گھریلو ڈرائیور نے معید پیرزادہ کی والدہ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا

12 مارچ 2013

میرپور (ظہیر اعظم جرال / نمائندہ خصوصی) ریاست جموں و کشمیر کے ممتاز معالج ڈاکٹر غلام محی الدین پیرزادہ کی اہلیہ اور معروف صحافی اور وقت نیوز کے پروگرام ”ٹو نائٹ ود معید پیرزادہ“ کے میزبان ڈاکٹر معید پیرزادہ کی والدہ ماجدہ کو گھریلو ڈرائیور نے قتل کرنے کا اعترف کر لیا۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس نے ملزم سے چوری شدہ طلائی زیورات، پانچ لاکھ روپے اور موبائل فون برآمد کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ڈاکٹر معید پیرزادہ کے والد ڈاکٹر غلام محی الدین پیرزادہ جو کچھ عرصہ سے فالج کے مرض میں مبتلا ہو کر صاحب فراش ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والی ان کی اہلیہ 2 مارچ کی سہ پہر کو اچانک وفات پا گئیں تھیں۔ ”نوائے وقت“ کو ذمہ دار پولیس ذرائع نے بتایا کہ مرحومہ کی تدفین کے بعد جب ان کے زیر استعمال طلائی زیورات گھر سے غائب پائے گئے تو ان کے بیٹوں کو شک گزرا تو ڈاکٹر معید پیرزادہ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس میرپور کو صورتحال سے آگاہ کیا جس پر پولیس نے تحقیقات کے دوران مرحومہ کے 35 سالہ گھریلو ملازم تنویر بھٹی کو بھی شامل تفتیش کیا۔ دوران تفتیش ملزم تنویر بھٹی نے مرحومہ کے طلائی زیورات، چیک اور موبائل فون چوری کرنے کے علاوہ مرحومہ کو ادویات کی زائد مقدار دیکر اور سانس بند کر کے قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا۔ میرپور شہر میں سوگ کا سماں رہا۔ پولیس تھانہ میرپور نے ڈاکٹر معید پیرزادہ کی درخواست پر زیر دفعہ 302 مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ڈاکٹر معید پیرزادہ نے کہا کہ آٹھ دن کے بعد دوبارہ اپنی والدہ ماجدہ کا منہ دیکھنے کے علاوہ اس دوران جس کرب و اذیت سے میں اور میری تمام فیملی دوچار ہے اس کا لفظوں میں اظہار ممکن نہیں ہے جبکہ جب تک ہماری والدہ کا قاتل اپنے کئے کی سزا نہیں پاتا اس وقت تک ہم اسی دکھ اور تکلیف میں مبتلا رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس اذیت کا ہمیں سامنا ہوا ہے اس کا سامنا ملزم تنویر بھٹی کو بھی کرنا پڑے گا اور اس کیلئے ہمیں کتنے برس تک انتظار کرنا پڑے گا یہ ہمارے عدالتی نظام کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ ڈاکٹر معید پیرزادہ کی والدہ ماجدہ کے پوسٹ مارٹم کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی ہدایت پر تشکیل پانے والے میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کرواتے ہوئے نعش کو باہر نکال کر پوسٹ مارٹم کے لئے نمونے حاصل کئے جو لاہور بھجوائے جائیں گے۔