قتل عام بند نہ ہوا تو ملکی نظام جام کر دینگے: وفاق المدارس العربیہ

12 مارچ 2013

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ موجودہ حکومت سے کسی بھلائی کی توقع نہیں، نگران اور آنے والے حکومتوں نے علما وطلبا کے قتل کا سلسلہ بند اور قاتلوں کو گرفتار نہ کیا تو ہم پورے ملک کی سڑکوں پر درس گاہیں لگا کر ملک کا نظام جام کر دیں گے۔ دینی مدارس کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بین الاقوامی ایجنڈے اور اسلام دشمنوں کی ایما پر علما وطلبا کو شہید کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، پارلیمنٹ کی غیر اسلامی قانوی سازی کو سروں پر کفن باندھ کر روکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے کتاب بردار پیغام امن مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا حنیف جالندھری، مولانا عبدالغفور حیدری جنرل سیکرٹری جمعیت علما اسلام، مولانا قاضی عبدالرشید ڈپٹی سیکرٹری جنرل، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا نذیر فاروقی، مولانا عبدالغفار، مفتی کفایت اللہ، مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا ارشد الحسینی، مولانا پیر عزیزالرحمان ہزاروی اور دیگر نے خطاب کیا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری حنیف جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھلائی کی توقع نہیں، نگران اور آنے والے حکومتوں کے علما وطلبات کے قتل کا سلسلہ بند اور قاتلوں کو گرفتار نہ کیا تو ہم پورے ملک کی سڑکوں پر درس گاہیں لگا کر ملک کا نظام جام کر دیں گے، دینی مدارس کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بین الاقوامی ایجنڈے اور اسلام دشمنوں کی ایما پر علما و طلبا کو شہید کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، پارلیمنٹ کی غیر اسلامی قانون سازی کو سروں پر کفن باندھ کر روکیں گے۔ پاکستان اس وقت نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور سنگین مسائل کے شکار ملک کے مسائل کا سب سے بڑا سبب اللہ سے بغاوت ہے۔ ہم ڈی چوک میں قرآن وحدیث کی درس گاہیں قائم کرکے حکمرانوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ حکمران خدا سے بغاوت نہ کریں اور بے حیائی و فحاشی وعریانی کو فروغ نہ دیں۔ اس مظاہرے کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ پارلیمنٹ سیکولر ملک کی نہیں اس میں آئین کے مطابق کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا اگر ملک کو سیکولر بنانے اور غیر اسلامی قانون بنانے کی سازش کی گئی تو ہم سروں پر کفن باندھ کر اس کی مخالفت کریں گے اور ایسے اقدام کو مسترد کریں گے۔