قادیانیوں کی الگ ووٹر فہرست، سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن سے جواب مانگ لیا

12 مارچ 2013

 اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے قادیانیوں کی الگ ووٹر فہرست بنانے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گذار اور الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر معاملے سے متعلق آئین ، قوانین اور اس حوالے سے عدالتی فیصلوں کا مطالعہ کر کے آئیں، عدالت اس کیس کو الیکشن سے پہلے حتمی طور پر نمٹانا چاہتی ہے جبکہ معاونت کے لیئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کےا گےا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ فیصلہ کرنے سے قبل قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے متعلق آئینی شقوں کا بھی مطالعہ کرنا ہو گا کیونکہ اس میں آپ کو کہا گیا تھا کہ آپ کوئی شعار اسلام اختیار نہیں کریں گے ہو سکتا ہے اس ووٹر فہرست مرتب کرنے کا تعلق اس آئینی ترمیم سے ہو۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے منیر پراچہ اور درخواست گذار کنور ادریس خود پیش ہوئے۔ منیر پراچہ نے بتایا کہ قادیانیوں کیلئے الگ ووٹر فہرست بنائی جاتی ہے جو قانونی ضرورت ہے۔ تاہم صدارتی آرڈر 2002کی شق 7Cکے تحت یہ اسی وقت بنتی ہے جب جنرل سیٹ میں درج کسی قادیانی کے نام پر اعتراض کیا جائے۔ یہ ایک آئینی تقاضا ہے جسے تبدیل کرنے کیلئے ترمیم کرنا پڑے گی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گذار کا موقف ہے کہ یہ شق امتیازی ہے اس لئے خلاف آئین ہے باقی اقلیتوں کیلئے تو ایسا نہیں کیا جاتا۔