کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر‘ ذمہ دار وفاقی‘ صوبائی حکومتیں ہیں: طاس واٹر کونسل

12 مارچ 2013

لاہور (نیوز رپورٹر) ملکی معیشت کیلئے کالاباغ ڈیم انتہائی ضروری ہے، بجلی کے شدید بحران کے باوجود کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے پہلو تہی برتی جا رہی ہے۔ اس کے ذمہ دار وزیراعظم اور تمام صوبائی حکومتیں ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل محمد سلیمان خان نے نوائے وقت کے دفتر میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم جو 36سو میگاواٹ کا منصوبہ ہے اس سے بجلی ایک روپے دو پیسے فی یونٹ حاصل ہو گی۔ چاروں صوبوں کی کئی ملین بنجر اراضی سیراب ہو گی، معیشت کا پہیہ چلے گا، بنجر زمین آباد ہونے سے غذائی قلت کا خاتمہ ہو گا، فاضل اجناس کی برآمد سے معیشت مضبوط ہو گی، آئی ایم ایف اور غیروں کے معاشی تسلط سے نجات ملے گی۔ کونسل آف کامن انٹرسٹ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا واضح حکم دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں ہم نے چند ماہ قبل مجبوراً عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، فاضل عدالت نے تمام فریقین کو سنا اور اس کے بعد کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ دیا مگر وفاقی ، صوبائی حکومتیں اور متعلقہ محکمے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے مسلسل پہلو تہی برت رہے ہیں جو عدالتی فیصلے کے مذاق کے مترادف ہے۔ اس صورت حال کے بعد اب دوبارہ 11فروری 2013ءکو لاہور ہائیکورٹ میں سینئر وکیل اے کے ڈوگر کی وساطت سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کیس دائر کر دیا گیا ہے۔ جس میں راجہ پرویز اشرف سمیت تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی رائے سکندر اور چیئرمین واپڈا سید راغب عباس شاہ کو پارٹی بنایا گیا ہے۔