نوائے وقت ایک مِشن اور اب قومی اثاثہ

12 مارچ 2013

23 مارچ 1940ءکو نوائے وقت نے اپنی اشاعت کا آغاز 15 روزہ مجلے کی صورت میں کیا جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کا تعاون بھی شامل تھا پھر 15 دسمبر 1942ءکو نوائے وقت ہفت روزہ بن کر ابھرا اور اس کے بعد 19 جولائی 1944ءکو باقاعدہ طور پر نوائے وقت نے روزنامے کی شکل اختیار کی۔ نوائے وقت کا یہ سفر محترم حمید نظامی (مرحوم) کی ادارت میں جاری رہا دراصل نوائے وقت کا یہ پودا نظامی خاندان نے لگایا اور اس کی آبیاری کی یہ پودا اب گھنا سایہ دار پیڑ بن کر صحافت کے میدان میں عوامی صحافت کا اصل نمونہ بن کر حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ اس کے سائے تلے صحافت کے بے شمار سپوتوں نے جنم لیا۔ جن کی تربیت محترم حمید نظامی (مرحوم) اور محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے کی۔ نوائے وقت پاکستان کی آن اور شان کی علامت بن کر صحافت کے میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا ہے اس ادارے کی خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کیلئے یہ ڈھال کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ پاکستان کا مضبوط قلعہ اور دفاعی مورچہ بھی ہے۔ اس مضبوط قلعے اور مورچے نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع کیلئے اپنا عملی کردار اپنے قلم کے زور پر ادا کیا ہے۔ اب اس ادارے کا کردار کھلی کتاب کی مانند ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک نوائے وقت کا ادارہ اپنے اندر ایک مکمل دفتر خارجہ کی طرز کا آزاد اور خودمختار ڈیسک بھی قائم کئے ہوئے ہے یعنی ہمہ وقت آزادی¿ کشمیر کیلئے اور بھارت جو کہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس کے سامنے ڈھال بن کر اپنی آزاد پالیسیوں کو مرتب کرتا ہوا چلا آ رہا ہے۔ بھارتی ثقافتی کلچر کی یلغار کا بھرپور انداز میں مقابلہ صرف اور صرف نوائے وقت ہی کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف پرنٹ میڈیا کے اداروں میں سینئر صحافیوں کی کھیپ موجود ہے جو کہ حقیقت میں نوائے وقت ہی کے پلیٹ فارم سے صحافت کے میدان میں کامیاب ہو کر اپنا نام پیدا کر چکی ہے۔ یہ اسی ادارے ہی کا طرہ¿ امتیاز ہے کہ یہ کسی ڈکٹیٹر کے آگے نہ کبھی جھکا نہ کبھی امریکی پالیسیوں کا آلہ¿ کار بنا۔ اس ادارے کو ہر دور میں خریدنے اور نوازنے کی بھرپور کوشش ہوتی رہی ہے جو کہ ہمیشہ ہی سے ناکام رہی ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات اور ملک کی ہر لمحہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال یہ تقاضا کر رہی ہے کہ نوائے وقت کے قارئین اس ادارے کی پالیسیوں کی نہ صرف حمایت کریں بلکہ اس ادارے‘ جو اب قومی اثاثے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کریں اور ڈاکٹر مجید نظامی اور ان کی ٹیلنٹڈ صاحبزادی محترمہ رمیزہ نظامی جن مشکل اور کٹھن حالات میں عوام کے حقیقی صحافتی ادارے کو لے کر چل رہے ہیں ان کیلئے دعاگو رہیں۔ نوائے وقت کے تمام شعبے ڈیلی ”نیشن“ ”فیملی میگزین“ ”ندائے ملت“ اور ”وقت نیوز“ ٹی وی جس کامیابی اور مہارت کے ساتھ اپنی کارکردگی دکھا رہے ہیں اس ادارے کا تمام سٹاف مبارکباد کا مستحق ہے۔ آج کے جدید دور میں آئی ٹی کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی نے صحافت کے میدان میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ جس کا بھرپور فائدہ نوائے وقت نے بھی اٹھایا ہے۔ ادارے سے وابستہ صحافی جن میں کالم نگار‘ رپورٹرز اور ملک کے دیگر شہروں میں کام کرنے والے مقامی صحافیوں‘ ایڈیٹر صاحبان اور بیرون ملک اس ادارے سے وابستگی رکھنے والے صحافی اس شعبے کی جدید مہارت سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تبصرے‘ تجزیے اور خبریں بروقت نوائے وقت آفس کو موصول ہو جاتی ہیں۔ جس کی ایک ایک سطر محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی نظر سے گزر کر اشاعت پذیر ہوتی ہے۔ جوان اور تازہ خون اس ادارے کے کاروان صحافت میں نمایاں کارکردگی کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی ٹیلنٹڈ صاحبزادی محترمہ رمیزہ نظامی اپنے خاندانی مشن کو جس طرح کامیابی کے ساتھ لے کر چل رہی ہیں یہ ان کیلئے چیلنج بھی ہے۔ دعا ہے خدا ان کو اس سفر میں ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے (آمین) ”وقت نیوز ٹی وی“ یا ”ڈیلی نیشن“ اور یا پھر ” نوائے وقت“ یہ سب عوام کے ترجمان اور پاکستان کی پہچان بن چکے ہیں۔ عوام میں ان کو منفرد مقام حاصل ہو چکا ہے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی پاکستانی صحافت کے سپہ سالار اور آزادی¿ کشمیر کے علمبردار ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد صحافت کے جگمگاتے ستارے ہیں خداوند قدوس ان کی عمر دراز کرے (آمین) ان کی رہنمائی صحافت کے شعبے کو ہمیشہ میسر رہے ان کا شفیق سایہ صحافت کے نوجوانوں پر سدا قائم رہے۔ کشمیر کی آزادی کا سورج ان کی زندگی ہی میں طلوع ہو اور پاکستان فلاحی مملکت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ پاکستان کے ہر گھر میں تعلیم کی روشنی عام ہو ہر گھرانہ خوشحال ہو کرپشن کا سیلاب اپنی موت آپ مر جائے اور پاکستان میں ناانصافی اور مایوسی کا دور ختم ہو یہ ہی اس ادارے کے اصل مقاصد بھی ہیں۔ بھارت سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوں لیکن یاد رہے کہ ہندو کبھی بھی مسلم دشمنی ترک نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ کبھی پاکستان کا دوست ہو سکتا ہے۔ یہ ہی کہنا ہے محترم ڈاکٹر مجید نظامی کا جو کہ سو فیصد درست ہے وقت نے ثابت بھی کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنا وار ہمیشہ ہی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ کبھی پوشیدہ اور کبھی سامنے آ کر نوائے وقت اس وار کی نشاندہی کرتا چلا آ رہا ہے۔ انشاءاللہ وہ وقت قریب ہے کہ جب نوائے وقت اپنے مشن میں کامیاب ہو کر پاکستان کو مضبوط و مستحکم اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے میں کامیابی حاصل کر لے گا۔ مختصر یہ کہ آج کا نوائے وقت عوامی صحافت کی اوپن یونیورسٹی بن کر قومی اثاثے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔