بھارت میں چلتی گاڑی میں ایک اور لڑکی سے زیادتی کا واقعہ

12 مارچ 2013

نئی دہلی (اے پی اے )بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میںنامعلوم افراد نے 3بہنوں سمیت ایک ہی خاندان کی چار لڑکیوں پر تیزاب پھینک دیا جن کو مقامی میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ،جہاں تین بہنوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے جبکہ ایک لڑکی حالت تشویش ناک ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ رائے گڑھ ضلع کے پوسور علاقے میں پیش آیا جہاںیہ لڑکیاںہندو مذہب کی مقدس کتاب رامائن کا پاٹھ یعنی کہانی سننے کے بعدگھر واپس لوٹ رہی تھیں کہ اندھیرے میں نامعلوم افراد نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔جھلسنے والی تمام لڑکیوں کی عمریں10 سے 16 سال تک بتائی جاتی ہیں۔رائے گڑھ کے پولیس سپرینٹنڈنٹ راہل بھگت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے اس بابت پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جلد ہی تمام ملزمان کوگرفتار کر لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ وا ضع نہیںہو سکاکہ حملہ آور کون ہیں کیونکہ لڑکیوں نے ابھی تک اپنا بیان ریکارڈ نہیں نہیں کرایا ۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ واقع آپس کی رنجش کی وجہ سے ہوا، مگر ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔دوسری جانب بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی کے ایک اور واقعے کا انکشاف ہوا ہے۔ زیادتی کا شکار 34 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اسے صبح نو بجے اکشر دھام کے علاقے سے کار میں سوار چار افراد جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں نے اغوا کیا،اور اسے چلتی کار کے اندر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد پھینک کر فرار ہو گئے ۔خاتون نے بتایا کہ اغوا کاروں نے اس کے دو موبائل فون اور کچھ جیولری بھی چھین لی ۔پولیس نے متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کرانے کے بعد مقدمہ درج کرلیا ہے