”طالبان سے مذاکرات“ حکمران مثبت پیش قدمی نہیں کر رہے: فضل الرحمن

12 مارچ 2013

ڈی آئی خان + لاہور (آئی این پی + خصوصی نامہ نگار) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قیام امن خطے کے ہر باسی کی خواہش ہے، طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد قبائلی جرگہ پر پاکستان کی قومی قیادت نے اعتماد کا اظہار کیا، حکمران اس اہم مسئلہ کی جانب کسی قسم کی مثبت پیش قدمی نہیں کر رہے۔ وہ پیر کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر کارکنوں کے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ملکی سلامتی کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حکمران طبقہ امریکہ کی خوشنودی کے حصول میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت ہمارے ساتھیوں کی نیک نیتی اور کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ قبل ازیں یہاں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا دہشت گردی کی جنگ امریکہ کی شروع کردہ ہے آئے روز ڈرون حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے مگر دس سالوں میں دہشت گردی کی جنگ میں کمی نہیں آ سکی۔ امریکہ نے افغانستان میں آ کر دہشت گردی کی جنگ شروع کی اب امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے مگر نہیں نکل سکتا۔ دریں اثناءمولانا فضل الرحمن نے لاہور کے علاقے بادامی باغ میں ہونے والے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور پارٹی رہنماﺅں مولانا محمد امجد خان، مولانا رشید احمد لدھیانوی، قاری ثناءاللہ، قاری امجد سعید سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ بادامی باغ میں ہونے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرد کی سزا پوری بستی کو بھی دینا جرم ہے، اسلام اس طرح کے منفی عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ شان رسالت میں گستاخی کا ارتکاب کر نے والے کے لئے ایک قانون ملک میں موجود ہے تو ہمیں قانونی راستہ ہی اختیار کرنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس واقعہ کی فوری تحقیقات کروائے اور حقیقی ملزموں کو کیفرے کردار تک پہنچائے۔