FORBES نے الولید بن طلال کو امیروں کی لسٹ میں نیچے کیوں رکھا

12 مارچ 2013

 امریکی میگزین فوریز ہر سال اپنے حساب کتاب سے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست شائع کرتا ہے جو ہر بار کسی نہ کسی کی وجہ سے شہرت ضرور حاصل کرتی ہے۔ اس مرتبہ شہرت دینے میں سعودی عرب کے فرمانروا کے بھتیجے الولید بن طلال کا بہت ہاتھ ہے جس نے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں جب اپنا نام دیکھا تو غصے میں آجانا قدرتی بات تھی کیونکہ اس کی دولت فوریز کے اعداد وشمار کے مطابق بیس ارب ڈالر ہے جبکہ پرنس الولید بن طلال کا دعویٰ ہے کہ اس کی موجودہ دولت کسی مبالعہ آرائی کے بغیر 29.6 ارب ڈالر ہے۔ اب اگر فوریز میگزین اس دعویٰ کو تسلیم کرتا ہے تو پھر پرنس الولید کا شمار دنیا کے دس امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سال میکسیکو کے ٹیلی کیمونیکیشن کے ٹائیکون کارلوس سلم کو 73 ارب ڈالر کی دولت کی وجہ سے امیروں کی فہرست میں نمبر ایک اور امریکی کمپنی مائیکرو سوفٹ کے بل گیٹس کو 67 ارب ڈالر کا مالک ہونے کی وجہ سے دوسرا درجہ دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان یا انڈیا کی کوئی شخصیت شامل نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ دنیا میں امیر پاکستانیوں کی کمی ہے۔ برطانیہ میں جب بھی امیر ترین افراد کی فہرست شائع ہوتی ہے تو اس میں بیسٹ وے سیمنٹ کے مالک سرانور کا نام ضرورت شامل ہوتا ہے۔الولید بن طلال کے حالات زندگی بہت دلچسپ ہیں اور اس کی دولت کا ایک بڑا حصہ اگرچہ مشرق وسطیٰ کی اہم ترین شیئرز کی کمپنی کنگڈم ہولڈنگز میں ہے لیکن اس نے دنیا بھر میں میڈیا کی دنیا میں بھی بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔فیس بک، ایپل، ٹویٹر، پٹرولا، فوکس لیوز، بلومبرگ اور امیر ترین ٹی ڈبلیو اے ان میں سے چند ہیں۔ دنیا کی بہترین لگژری فیتی شپ نبیلہ کو مزید خوبصورت بنا کر ذاتی استعمال میں رکھا ہوا ہے۔ اس کے والد پرنس طلال 1960ءمیں سعودی عرب کے فنانس منسٹر تھے اور آئینی اصلاحات کے حامی ہونے کی وجہ سے تھوڑا سا تنقید کا نشانہ بنتے تھے، ان کی شادی لبنان کے پہلے وزیراعظم ریاض السعود کی بیٹی مونا السعود سے ہوئی جس کے بطن سے 7 مارچ 1955ءکو ولید پیدا ہوا۔ سات سال کی عمر میں والدین کی آپس میں لڑائی ہو گئی جس کی وجہ سے والدہ کے ساتھ سعودی عرب آ گئے اور یہاں ملٹری سکول میں داخلہ لے لیا۔ 1979ءمیں کیلیفورنیا کے کالج سے گریجوایشن بزنس ایئرمنسٹریشن میں حاصل کی اور 1985ءمیں سراکس یونیورسٹی سے سوشل سائنس میں ماسٹر کیا اور پھربزنس کی ایمپائر کڑی کرنی شروع کر دی۔ اس وقت دنیا بھر کے امیر ترین لوگوں میں پرنس الولید بن طلال کا اپنا مقام ہے لیکن اسے حیرت ہے کہ مغرب والے جب میرٹ پر لسٹ نہیں بنا سکتے تو پھر بناتے کیوں ہیں۔ ویسے فوریز کے ایڈیٹر نے جواب میں کہا ہے کہ ہمارا تخمینہ بیس ارب ڈالر کا ہے۔ اب اگر پرنس ولید اپنے شیئرز کی مارکیٹ قیمت جمع کر کے اپنی دولت میں اضافہ کر لے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارا اپنا طریقہ کار ہے۔