رسالت کے خلاف بات برداشت نہیں کر سکتا لیکن اس کے نام پر ذاتی مقاصد پورے کرنے کی مذمت کرنی چاہئے۔ ناموس رسالت قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ اس سانحہ کی جتنی بھی ذمت کی جائے کم ہے، اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہونی چاہئے۔ سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ ہم 5سال سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں، قومی مسائل پر مفادات سے بالاتر ہوکر بات کرنی چاہئے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اس واقعہ کے حوالے سے مذہب کو بدنام نہ کیا جائے۔ اس واقعہ میں ملوث افراد انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔ سینیٹر عبدالحسیب نے کہاکہ ایوان اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا، پولیس، صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری نہ کر رہی ہوں تو اس ایوان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ وزیراعظم اس ایوان میں آکر ارکان کو اعتماد میں لیں۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے کہاکہ بادامی باغ واقعہ ایک بدنما داغ ہے جس کے ذریعے حیوانیت کا مظاہرہ کیا گیا۔ سینیٹر ایم حمزہ نے کہاکہ بادامی باغ جیسے واقعات سے اسلام بدنام ہوتا ہے، جنہوں نے یہ جرم کیا ہے انہیں سخت سزا ملنی چاہئے، جن لوگوں نے یہ جرم کیا انہوں نے اسلام کا دنیا بھر میں تشخص خراب کیا ہے۔ علماءکرام گلی محلوں میں اس حوالے سے شعور اُجاگر کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ نے سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ نہ اسلم رئیسانی نے ہزارہ ٹاﺅن اور نہ قائم علی شاہ نے عباس ٹاﺅن میں حملہ کرایا اس طرح شہبازشریف نے بھی بادامی باغ پر حملہ نہیں کرایا۔ عباس ٹاﺅن کے متاثرین آج تک سڑکوں پر ہیں جبکہ بادامی باغ متاثرین کے گھروں کی 24گھنٹے میں تعمیر شروع ہو گئی۔ متاثرین کو 5لاکھ روپے فی کس امداد دی گئی۔