کالا باغ ڈیم سمیت آبی ذخائر بنانے تک تجارتی خسارہ بڑھتا رہیگا: اقتصادی ماہرین

12 مارچ 2013

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان کو گذشتہ 5سال کے دوران پہنچے والے 90ارب 35کروڑ ڈالر کے تجارتی خسارے پر پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ اسکی وجہ تیل کی درآمد ہے جس کی قیمتوں میں انتہائی اضافہ ہو چکا ہے۔ موجودہ حکومت نے کالا باغ ڈیم نہیں بنایا اور مہنگا تیل درآمد کرتے رہے جس کے باعث اتنا بڑا تجارتی خسارہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کالا باغ فراہم سمیت دیگر ڈیم نہیں بنیں گے تب تک تجارتی خسارے میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 90ارب 35کروڑ ڈالر اتنی رقم ہے کہ ملک میں اس سے 9بڑے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات بڑھ نہیں رہی ہیں۔ جبکہ درآمدات کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں تیل اور کوئلے بجلی بنتی رہے گی اور ڈیم بنا کر سستی بجلی حاصل نہیں کی جائے گی تب تک پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہا کہ ملک میں صنعتی شعبے کو گیس اور بجلی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے جس کے باعث ہماری انڈسٹری پوری استعداد پر نہیں چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو برآمدات بڑھانے کے لئے 2کام کرنے چاہئیں۔ برآمدات بڑھانے کے لئے صنعتوں کو درپیش تمام رکاوٹیں دور کی جائیں ملک کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ایکسپورٹ پراسسنگ زونز بنائے جائیں۔