ذرا اِدھر بھی توجہ فرمائیں

12 مارچ 2013

آج کالم لکھنے کیلئے قلم زور نہیں کررہا تھا۔ قلم کی توقیر بڑھانے کیلئے لکھے گئے کالم کو ”قالم“ کہنا چاہئے۔ آج تین چار باتیں ایسی ہوئیں کہ میں فوری طور پر کالم لکھنے لگا۔ ایوان پاکستان پہنچا تو شاہد رشید اور رفاقت کہیں جانے کیلئے نکل رہے تھے۔ ڈاکٹر رفیق احمد، نعیم چٹھہ، سیف چودھری، کالم نگار نعیم صاحب کے علاوہ بھی دوست انکے ساتھ تھے۔ وہ سب شہید محمد مالک کی قبر پر حاضری کیلئے جا رہے تھے۔ نوائے وقت کے دفتر کے باہر مجید نظامی بھی اس قافلے کی قیادت کیلئے شامل ہوگئے۔ محمد مالک 10 مارچ 1946ءکو ایم اے او کالج کے سامنے شدید زخمی ہوئے۔ نوجوان خضر حیات ٹوانہ کیخلاف جلوس لے کے جا رہے تھے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ ٹوانہ انگریز کی ٹوڈی جماعت میں تھے۔ ان کیخلاف تحریک اصل میں تحریک پاکستان کا حصہ تھی۔ ایم اے او کالج کے سامنے ایک ہزار ہندو اور سکھ طلبہ اینٹیں لے کے جلوس کے راستے میں آگئے۔ ایک اینٹ محمد مالک کے سر میں لگی، مجید نظامی اسکے بالکل ساتھ تھے۔ انہوں نے اسے سنبھالا مگر وہ بیہوش ہوگیا اور ہسپتال میں جاکے فوت ہوگیا۔ جوشیلے طالب علموں نے حکومت کی یہ سازش ناکام بنا دی کہ شہید کو چوری چھپے دفن کردیا جائے مگر یونیورسٹی گراﺅنڈ میں نماز جنازہ ہوئی۔ تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ غازی علم دین شہید کے مزار کے پاس شہید کو دفنایا گیا۔ مجید نظامی اپنے ساتھی کیلئے ہر سال برسی پر فاتحہ خوانی کیلئے میانی صاحب قبرستان تشریف لے جاتے ہیں۔ آج بھی انہوں نے قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ چٹھہ صاحب نے غازی علم دین شہید کیلئے بھی فاتحہ خوانی دوستوں کے ساتھ ملکر کی۔کالموں کیلئے مجھے دوست یار فون کرتے رہتے ہیں۔ آج لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس سید زاہد حسین کا فون آیا۔ میری بے قراری کو سرشاری مل گئی۔ انہیں میرے کالم میں یہ بات پسند آئی کہ کچھ سیاستدانوں کی طرف سے نیا پاکستان بناے کا اعلان پسندیدہ نہیں ہے۔ جسٹس زاہد کو کالم کا عنوان بھی اچھا لگا۔ نیا پاکستان نہیں نیا زمانہ نئے صبح و شام۔ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ نیا نظام لانا چاہئے۔ ہمارا زمانہ نئے صبح و شام میں چھپا ہوا ہے۔ جسٹس زاہد حسین نے لاہور ہائیکورٹ کیلئے یادگار کام کئے، وکلاءانہیں یاد کرتے ہیں۔ میں نے تو لکھا تھا کہ ہمارا پورا پاکستان ہمیں واپس کرو، پاکستان نیا یا قدیم نہیں۔ پاکستان قائداعظمؒ کی امنگوں کا ترجمان ہے مگر اس پر قائداعظمؒ کے نام لیواﺅں کو طعنے دینے والوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ میرے خیال میں یہ قریہ¿ عشقِ محمد ہے۔ یہی عالم اسلام کا لیڈر ملک ہے، عالمِ انسانیت بھی اپنے دکھوں کا علاج یہاں سے پائیگی۔ہماری ساتھی کالم نگار مسرت قیوم نے ”وزیراعلیٰ شہبازشریف کے وعدے؟“ کے نام سے کالم لکھا ہے جس میں خادم اعلیٰ کو اپنا یہ وعدہ یاد دلایا ہے کہ انہوں نے مکمل فلاحی ہسپتال حجاز ہسپتال کیلئے ایک کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی تھی۔ یہ انکی مہربانی ہے، وہ حجاز ہسپتال تشریف لائے تھے۔ اس بات کو پانچ چھ مہینے ہونے کو ہیں۔ شہبازشریف نے ایک بہت اچھے ہسپتال کیلئے نیکی کردی ہے۔ انہیں شاید پتہ ہی نہ ہو کہ ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ یہ واقعی ایک غریب پرور اور مکمل فلاحی ہسپتال ہے۔ حاجی انعام الٰہی نے اس ہسپتال کیلئے اپنی زندگی وقف کررکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شہبازشریف میرا منہ بولا بیٹا ہے۔ حجاز ہسپتال کیلئے مسرت قیوم کی بے قراریاں بھی قابل ذکر ہیں۔ کئی دنوں سے وہ اس راستے پر بھٹک رہی ہیں۔ انکے آج کے کالم کیلئے تخلیقی خوشبو سے بھرے ہوئے دوست شعیب بن عزیز نے انہیں بتایا کہ یہ کالم شہبازشریف نے پڑھ لیا ہے۔ میں نے برادم سلمان رفیق سے بھی اس حوالے سے فون پر بات کی ہے۔ وہ دردمند آدمی ہے، انکی وجہ سے ڈاکٹروں کا مسئلہ بھی حل ہوا ہے اور ہسپتالوں میں بہتری آئی ہے۔ سلمان رفیق کے آنے کے بعد ایک بہتر زمانہ آیا ہے۔ پہلے سے بہت بہر صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ وہ حجاز ہسپتال کیلئے بھرپور کوشش کریں کہ منظور شدہ یہ گرانٹ فوری طور پر فراہم کی جائے۔ اس فلاحی کام کیلئے کوئی پابندی آڑے نہیں آتی۔نوائے وقت ہی میں کالم نگار اور ادیبہ فہمیدہ کوثر نے گیس کے بلوں میں ظالمانہ بے قاعدگیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ دفتری نظام میں ابتری نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ تین بچوں والے گھر میں گیس کا بل 70 ہزار تک آتا ہے۔ یہ اس محکمے کیلئے شرم کا مقام ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ بھی ہے، اب عدالتیں اس حوالے سے سخت نوٹس لے رہی ہیں۔ کئی لوگ ذاتی انتقامی کارروائی کیلئے بھی جان بوجھ کر اس طرح کی حرکات کرتے ہیں۔ یہ تو ایک مجرمانہ اقدام ہے، آئندہ اس بات کا نوٹس بھی لیا جائیگا۔برادرم اعجاز کنور راجہ کیلئے میں فیصلہ نہیں کرپایا کہ وہ اپنی شخصیت میں انوکھا ہے یا اپنی شاعری میں اچھوتا ہے۔ مہذب، معتبر اور معزز، اسکی شخصیت اور شاعری میں ایک سانجھ موجود ہے۔ شائستگی اور شگفتگی کے امتزاج کی معراج اعجاز کنور راجہ کے وجود میں وجد کرتی ہے۔اسکے شعری مجموعہ ”دمِ آب“ سے ایک شعرشورِ شام تنہائی سامنے سے دستک دےمیرے گھر کے دروازے پُشت پر نہیں کھلتے