جناح ہسپتال ڈاکٹر بیڈز کی عدم فراہمی کا بہانہ بنا کر مریضوں کو واپس بھیجنے لگے

12 مارچ 2013

لاہور (نیوز رپورٹر) جناح ہسپتال پروفیسرز اور نوجوان ڈاکٹرز کی ملی بھگت سے مریض ذلیل و خوار ہونے لگے ۔ جس پر مریضوں نے شدید احتجاج کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب‘ سیکرٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا نوٹس لیں۔ تفصیلات کے مطابق جناح ہسپتال کی ایمرجنسی سمیت آ¶ٹ ڈور میں دور دراز سے مریض علاج کیلئے آتے ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹرز جس میں پروفیسرز‘ ینگ ڈاکٹرز‘ اے ایم ایس‘ ڈی ایم ایس سمیت دیگر انتظامی ڈاکٹرز بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ ہسپتال میں بیڈز نہیں ہیں۔ وہ اپنا علاج کہیں اور کروائیں۔ جس پر مریض اور ان کے لواحقین بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز اور پروفیسرز کے رویے انتہائی ناروا ہیں۔ وہ مریضوں کا علاج کرنے کی بجائے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ادا کئے ٹیکسوں سے ان کی تنخواہیں نکلتی ہیں۔ وہ مریضوں کے علاج کرنے پر پابند ہیں اس بات کا حلف بھی انہوں نے دیا ہے وہ کیسے اس رویے کا مرتکب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال پر ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹرز اس بات کے پابند ہیں کہ وہ مریضوں کا علاج کریں۔ ان کی پہلی ترجیح علاج ہی ہونی چاہئے۔ جو ڈاکٹرز مریضوں کے علاج معالجے میں تاخیری حربے پیدا کریں‘ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اس کا جلد تدارک کیا جائے گا جو ڈاکٹرز اس کام میں ملوث پائے گئے‘ ان کے بارے میں محکمہ صحت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔